مسطح بن اثاثہ رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

مسطح بن اثاثہ رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام مسطح بن اثاثہ بن عباد بن مطلب بن عبد مناف تھا۔ آپ قریش کے بنو مطلب قبیلے سے تعلق رکھتے تھے جو رسول اللہ ﷺ کے خاندان کا ایک اہم حصہ تھا۔ آپ کی والدہ کا نام سلمیٰ بنت صخر تھا، جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خالہ زاد بہن تھیں۔ اس رشتے سے مسطح رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بھانجے یا خالہ زاد بھائی تھے۔ آپ نسبی اعتبار سے نبی اکرم ﷺ کے بھی قریبی رشتہ دار تھے، آپ کی نانی امیمہ بنت عبدالمطلب تھیں جو رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ مسطح رضی اللہ عنہ کو ابتدا ہی سے غربت اور تنگدستی کا سامنا تھا، جس کی وجہ سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کی مالی کفالت کیا کرتے تھے اور ان پر خرچ کرتے تھے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

مسطح بن اثاثہ رضی اللہ تعالی عنہ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی زمانے میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا اور سابقون الاولون میں شمار ہوتے ہیں۔ مکہ میں قبولِ اسلام کے بعد آپ نے مسلمانوں کو درپیش مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کیا، اور جب نبی اکرم ﷺ نے ہجرت کا حکم دیا تو آپ نے بھی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ اس طرح آپ کو مہاجرین کے زمرے میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ مدینہ منورہ میں آپ نے اسلامی معاشرے کی تعمیر اور دفاع میں بھرپور حصہ لیا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

مسطح بن اثاثہ رضی اللہ تعالی عنہ ایک جلیل القدر صحابی تھے اور انہوں نے کئی اہم اسلامی معرکوں میں حصہ لیا۔ آپ غزوہ بدر کے ان چند خوش نصیب صحابہ میں شامل تھے جنہیں اللہ تعالی نے یہ عظیم شرف بخشا تھا۔ اس کے علاوہ آپ نے غزوہ احد، غزوہ خندق اور دیگر غزوات میں بھی نبی اکرم ﷺ کے ساتھ شرکت کی۔ آپ کی شرکت جہاد فی سبیل اللہ اور اسلامی دعوت سے آپ کی گہری وابستگی کی نشاندہی کرتی ہے۔

تاہم، آپ کی زندگی کا سب سے نمایاں واقعہ "واقعہ افک” ہے جو آپ کی زندگی کا ایک مشکل دور ثابت ہوا۔ یہ وہ واقعہ ہے جب منافقین نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر بہتان تراشی کی تھی۔ اس وقت مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ، حسان بن ثابت اور حمنہ بنت جحش جیسے بعض مسلمان بھی نادانستہ طور پر اس پروپیگنڈے کا حصہ بن گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد اللہ تعالی نے سورہ نور کی آیات نازل فرما کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی براءت کا اعلان کیا اور بہتان تراشوں کو حدِ قذف (سزا) دینے کا حکم دیا۔ مسطح رضی اللہ عنہ کو بھی دیگر افراد کے ساتھ حد لگائی گئی۔ اس واقعے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے، جو مسطح کی مالی امداد کرتے تھے، قسم کھائی کہ اب وہ انہیں کوئی مدد نہیں دیں گے۔ لیکن اللہ تعالی نے سورہ نور کی آیت 22 نازل فرمائی: "وَلاَ يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنكُمْ وَالسَّعَةِ أَن يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ” (ترجمہ: اور تم میں سے جو صاحب فضل اور صاحب ثروت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ رشتہ داروں، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو (مالی امداد) نہیں دیں گے، اور انہیں چاہیے کہ وہ معاف کردیں اور درگزر کریں، کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہاری مغفرت فرما دے؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔) اس آیت کے نزول کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی قسم توڑ دی اور دوبارہ مسطح رضی اللہ عنہ کی مالی امداد شروع کر دی۔ یہ واقعہ مسطح رضی اللہ عنہ کے لیے ایک سبق تھا اور بعد ازاں آپ نے اپنی باقی زندگی تقویٰ اور نیکی کے ساتھ گزاری۔

میراث اور وصال

مسطح بن اثاثہ رضی اللہ تعالی عنہ واقعہ افک کے بعد ندامت اور توبہ کے ساتھ زندگی گزارتے رہے۔ آپ نے اپنی سابقہ خدمات اور غزوات میں شرکت کے شرف کی بدولت صحابہ کرام میں اپنا مقام برقرار رکھا۔ آپ کی وفات کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں، بعض کے مطابق آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں تقریباً 34 ہجری میں وفات پائی۔ آپ کی زندگی کا واقعہ افک ایک تلخ تجربہ سہی، لیکن یہ قرآن کریم کی آیات کے نزول کا سبب بنا اور مسلمانوں کو غیبت، تہمت اور بغیر تحقیق کے بات پھیلانے سے بچنے کا اہم سبق دے گیا۔ آپ کی میراث میں یہ بھی شامل ہے کہ آپ ایک ایسے صحابی تھے جن کی لغزش کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت اور مغفرت کی وسیع تر تعلیم کے لیے ایک مثال بنا دیا۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب حدیث الافک۔
  • صحیح مسلم، کتاب التوبہ، باب حدیث الافک۔
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن اثیر جزری۔
  • الاصابہ فی تمییز الصحابہ از ابن حجر عسقلانی۔
  • الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب از ابن عبدالبر۔
  • البدایہ والنہایہ از ابن کثیر۔
  • تاریخ الرسل والملوک (تاریخ طبری) از امام طبری۔