مہجع بن صالح رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت مہجع بن صالح رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ایک ہیں۔ آپ کا تعلق یمن کے قبیلہ عک سے تھا۔ آپ دراصل حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کے آزاد کردہ غلام (مولیٰ) تھے۔ بعض روایات کے مطابق، آپ کو عبداللہ بن جدعان نے آزاد کیا تھا اور پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تعلق بنا۔ تاہم، کثیر مستند روایات کے مطابق، آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مولیٰ تھے۔ آپ کے والد کا نام صالح تھا۔ آپ کا کوئی مخصوص لقب روایات میں نہیں ملتا، تاہم آپ کی سب سے بڑی پہچان "پہلے شہیدِ بدر” اور "پہلے شہیدِ اسلام” کی حیثیت سے ہے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت مہجع رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام کے ابتدائی دور میں مکہ مکرمہ میں ہی دعوت حق کو قبول کر لیا تھا۔ آپ ان سرفروشوں میں سے تھے جنہوں نے نہایت کٹھن حالات میں ایمان کی دولت پائی اور اس پر ثابت قدم رہے۔ آپ کا شمار السابقون الاولون (سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں) میں ہوتا ہے۔ جب کفار مکہ کے ظلم و ستم اپنے عروج پر پہنچ گئے اور مسلمانوں کو ہجرت کی اجازت ملی، تو حضرت مہجع رضی اللہ تعالی عنہ ان اولین مہاجرین میں سے تھے جنہوں نے اپنے دین کی خاطر سب کچھ چھوڑ کر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ آپ رسول اللہ ﷺ کی ہجرت سے قبل ہی مدینہ منورہ پہنچنے والے صحابہ کرام میں سے تھے اور آپ نے قبا میں قیام کیا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت مہجع بن صالح رضی اللہ تعالی عنہ کی سب سے بڑی فضیلت اور نمایاں کارنامہ غزوۂ بدر میں آپ کی شہادت ہے۔ آپ میدانِ بدر میں مسلمانوں کے پہلے شہید ہونے کا اعزاز رکھتے ہیں۔ یہ معرکہ اسلام کی تاریخ کا پہلا فیصلہ کن معرکہ تھا، اور اس میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والوں میں حضرت مہجع رضی اللہ تعالی عنہ سب سے آگے تھے۔
جنگِ بدر کا آغاز ابھی باقاعدہ طور پر نہیں ہوا تھا، بلکہ دونوں لشکروں کے درمیان چھڑپیں جاری تھیں۔ اسی دوران، حضرت مہجع رضی اللہ تعالی عنہ میدانِ بدر میں تشریف لے گئے، جہاں مشرکین کے لشکر سے عمرو بن الحضرمی (بعض روایات میں عامر بن الحضرمی) نے آپ پر تیر برسایا۔ یہ تیر کاری ثابت ہوا اور حضرت مہجع رضی اللہ تعالی عنہ نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ یوں آپ کو میدانِ بدر میں، بلکہ پوری اسلامی تاریخ میں سب سے پہلا شہید ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ آپ کی شہادت مسلمانوں کے لیے جوش و جذبہ کا باعث بنی اور ثابت قدمی کی علامت بن گئی۔
میراث اور وصال
حضرت مہجع بن صالح رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کا مقام اسلام میں انتہائی بلند ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو آپ کی شہادت کا گہرا دکھ ہوا اور آپ ﷺ نے فرمایا: "مہجع سید الشہداء ہے” (مہجع شہیدوں کا سردار ہے) اور بعض روایات میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "مہجع اول من قتل من هذه الأمة” (مہجع اس امت میں سے سب سے پہلا شخص ہے جسے قتل کیا گیا)۔ یہ الفاظ آپ کے مقام و مرتبے کی دلیل ہیں۔
آپ کی شہادت غزوۂ بدر کے ہولناک دن ہجرت کے دوسرے سال، 17 رمضان المبارک کو ہوئی۔ آپ کو غزوۂ بدر کے شہداء کے ساتھ ہی دفن کیا گیا۔ آپ کی ذات، دینِ اسلام کے لیے ابتدائی قربانیوں، ایثار اور جانبازی کی روشن مثال ہے۔ آپ کی شہادت نے آئندہ نسلوں کے لیے یہ پیغام دیا کہ راہِ حق میں جان کا نذرانہ پیش کرنا سب سے بڑا اعزاز ہے۔ آپ کا نام تاریخِ اسلام میں پہلے شہیدِ اسلام کے طور پر ہمیشہ زندہ رہے گا۔
مستند حوالہ جات
- ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، جلد 2، صفحہ 241
- ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، جلد 3، صفحہ 201-202
- ابن اثیر، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، جلد 5، صفحہ 220-221
- ابن عبدالبر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، جلد 4، صفحہ 1450
- طبری، تاریخ الرسل والملوک (تاریخ طبری)، جلد 2، صفحہ 146
- ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، جلد 3، صفحہ 315
