مروان بن حکم رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

مروان بن حکم کا مکمل نام مروان بن حکم بن ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف تھا۔ آپ کا تعلق قریش کے بنو امیہ قبیلے سے تھا، جو مکہ کے ایک بااثر اور کثیر تعداد میں خاندانوں میں سے ایک تھا۔ آپ کے والد حکم بن ابی العاص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رویے کی وجہ سے طائف کی طرف جلاوطن کر دیا تھا، جہاں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک مقیم رہے۔ بعد ازاں، خلیفہ عثمان بن عفان کے دور خلافت میں انہیں مدینہ واپس آنے کی اجازت دی گئی۔ مروان کی پیدائش سن 2 ہجری کے قریب مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ کی کنیت ابو عبدالملک تھی۔ آپ حضرت عثمان غنی کے چچا زاد بھائی تھے، اور آپ کے کاندھوں پر عثمان غنی کے قریبی رشتے دار ہونے کا بار بھی تھا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

مروان نے اپنی ابتدائی زندگی مکہ مکرمہ میں گزاری۔ فتح مکہ کے بعد جب آپ کے والد حکم بن ابی العاص نے اسلام قبول کیا، تو مروان بھی اس وقت نو عمر تھے اور اسلام قبول کیا۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ دیکھا، اور اس اعتبار سے آپ کا شمار کم عمر صحابہ کرام میں ہوتا ہے۔ چونکہ آپ کی پیدائش ہجرت کے بعد ہوئی تھی، اس لیے آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت مدینہ منورہ میں ہوئی۔ خلیفہ عثمان بن عفان کے دور خلافت تک آپ کی اہمیت میں اضافہ ہوا، جس کی وجہ آپ کا قریبی رشتہ اور آپ کی انتظامی صلاحیتیں تھیں۔ آپ خلیفہ عثمان کے کاتب (سیکرٹری) کے طور پر کام کرتے رہے، جس سے آپ کو ریاستی امور میں گہرا تعلق اور اثر و رسوخ حاصل ہوا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

مروان بن حکم نے اسلامی تاریخ کے کئی اہم واقعات میں مرکزی کردار ادا کیا۔ آپ نے خلیفہ عثمان بن عفان کے دور میں ان کے سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دیں اور ان کے قریبی مشیروں میں سے تھے۔ اس دوران آپ کا اثر و رسوخ کافی بڑھ گیا۔ آپ کو بعض معاملات میں ان کے اختیار سے تجاوز کرنے پر تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا، جس نے عثمان کی خلافت کے آخری ایام میں پیدا ہونے والے فتنوں کو بڑھانے میں کردار ادا کیا۔ تاہم، عثمان کے محاصرے کے دوران، مروان نے ان کا بھرپور دفاع کیا اور ان کے دفاع میں زخمی بھی ہوئے۔

حضرت عثمان کی شہادت کے بعد، مروان نے ان کے قاتلوں سے قصاص لینے کا مطالبہ کرنے والوں کا ساتھ دیا۔ آپ نے جنگ جمل میں حضرت عائشہ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کی فوج کے ساتھ مل کر حضرت علی کی فوج کے خلاف جنگ لڑی۔ اس جنگ میں حضرت طلحہ بن عبید اللہ کی شہادت سے متعلق مختلف روایات ہیں، جن میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ مروان نے انہیں اس لیے تیر مارا کہ وہ حضرت عثمان کی حمایت سے پھر گئے تھے۔

بعد ازاں، مروان نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان کی فوج میں شامل ہو کر حضرت علی کے خلاف جنگ صفین میں حصہ لیا۔ حضرت معاویہ کی خلافت کے دوران، مروان کو کئی بار مدینہ منورہ کا گورنر مقرر کیا گیا، جہاں آپ نے انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ یزید بن معاویہ کی بیعت میں بھی آپ نے کلیدی کردار ادا کیا۔

یزید کی وفات کے بعد جب خلافت بنو امیہ کے خاندان میں کمزور پڑ گئی اور عبد اللہ بن زبیر نے اپنی خلافت کا اعلان کیا، تو اس وقت شام میں بنو امیہ کی حکومت کو شدید خطرات لاحق تھے۔ ایسے نازک موقع پر بنو امیہ کے عمائدین کی مجلس شوریٰ میں مروان کو خلیفہ منتخب کیا گیا۔ آپ نے 64 ہجری میں خلیفہ کا عہدہ سنبھالا اور خلافتِ امویہ کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ نے مرج راہط کی جنگ میں ضحاک بن قیس فہری کی قیادت میں عبد اللہ بن زبیر کے حامیوں کو شکست دی، جس سے شام میں بنو امیہ کی حکمرانی مستحکم ہوئی۔ آپ نے مصر پر بھی دوبارہ اموی کنٹرول بحال کیا۔ مروان کی خلافت کا دور مختصر مگر اموی سلطنت کی بقا کے لیے انتہائی اہم تھا۔

میراث اور وصال

مروان بن حکم کی خلافت کا دور تقریباً دس ماہ (64 ہجری سے 65 ہجری) پر محیط تھا۔ آپ کا وصال 65 ہجری (685 عیسوی) میں دمشق میں ہوا۔ آپ کی وفات کے اسباب کے بارے میں تاریخی روایات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض مؤرخین کے مطابق آپ طبعی موت مرے، جبکہ دیگر روایات کے مطابق آپ کو آپ کی اہلیہ ام خالد بنت یزید نے، جن سے آپ نے خالد بن یزید کو ولی عہد بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن بعد میں اپنے بیٹے عبدالملک کو ولی عہد مقرر کر دیا، ایک سازش کے تحت موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

مروان بن حکم نے بنو امیہ کی حکومت کو اس وقت دوبارہ مستحکم کیا جب وہ زوال پذیر ہو چکی تھی، اور آپ کو مروان اول اور مروانی شاخ کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ آپ کے بعد آپ کے بیٹے عبدالملک بن مروان خلیفہ بنے، جن کا دور بنو امیہ کی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے۔ مروان کو ان کی سیاسی بصیرت، انتظامی مہارت اور مشکل حالات میں فیصلہ سازی کی صلاحیتوں کے لیے یاد کیا جاتا ہے، اگرچہ ان کی زندگی کے بعض پہلوؤں پر اسلامی تاریخ میں تنقید بھی کی جاتی ہے۔

مستند حوالہ جات

  • تاريخ الطبري (Tabari, Muhammad ibn Jarir. Tarikh al-Rusul wa al-Muluk)
  • البداية والنهاية لابن كثير (Ibn Kathir, Isma’il ibn Umar. Al-Bidayah wa al-Nihayah)
  • الكامل في التاريخ لابن الأثير (Ibn al-Athir, Ali ibn Muhammad. Al-Kamil fi al-Tarikh)
  • سير أعلام النبلاء للذهبي (Al-Dhahabi, Muhammad ibn Ahmad. Siyar A’lam al-Nubala’)
  • تاريخ الخلفاء للسيوطي (Al-Suyuti, Jalal al-Din. Tarikh al-Khulafa’)