يزيد إبن سفيان رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
یزید بن ابی سفیان رضی اللہ تعالی عنہ ایک جلیل القدر صحابی، قریش کے بنو امیہ قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کا مکمل نام یزید بن ابی سفیان صخر بن حرب بن امیہ بن عبد شمس تھا۔ آپ کے والد مشہور صحابی اور مکہ کے سردار، ابو سفیان صخر بن حرب تھے اور والدہ کا نام صفیہ بنت ابی العاص تھا۔ آپ امیر المومنین معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے سوتیلے بھائی تھے۔ آپ کی کنیت ابو خالد تھی۔ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی اہم ذمہ داریوں پر فائز کیا اور آپ اسلامی فتوحات کے نمایاں سپہ سالاروں میں سے ایک تھے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
یزید بن ابی سفیان رضی اللہ تعالی عنہ مکہ مکرمہ میں بعثت سے قبل پیدا ہوئے۔ آپ نے فتح مکہ کے موقع پر یا اس سے کچھ عرصہ قبل اسلام قبول کیا اور اپنے اسلام میں سچے ثابت ہوئے۔ آپ کے اسلام لانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی قدر و منزلت فرمائی اور آپ کو صحابہ کرام کی صف میں شامل کیا۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین اور غزوہ تبوک میں شرکت فرمائی۔ بعض روایات کے مطابق، آپ ان خوش نصیب صحابہ میں سے بھی تھے جنہیں کتابتِ وحی کا شرف حاصل ہوا۔ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف قبائل کی زکوٰۃ جمع کرنے کا عامل بھی مقرر فرمایا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ تعالی عنہ کی سب سے بڑی خدمات شام کی فتوحات سے وابستہ ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں جب شام کی فتوحات کا آغاز ہوا تو آپ کو شام کی طرف بھیجے گئے چار سپہ سالاروں میں سے ایک مقرر کیا گیا۔ آپ کو لشکر کا ایک حصہ دے کر دمشق اور اس کے گرد و نواح کی طرف روانہ کیا گیا۔ آپ نے یرموک کی عظیم جنگ میں بھی حصہ لیا جو اسلامی تاریخ کی فیصلہ کن جنگوں میں سے ایک تھی۔ اس جنگ کے بعد آپ نے دمشق کو فتح کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
دمشق کی فتح کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کو دمشق کا گورنر مقرر فرمایا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں بھی آپ اس منصب پر فائز رہے اور آپ کی خدمات کو سراہتے ہوئے آپ کو شام کے مزید علاقوں کا والی بنا دیا گیا۔ آپ ایک بہترین منتظم اور عادل حکمران ثابت ہوئے، اور آپ نے شام میں اسلامی حکومت کی بنیادوں کو مستحکم کیا۔ آپ کی قیادت میں مسلمانوں نے کئی دیگر علاقوں کو بھی فتح کیا اور اسلامی سرحدوں کو وسعت دی۔
میراث اور وصال
حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زندگی اسلام کی خدمت اور فروغ میں گزاری۔ آپ ایک بہادر سپہ سالار، ایک عادل حکمران اور ایک متقی و پرہیزگار صحابی تھے۔ آپ نے 18 ہجری میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں شام میں طاعون عمواس کی وبا کے دوران وفات پائی۔ آپ کی وفات کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کے بھائی، حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو شام کا نیا والی مقرر کیا۔ آپ کی میراث اسلامی فتوحات میں آپ کے نمایاں کردار اور ایک کامیاب اور عادل منتظم کے طور پر آج بھی یاد کی جاتی ہے۔ آپ نے شام میں اسلامی حکومت کے لیے مضبوط انتظامی ڈھانچہ فراہم کیا۔
مستند حوالہ جات
- ابن کثیر، البدایۃ والنھایۃ، جلد 6، صفحہ 339-340۔ (دار ابن کثیر، بیروت)
- طبری، تاریخ الرسل والملوک، جلد 2، صفحہ 249، 500-501۔ (دار التراث، بیروت)
- ابن عبد البر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، جلد 4، صفحہ 1599-1600۔ (دار الجیل، بیروت)
- ابن الاثیر، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، جلد 5، صفحہ 429-430۔ (دار ابن حزم، بیروت)
- حافظ ذہبی، سیر اعلام النبلاء، جلد 2، صفحہ 369-371۔ (مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)
