مقداد بن الأسود رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

مقداد بن عمرو بن ثعلبہ بہرانی رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار ان عظیم صحابہ کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کو اس کے ابتدائی اور کٹھن دور میں قبول کیا اور دین کی خاطر بے مثال قربانیاں پیش کیں۔ آپ کا اصل نام مقداد بن عمرو تھا اور آپ کا تعلق یمن کے قبیلہ بہرا سے تھا۔

آپ کے لقب "مقداد بن الاسود” کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ آپ یمن میں ایک واقعے کے بعد مکہ مکرمہ ہجرت کر گئے۔ وہاں آپ نے اسود بن عبد یغوث زُہری کے ساتھ حلفِ جوار (پڑوسی کا معاہدہ) کیا اور اسود نے آپ کو اپنا بیٹا بنا لیا۔ چنانچہ زمانہ جاہلیت کے رواج کے مطابق آپ کو مقداد بن الاسود کے نام سے پکارا جانے لگا۔ بعد ازاں جب اسلام نے لے پالک کی نسبت کو باطل قرار دیا تو آپ کو آپ کے والد کی نسبت سے مقداد بن عمرو ہی کہا جانے لگا، لیکن یہ لقب مقداد بن الاسود آپ کی پہچان کا حصہ بن چکا تھا۔ آپ کی کنیت ابو معبد یا ابو الاسود تھی۔ آپ ان سات افراد میں سے تھے جنہوں نے ابتدا میں اپنا اسلام ظاہر کیا اور کفار کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

مقداد رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی یمن میں گزری۔ ایک واقعے (جس میں آپ نے ایک شخص کو مار دیا تھا) کے بعد آپ کو یمن چھوڑ کر مکہ آنا پڑا۔ مکہ مکرمہ میں آپ نے حلیف کے طور پر اسود بن عبد یغوث زُہری کے ساتھ رہنا شروع کیا۔ اسی دوران جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلانِ نبوت فرمایا تو آپ نے سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں میں سے تھے۔ بعض روایات کے مطابق آپ ساتویں یا آٹھویں فرد تھے جنہوں نے اپنے اسلام کا اعلان کیا۔

اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کو مکہ کے کفار کی جانب سے شدید اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ قریش نے آپ پر اور دیگر نو مسلموں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیے۔ آپ کی دین پر استقامت بے مثال تھی۔ ان آزمائشوں کے باوجود آپ ایمان پر ثابت قدم رہے۔ بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے آپ نے حبشہ کی جانب ہجرت فرمائی اور پھر مدینہ منورہ کی جانب ہجرت کرنے والوں میں بھی آپ شامل تھے۔ مدینہ منورہ میں آپ نے اپنے نئے اسلامی معاشرے کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

مقداد بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اسلام کی خدمت اور نصرت میں گزارا۔ آپ کی بہادری، جرات اور دین سے والہانہ عقیدت مثالی تھی۔

  • غزوہ بدر میں نمایاں کردار: غزوہ بدر میں آپ کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے مشورہ طلب فرمایا تو آپ کھڑے ہوئے اور فرمایا: "یا رسول اللہ! ہم وہ نہیں ہیں جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہا تھا: ‘آپ جائیں اور آپ کا رب جا کر لڑیں، ہم یہیں بیٹھے ہیں’۔ بلکہ ہم آپ کے دائیں، آپ کے بائیں، آپ کے آگے اور آپ کے پیچھے لڑیں گے۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، اگر آپ ہمیں ‘بَرک الغماد’ (یمن کی ایک دور دراز جگہ) تک بھی لے جائیں تو ہم آپ کے ساتھ وہاں تک جائیں گے اور آپ کے ہمراہ لڑیں گے۔” آپ کے اس پرجوش خطاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے حوصلے بلند کیے۔ آپ غزوہ بدر میں شریک ہونے والے معدودے چند (تین یا چار) گھڑ سواروں میں سے تھے۔
  • دیگر غزوات میں شرکت: آپ نے غزوہ احد، غزوہ خندق، صلح حدیبیہ، فتح مکہ، غزوہ خیبر اور تبوک سمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام بڑے غزوات اور مہمات میں شرکت فرمائی۔ آپ ہمیشہ صفِ اول میں رہنے والے مجاہدین میں سے تھے۔
  • علم و فضل: آپ احادیث کے راویوں میں بھی شامل تھے۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ احادیث روایت کیں، جو صحاح ستہ اور دیگر کتب حدیث میں موجود ہیں۔ آپ فقہی بصیرت بھی رکھتے تھے۔
  • خلفائے راشدین کا دور: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد بھی آپ نے دین کی خدمت جاری رکھی۔ آپ نے خلفائے راشدین کے دور میں ہونے والی فتوحات میں حصہ لیا اور اسلامی سلطنت کی توسیع میں اپنا کردار ادا کیا۔ آپ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے قریبی رفقاء میں سے تھے اور ان کے فضائل کے معترف تھے۔

میراث اور وصال

مقداد بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی دین اسلام کے لیے وقف تھی۔ آپ نے اپنی استقامت، جرات اور ثابت قدمی سے امت مسلمہ کے لیے ایک شاندار مثال قائم کی۔ آپ ان عظیم صحابہ میں سے ہیں جن کے ایمان اور قربانیوں کی بدولت اسلام کا پرچم دنیا میں بلند ہوا۔

آپ نے سن 33 ہجری میں تقریباً 70 سال کی عمر میں مدینہ منورہ کے قریب مقام جُرف میں وفات پائی۔ آپ کے وصال کے وقت امیر المؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کو مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ آپ نے ایک بڑی رقم وقف کرنے کی وصیت فرمائی تھی جس پر عمل کیا گیا۔ آپ کی ذات اسلام کے ابتدائی دور کے جانباز سپاہیوں، مخلص ایمان والوں اور استقامت کے پیکروں میں سے ایک تھی۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح بخاری
  • صحیح مسلم
  • السيرة النبوية لابن هشام
  • البدایہ و النہایہ لابن کثیر
  • تاریخ الطبری
  • اُسْدُ الغَابَةِ في مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ لابن الأثير
  • الإصابة في تمييز الصحابة لابن حجر العسقلاني