نعمان إبن بشير رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت نعمان ابن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار ان جلیل القدر صحابہ کرام میں ہوتا ہے جو مدینہ منورہ میں ہجرت کے بعد پیدا ہوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں ہی پروان چڑھے۔ آپ کا پورا نام نعمان بن بشیر بن سعد بن ثعلبہ بن جلاس بن زید الانصاری الخزرجی تھا۔ آپ کا تعلق مدینہ کے مشہور قبیلہ خزرج سے تھا، جو انصار کے دو بڑے قبائل میں سے ایک تھا۔ آپ کے والد حضرت بشیر بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ ان ابتدائی انصار میں سے تھے جنہوں نے عقبہ کی دوسری بیعت میں شرکت کی اور اسلام قبول کیا۔ آپ کی والدہ کا نام عمرہ بنت رواحہ تھا، جو مشہور صحابی اور شاعر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالی عنہ کی ہمشیرہ تھیں۔ اس طرح حضرت نعمان رضی اللہ تعالی عنہ کو دونوں طرف سے نہایت ہی معزز اور سبقت لے جانے والی انصاری خاندانوں سے تعلق کا شرف حاصل تھا۔ آپ کی کنیت ابو عبداللہ یا ابو محمد تھی۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ آپ ہجرت کے بعد انصار میں پیدا ہونے والے پہلے بچے تھے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت نعمان ابن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ کی ولادت ہجرت مدینہ کے تقریباً آٹھ ماہ بعد 2 ہجری میں ہوئی۔ چونکہ آپ کے والدین پہلے ہی اسلام قبول کر چکے تھے، اس لیے آپ نے آنکھ ایک مکمل اسلامی گھرانے میں کھولی۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش کی خبر سن کر آپ کے والد بشیر بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ آپ کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اپنی گود میں لیا، دعا فرمائی، اور کھجور چبا کر آپ کے منہ میں ڈالی (تحنیک فرمائی)۔ اس طرح آپ کو بچپن میں ہی براہ راست نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں اور برکات سے مستفید ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی پوری ابتدائی زندگی مدینہ منورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیرِ تربیت گزاری۔ آپ نے بچپن ہی سے اسلامی تعلیمات، آداب اور اخلاق کا مشاہدہ کیا اور ان پر عمل پیرا ہوئے۔ کم عمری کے باوجود، آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو نہایت توجہ سے سنا اور یاد رکھا، جس کی بدولت بعد میں آپ احادیث کے ایک اہم راوی بنے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت نعمان ابن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں اسلام کی گراں قدر خدمات انجام دیں۔
- حدیث کی روایت: آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست علم حاصل کرنے کا اعزاز حاصل تھا، اور آپ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے 124 احادیث روایت کیں۔ یہ احادیث مختلف فقہی مسائل، اخلاقیات اور سماجی آداب پر مشتمل ہیں اور صحیح بخاری و صحیح مسلم سمیت دیگر کتب حدیث میں موجود ہیں۔ آپ کی روایت کردہ احادیث میں والدین کی خدمت، عدل و انصاف، اولاد کو عطیات میں برابری، اور مسلمانوں کے باہمی تعلقات کے موضوعات پر رہنمائی ملتی ہے۔
- سیاسی و انتظامی خدمات: آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے خلفائے راشدین کے بعد کے ادوار میں اہم انتظامی ذمہ داریاں سنبھالیں۔
- قاضیِ کوفہ: امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں آپ کوفہ کے قاضی مقرر ہوئے۔ اس طرح آپ صحابہ کرام میں سے پہلے قاضیِ کوفہ تھے۔
- گورنرِ کوفہ: حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے وصال کے بعد، یزید بن معاویہ نے آپ کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا۔ اسی دوران جب حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے کوفہ کی طرف رخ کیا، تو حضرت نعمان رضی اللہ تعالی عنہ نے اس معاملے میں نرمی کا رویہ اختیار کیا اور فوری طور پر سخت کارروائی سے گریز کیا۔ اس وجہ سے یزید نے انہیں معزول کر کے عبیداللہ بن زیاد کو کوفہ کا گورنر مقرر کر دیا۔
- گورنرِ حمص: کوفہ سے معزولی کے بعد، آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو حمص (شام) کا گورنر مقرر کیا گیا اور آپ یزید کے دورِ خلافت میں وہاں کے گورنر رہے۔
- شجاعت و بصیرت: آپ رضی اللہ تعالی عنہ میدانِ جنگ میں بھی حاضر رہے اور جہاد میں حصہ لیا۔ آپ کی شخصیت میں تقویٰ، علم اور شجاعت کا امتزاج پایا جاتا تھا۔ آپ کی رائے میں گہرائی اور بصیرت ہوتی تھی، جسے حکام اور عام لوگ اہمیت دیتے تھے۔
میراث اور وصال
حضرت نعمان ابن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ کی میراث علم، حکمت اور اسلامی خدمات کے حوالے سے نہایت نمایاں ہے۔ آپ کی روایت کردہ احادیث آئندہ نسلوں کے لیے نبوی رہنمائی کا ایک قیمتی ذخیرہ ہیں۔ آپ کی زندگی اس دور کی سیاسی و سماجی پیچیدگیوں اور ایک صحابی کے طور پر ان سے نمٹنے کی مثال پیش کرتی ہے۔
آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا وصال 65 ہجری میں ہوا، جب خلافت عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں شام کے کچھ علاقوں میں کشمکش جاری تھی۔ یزید کی وفات کے بعد آپ نے حضرت عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کی بیعت کر لی تھی اور حمص میں ان کے نمائندے کے طور پر کام کر رہے تھے۔ لیکن جب حمص کے لوگوں نے عبداللہ ابن زبیر کی خلافت کے خلاف بغاوت کی تو آپ نے وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔ حمص سے فرار ہوتے ہوئے کچھ باغیوں نے آپ کا تعاقب کیا اور بالآخر آپ کو حمص کے قریب مقتول کر دیا گیا۔ اس طرح آپ نے تقریباً 63 سال کی عمر میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپ کا وصال اسلامی تاریخ کے ایک پرآشوب دور میں ہوا، لیکن آپ کی زندگی اسلام کی خدمت اور سنتِ نبوی کی ترویج کے لیے وقف رہی۔
مستند حوالہ جات
- الذهبي، شمس الدين. سير أعلام النبلاء. مؤسسة الرسالة.
- ابن حجر العسقلاني، أحمد بن علي. الإصابة في تمييز الصحابة. دار الكتب العلمية.
- الطبري، أبو جعفر محمد بن جرير. تاريخ الرسل والملوك (تاريخ الطبري). دار التراث.
- ابن كثير، أبو الفداء إسماعيل بن عمر. البداية والنهاية. دار هجر.
- البخاري، محمد بن إسماعيل. صحيح البخاري.
- مسلم بن الحجاج. صحيح مسلم.
