ولید بن عقبہ رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
ولید بن عقبہ بن ابی معیط بن ابی عمرو بن امیہ بن عبد شمس کا تعلق قریش کے بنو امیہ قبیلے سے تھا، جو مکہ کے ایک بااثر اور کثیر تعداد والے خاندانوں میں سے تھا۔ وہ مشہور صحابی اور تیسرے خلیفہ راشد، حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ کے ماں شریک بھائی تھے، یعنی ان کی والدہ ایک ہی تھیں: اروٰی بنت کریز بن ربیعہ۔ اروٰی بنت کریز، ام حکیم بنت عبدالمطلب کی بیٹی تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں، اس لحاظ سے ولید بن عقبہ رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ داروں میں سے تھے۔ ان کے والد عقبہ بن ابی معیط تھے جو اسلام قبول کرنے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے دشمنوں میں سے تھے اور جنگ بدر کے قیدیوں میں شامل تھے جہاں انہیں قتل کیا گیا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
ولید بن عقبہ رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی مکہ میں گزری، جہاں ان کا خاندان اسلام کے سخت مخالفین میں سے تھا۔ ان کے والد، عقبہ بن ابی معیط، اسلام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف عداوت میں مشہور تھے۔ ان کی پرورش ایک ایسے ماحول میں ہوئی جہاں اسلام کو قبول نہیں کیا جاتا تھا، بلکہ اس کی مخالفت کی جاتی تھی۔ تاہم، فتح مکہ کے بعد، سن 8 ہجری میں، ولید بن عقبہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام قبول کر لیا۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہیں "طلقاء” کہا جاتا ہے، یعنی جنہوں نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا۔ ان کا قبول اسلام ان کی زندگی کا ایک اہم موڑ تھا، جس کے بعد وہ اسلامی معاشرے کا حصہ بن گئے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
اسلام قبول کرنے کے بعد، ولید بن عقبہ رضی اللہ تعالی عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ ذمہ داریاں تفویض فرمائیں۔
- صدقات کی وصولی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قبیلہ بنو مصطلق کے پاس صدقات (زکوٰۃ) وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ اس سفر کے دوران ایک واقعہ پیش آیا جو تاریخی کتب میں ذکر کیا جاتا ہے۔ ولید بن عقبہ رضی اللہ تعالی عنہ جب بنو مصطلق کے علاقے میں پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ لوگ ان کے استقبال کے لیے نکلے ہیں۔ ایک پرانی دشمنی کی وجہ سے یا کسی غلط فہمی کے باعث، ولید رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ گمان ہوا کہ لوگ ان سے جنگ کرنا چاہتے ہیں اور انہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ وہ واپس مدینہ منورہ تشریف لائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ بنو مصطلق نے ارتداد اختیار کر لیا ہے اور زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر لشکر بھیجنے کا ارادہ فرمایا۔ تاہم، اس کے بعد بنو مصطلق کا ایک وفد مدینہ آیا اور انہوں نے ولید رضی اللہ تعالی عنہ کے دعوے کی تردید کی اور بتایا کہ وہ زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے تیار تھے۔ اسی واقعے کے تناظر میں قرآن مجید کی سورہ حجرات کی آیت نمبر 6 نازل ہوئی: "اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا بیٹھو، پھر تمہیں اپنے کیے پر پشیمانی ہو۔” اکثر مفسرین نے اس آیت کا سبب نزول ولید بن عقبہ رضی اللہ تعالی عنہ کے اس واقعے کو قرار دیا ہے، تاہم یہ ان کی ایک غلط فہمی یا اجتہادی خطا تھی۔
- کوفہ کی گورنری: حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں، ولید بن عقبہ رضی اللہ تعالی عنہ کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا گیا۔ اس سے قبل حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ کوفہ کے گورنر تھے۔ ولید رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی گورنری کے ابتدائی دور میں بعض انتظامی امور میں کامیابی حاصل کی اور کچھ فتوحات بھی ان سے منسوب کی جاتی ہیں، جن میں آرمینیا اور آذربائیجان کے کچھ علاقوں میں اسلامی فوج کی پیش قدمی شامل ہے۔
- نماز میں سکر کا واقعہ: ولید بن عقبہ رضی اللہ تعالی عنہ کی گورنری کے دوران ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جس کی وجہ سے انہیں عہدے سے معزول کر دیا گیا۔ یہ واقعہ تاریخ کی کتابوں میں بہت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ انہوں نے ایک مرتبہ حالت نشہ میں فجر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں کے بجائے چار رکعتیں پڑھا دیں اور پھر مقتدیوں سے پوچھا کہ "کیا میں اور پڑھاؤں؟” حاضرین مجلس، جن میں کئی جلیل القدر صحابہ بھی شامل تھے، اس پر سخت حیران ہوئے اور انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو اس کی اطلاع دی۔ گواہوں کی شہادت کے بعد، حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے، اگرچہ ابتدائی طور پر اپنے بھائی پر حد جاری کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کی، لیکن صحابہ کرام کے اصرار پر، خصوصاً حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے مشورے پر، ولید بن عقبہ رضی اللہ تعالی عنہ کو کوفہ کی گورنری سے معزول کر دیا اور شراب نوشی کی حد (80 کوڑے) جاری کی۔ اس واقعے کا اس وقت کے سیاسی حالات پر گہرا اثر پڑا اور بعض مخالفین نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ پر اپنے رشتہ داروں کی طرفداری کا الزام عائد کرنے کے لیے اس واقعہ کو استعمال کیا۔
میراث اور وصال
ولید بن عقبہ رضی اللہ تعالی عنہ کو کوڑوں کی سزا دیے جانے اور گورنری سے معزولی کے بعد وہ عوامی زندگی سے کنارہ کش ہو گئے۔ ان کے بارے میں مزید کوئی بڑی سیاسی یا فوجی سرگرمیوں کا ذکر نہیں ملتا۔ انہوں نے اپنی بقیہ زندگی گوشہ نشینی میں گزاری۔ ان کی وفات کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں، تاہم زیادہ تر مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ انہوں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں وفات پائی۔ بعض روایات کے مطابق ان کی وفات آرمینیا میں ہوئی جہاں وہ شاید اپنی معزولی سے قبل کسی فوجی یا انتظامی کام میں مصروف تھے۔
مستند حوالہ جات
- تاریخ طبری (تاریخ الرسل و الملوک) از محمد بن جریر الطبری
- البدایہ و النہایہ از ابن کثیر
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن اثیر
- الاصابۃ فی تمییز الصحابہ از ابن حجر عسقلانی
- تفسیر طبری و تفسیر ابن کثیر (سورہ حجرات کی آیت 6 کی تفسیر کے ذیل میں)
