معوذ بن عمرو بن الجموح رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت معوذ بن عمرو بن الجموح رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق مدینہ منورہ کے معروف قبیلے خزرج کی شاخ بنو سلمہ سے تھا۔ آپ کے والد کا نام عمرو بن الجموح رضی اللہ تعالی عنہ تھا، جو بنو سلمہ کے سرداروں میں سے تھے اور بعد ازاں غزوہ احد میں شہادت کا رتبہ پایا۔ آپ کی والدہ کا نام ہند بنت عمرو بن حرام تھا۔ آپ کے کئی بھائی اور بہنیں تھیں، جن میں حضرت معاذ بن عمرو بن الجموح رضی اللہ تعالی عنہ سب سے زیادہ معروف ہیں، جو حضرت معوذ کے ساتھ ہی غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ آپ کا پورا نام معوذ بن عمرو بن الجموح الانصاری الخزرجی السلمی تھا۔ یہ خاندان اپنی شرافت اور مدینہ میں ایک ممتاز مقام رکھتا تھا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت معوذ رضی اللہ تعالی عنہ نے مدینہ منورہ میں پرورش پائی۔ آپ کا خاندان مدینہ کے ان پہلے گھرانوں میں سے تھا جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ آپ کے والد حضرت عمرو بن الجموح رضی اللہ تعالی عنہ ہجرت مدینہ سے قبل ہی اسلام قبول کر چکے تھے، اور ان کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ بھی بڑا دلچسپ اور ایمان افروز ہے۔ اس ماحول میں پرورش پانے کے سبب، حضرت معوذ رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی اوائل عمر میں ہی دینِ حق کو قبول فرما لیا۔ آپ کی ابتدائی زندگی دیگر انصاری نوجوانوں کی طرح، اسلام کی تعلیمات اور نبوی تربیت کے زیر سایہ گزری۔ آپ کو کم عمری ہی سے اسلامی تعلیمات، جہاد کا جذبہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت ورثے میں ملی۔ آپ مدینہ کے ان بہادر نوجوانوں میں سے تھے جو اسلام کی نصرت و حمایت کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت معوذ بن عمرو بن الجموح رضی اللہ تعالی عنہ کی سب سے نمایاں خدمت اور کارنامہ غزوہ بدر کے میدان میں ابوجہل کے قتل میں شرکت ہے۔ ابوجہل مکہ کا سردار اور اسلام کا کٹر دشمن تھا، جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے "فرعونِ امت” کا لقب دیا تھا۔ غزوہ بدر کے دن جب جنگ اپنے عروج پر تھی، حضرت معوذ اور ان کے بھائی حضرت معاذ بن عمرو بن الجموح، دونوں نوجوانوں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ سے ابوجہل کے بارے میں پوچھا کہ وہ کون سا شخص ہے، کیونکہ انہوں نے سن رکھا تھا کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچاتا ہے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ نے جب انہیں ابوجہل دکھایا تو یہ دونوں شیر دل نوجوان اس پر جھپٹ پڑے۔
پہلے حضرت معاذ بن عمرو نے اس پر وار کیا اور اس کی ٹانگ کاٹ دی۔ اس کے بعد حضرت معوذ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی اس پر حملہ کیا اور اسے گرا دیا۔ یہ دونوں جوان اس کے گرد جمع ہو گئے اور اسے شدید زخمی کر دیا۔ بعد ازاں، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے ابوجہل کو نزع کی حالت میں پایا اور اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔ حضرت معوذ رضی اللہ تعالی عنہ کی یہ جرات اور بہادری، کم عمری کے باوجود اسلام کے سب سے بڑے دشمن کا مقابلہ کرنے کا جذبہ، ان کی ایمانی قوت اور حبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مظہر تھا۔ یہ واقعہ اسلامی تاریخ کے صفحات میں ان کے نام کو ہمیشہ کے لیے روشن کر گیا۔
میراث اور وصال
حضرت معوذ بن عمرو بن الجموح رضی اللہ تعالی عنہ نے غزوہ بدر میں بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا۔ صحیح روایات کے مطابق، ابوجہل پر حملہ آور ہونے کے بعد، ابوجہل نے بھی جوابی وار کیا اور حضرت معوذ رضی اللہ تعالی عنہ کے بازو پر شدید ضرب لگائی جس سے آپ کا بازو تقریبا کٹ گیا۔ اس کے باوجود آپ نے لڑائی جاری رکھی۔ اسی غزوہ میں آپ اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہیدہو گئے۔ آپ ان شہداء بدر میں سے ہیں جن کے بارے میں قرآن کریم میں اللہ تعالی نے "احیاء عند ربھم یرزقون” (اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور رزق دئیے جاتے ہیں) فرمایا ہے۔ آپ کی شہادت نے انصاری نوجوانوں کے لیے ایک عظیم مثال قائم کی کہ کس طرح دینِ حق کی سربلندی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا جاتا ہے۔ آپ کی میراث دین کے لیے جوش، بہادری اور فداکاری کا ایک لازوال سبق ہے۔
مستند حوالہ جات
- سیرت ابن ہشام (الروض الانف)
- تاریخ طبری (تاریخ الرسل والملوک)
- البدایہ والنہایہ از ابن کثیر
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن الاثیر
- الاصابہ فی تمییز الصحابہ از ابن حجر عسقلانی
- دلائل النبوة از امام بیہقی
