وحشی بن حرب رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت وحشی بن حرب رضی اللہ تعالی عنہ کا مکمل نام وحشی بن حرب حبشی تھا اور ان کا تعلق حبشہ (موجودہ ایتھوپیا) سے تھا، جو اُس وقت حبشہ کہلاتا تھا۔ وہ بنو نوفل بن عبدِ مناف کے موالی یعنی آزاد کردہ غلام تھے، اور خاص طور پر جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ کے غلام تھے۔ وحشی رضی اللہ تعالی عنہ اپنی غیر معمولی نیزہ اندازی کی مہارت کے لیے مشہور تھے؛ وہ ایک مخصوص حبشی نیزہ استعمال کرتے تھے جسے وہ کمان کی طرح پھینکتے تھے اور اس میں شاذ و نادر ہی خطا کرتے تھے۔ چونکہ وہ حبشی النسل تھے، اس لیے "وحشی حبشی” کے نام سے بھی معروف ہوئے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

اسلام قبول کرنے سے قبل کی وحشی رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی کے بارے میں بہت کم تفصیلات ملتی ہیں، سوائے اس کے کہ وہ اپنی بے مثال نیزہ اندازی میں ماہر تھے۔ تاریخِ اسلام کا سب سے دکھ بھرا اور اہم واقعہ جس میں وحشی رضی اللہ تعالی عنہ ملوث تھے، غزوۂ احد (3 ہجری) میں پیش آیا۔ غزوۂ بدر میں ہند بنت عتبہ (جنہوں نے بعد میں اسلام قبول کیا) کے والد عتبہ بن ربیعہ اور بھائی ولید بن عتبہ مارے گئے تھے، جس کا بدلہ لینے کے لیے ہند نے وحشی کو انعام و اکرام کے بدلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کرنے پر آمادہ کیا۔ وحشی نے اپنی مہارت کا استعمال کرتے ہوئے، نہایت افسوس کے ساتھ، سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کر دیا۔ یہ واقعہ اسلامی تاریخ کے ایک انتہائی الم ناک باب کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

فتح مکہ (8 ہجری) کے بعد، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کو فتح کیا تو وحشی کو اپنے سابقہ جرم کی پاداش میں سزا کا خوف ہوا اور وہ مکہ سے فرار ہو کر طائف چلے گئے۔ جب طائف بھی مسلمانوں کے زیر اثر آ گیا تو وحشی کو پناہ کی کوئی جگہ نہ ملی۔ اسی دوران، انہیں خبر ملی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان عام کیا ہے کہ اسلام لانے والوں کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ اس بشارت کے بعد، وحشی رضی اللہ تعالی عنہ نے حاضرِ خدمتِ نبوی ہو کر اسلام قبول کیا۔ یہ ایک عظیم لمحہ تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحشی کو معاف فرما دیا، تاہم، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے یہ درخواست بھی فرمائی کہ وہ آپ کے سامنے کم آیا کریں تاکہ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کا دکھ تازہ نہ ہو۔ وحشی رضی اللہ تعالی عنہ نے اس درخواست کو بخوشی قبول کیا اور اس کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آنے سے گریز کرتے تھے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

اسلام قبول کرنے کے بعد وحشی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے ماضی کے گناہ کی تلافی اور اسلام کی خدمت کا پختہ عزم کر لیا۔ اُن کا سب سے بڑا اور نمایاں کارنامہ جنگ یمامہ (12 ہجری) میں پیش آیا۔ یہ جنگ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں جھوٹے نبی مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی تھی، جو ارتداد کی تحریکوں میں سب سے خطرناک اور خونریز جنگ تھی۔ اس جنگ میں وحشی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی اسی نیزہ اندازی کی مہارت کا استعمال کرتے ہوئے مسیلمہ کذاب کو واصل جہنم کیا، وہی نیزہ جس سے انہوں نے حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کیا تھا۔

اس موقع پر وحشی رضی اللہ تعالی عنہ نے مشہور جملہ کہا: "میں نے اس نیزے سے جاہلیت میں سب سے بہترین انسان (حضرت حمزہ) کو قتل کیا اور اسلام میں سب سے بدترین انسان (مسیلمہ کذاب) کو قتل کیا۔” ایک روایت کے مطابق، انہوں نے فرمایا: "میں امید کرتا ہوں کہ اس سے (اللہ کے ہاں) پچھلے گناہ کا کفارہ ادا ہو جائے گا۔” (قَتَلْتُ خَيْرَ النَّاسِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَشَرَّ النَّاسِ فِي الْإِسْلَامِ، وَأَرْجُو أَنْ يُكَافَأَ بِهِ ذَاكَ.) یہ جملہ اُن کی گہری ندامت اور اپنے فعل کی تلافی کی شدید خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کارنامے کے بعد، وحشی رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار اُن صحابہ میں ہوا جنہوں نے اسلام کی عظیم خدمت انجام دی اور ایک ایسے گناہ کا ازالہ کیا جو بظاہر ناممکن لگ رہا تھا۔ انہوں نے دیگر غزوات اور فتوحات میں بھی شرکت کی اور ایک سچے مسلمان سپاہی کی طرح اسلام کی سر بلندی کے لیے لڑتے رہے۔

میراث اور وصال

حضرت وحشی بن حرب رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال خلافتِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں ہوا۔ اُن کی زندگی توبہ، ندامت اور جہاد فی سبیل اللہ کی عمدہ مثال ہے۔ وہ ایک ایسے شخص تھے جنہوں نے جاہلیت میں ایک بڑا گناہ کیا، لیکن اسلام لانے کے بعد اپنی تمام تر صلاحیتوں کو اللہ کی راہ میں صرف کر کے اس کی تلافی کی۔ اُن کا واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام سابقہ تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے۔ وحشی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زندگی کے آخری لمحات تک اسلام کی خدمت کی اور اپنی غیر معمولی صلاحیت کو حق کی نصرت میں استعمال کیا۔ وہ ایک ایسے صحابی تھے جنہوں نے اپنی زندگی کے ایک انتہائی مشکل اور تاریک باب کو اسلامی تاریخ کے ایک روشن اور سبق آموز باب میں بدل دیا۔ ان کی داستان ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے اور اللہ کی راہ میں کی جانے والی ہر کوشش قبول کی جاتی ہے۔

مستند حوالہ جات

  • سیرت ابن ہشام
  • البدایہ والنہایہ از ابن کثیر
  • تاریخ الرسل والملوک از طبری
  • صحیح بخاری (کتاب المغازی)
  • الاصابہ فی تمییز الصحابہ از ابن حجر عسقلانی
  • اسد الغابہ فی معرفت الصحابہ از ابن اثیر جزری