ہشام بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

ہشام بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق قریش کے بنو سہم قبیلے سے تھا، جو مکہ کے معزز قبائل میں سے ایک تھا۔ آپ کا پورا نام ہشام بن عاص بن وائل السہمی القرشی تھا۔ آپ کے والد عاص بن وائل، قریش کے سرکردہ سرداروں میں سے تھے اور اسلام کی شدید مخالفت اور رسول اللہ ﷺ کی اہانت کے حوالے سے مشہور تھے۔ یہ ایک حیرت انگیز بات ہے کہ ہشام رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے والد کے نظریات کے برعکس، ابتدائی ایام ہی میں اسلام قبول فرمایا۔ آپ مشہور صحابی حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ کے بھائی تھے، جو بعد میں فتح مصر اور شام کے عظیم سپہ سالار بنے۔ ہشام رضی اللہ تعالی عنہ کو ان کی دینداری، بہادری اور استقامت کی وجہ سے جانا جاتا تھا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت ہشام بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام کے ابتدائی دور میں، جب دعوتِ حق کا آغاز ہوا ہی تھا، اسلام قبول کر لیا تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب مسلمان انتہائی اقلیت میں تھے اور قریش کی جانب سے شدید مظالم کا نشانہ بن رہے تھے۔ حضرت ہشام رضی اللہ تعالی عنہ کا اسلام لانا ان کی حق پرستی اور جرأت کی دلیل تھا، خاص کر جب ان کے اپنے والد عاص بن وائل اس کے سخت مخالف تھے۔
اسلام قبول کرنے کے بعد، آپ بھی مکہ کے دیگر مسلمانوں کی طرح قریش کے ظلم و ستم کا شکار ہوئے۔ ان مظالم سے بچنے اور دین کی خاطر، آپ نے حبشہ (ایتھوپیا) کی طرف ہجرت کی، جو کہ پہلی ہجرتِ حبشہ کا حصہ تھی۔ بعد ازاں آپ حبشہ سے واپس لوٹ آئے اور دوبارہ مکہ میں قیام پزیر ہوئے۔
مدینہ کی ہجرت کے موقع پر، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ آپ نے بھی مدینہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا۔ یہ تینوں حضرات اس بات پر متفق ہوئے کہ وہ فلاں مقام پر صبح کے وقت جمع ہوں گے اور وہاں سے مدینہ کی جانب روانہ ہوں گے۔ لیکن حضرت ہشام رضی اللہ تعالی عنہ کو ان کے والد اور چچا نے روک لیا اور بڑی مشکل سے انہیں مکہ میں ہی قید کر لیا۔ وہ انہیں لے کر اپنے گھر گئے اور زنجیروں میں جکڑ دیا۔ یہ حضرت ہشام رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے ایک بڑا امتحان تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بعد میں ان کے بارے میں پریشان رہے اور جب مدینہ پہنچ گئے تو ایک دن انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے دعا کی کہ اللہ تعالی ہشام اور عیاش کو رہائی دلائے۔ بعد میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ہشام رضی اللہ تعالی عنہ کو آزاد کرانے کے لیے ایک تدبیر کی اور کامیاب ہوئے، یوں وہ بھی مدینہ ہجرت کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت ہشام بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ ہجرت کے بعد اسلامی معاشرے کا ایک فعال حصہ بن گئے۔ آپ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزواتِ بدر، احد، خندق اور دیگر تمام اہم معرکوں میں شرکت فرمائی اور اپنی شجاعت و بہادری کے جوہر دکھائے۔ آپ نے اسلام کے دفاع اور اس کی سربلندی کے لیے اپنی جان و مال سے جہاد کیا۔
رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد، آپ نے خلفائے راشدین کے دور میں بھی اسلامی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا۔ خصوصاً حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے ادوارِ خلافت میں ہونے والی شام کی فتوحات میں آپ نمایاں مجاہدین میں سے تھے۔ آپ شام کی مہمات میں ایک بہادر اور قابلِ اعتماد کمانڈر کے طور پر جانے جاتے تھے اور کئی محاذوں پر مسلمانوں کی قیادت کی۔
آپ نے یرموک کی عظیم الشان جنگ میں بھی حصہ لیا، جہاں مسلمانوں نے رومیوں کی ایک بہت بڑی فوج کو شکست فاش دی۔ آپ کی خدمات اور قربانیاں اسلام کی تاریخ کا ایک روشن باب ہیں۔

میراث اور وصال

حضرت ہشام بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی جہاد اور اللہ کی راہ میں قربانی سے عبارت تھی۔ آپ کو اللہ کی راہ میں شہادت کا عظیم رتبہ نصیب ہوا۔ آپ کی شہادت رومیوں کے خلاف شام کی فتوحات کے دوران پیش آئی۔
تاریخی روایات کے مطابق، آپ کی شہادت 13 ہجری یا 15 ہجری میں شام کے محاذ پر ہوئی۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ یرموک کی جنگ کے بعد یا اس سے ملحقہ کسی معرکے میں شہید ہوئے، جبکہ کچھ روایات انہیں یرموک سے پہلے اجنادین کی جنگ میں شہید ہونے والوں میں شمار کرتی ہیں۔ جو بھی ہو، یہ بات مسلم ہے کہ آپ نے اسلامی لشکر کے ایک بہادر کمانڈر کے طور پر اپنی جان راہِ خدا میں پیش کر دی۔
آپ کی شہادت کے بعد، آپ کے بھائی حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کے بارے میں رنج کا اظہار کیا اور کہا کہ ہشام نے شہادت حاصل کر کے ہم سے سبقت لے لی۔ حضرت ہشام بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے پیچھے ایک ایسی وراثت چھوڑی جس میں ایمانی قوت، بہادری، صبر، اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے مکمل اطاعت شامل ہے۔ آپ ان عظیم صحابہ میں سے تھے جنہوں نے اسلام کی بنیادوں کو اپنے خون سے سینچا اور اس کے پھیلاؤ کے لیے ہر ممکن قربانی دی۔

مستند حوالہ جات

  • ابن سعد، محمد بن سعد بن منیع الزہری (م 230ھ)، الطبقات الکبریٰ۔
  • ابن عبدالبر، یوسف بن عبد اللہ بن محمد (م 463ھ)، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب۔
  • ابن اثیر، علی بن محمد الجزری (م 630ھ)، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ۔
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی (م 852ھ)، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ۔
  • الطبری، ابو جعفر محمد بن جریر (م 310ھ)، تاریخ الرسل والملوک۔
  • ابن کثیر، اسماعیل بن عمر الدمشقی (م 774ھ)، البدایۃ والنہایۃ۔
  • الذہبی، شمس الدین محمد بن احمد (م 748ھ)، سیر اعلام النبلاء۔