محمد بن مسلم رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت محمد بن مسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ، جن کا مکمل نام محمد بن مسلمہ بن سلامہ بن خالد بن عدی بن مجدعة بن حارثة الانصاری الاوسی تھا، ایک جلیل القدر صحابی اور اہل مدینہ کے نامور سرداروں میں سے تھے۔ بعض اوقات ان کا نام "محمد بن مسلم” بھی لکھا جاتا ہے، تاہم تاریخ میں "محمد بن مسلمہ” کے نام سے زیادہ مشہور اور معروف ہیں۔ آپ کا تعلق انصار کے قبیلہ اوس کی شاخ بنو حارثہ سے تھا۔ آپ کی کنیت ابو عبداللہ تھی۔ مدینہ منورہ میں، رسول اللہ ﷺ نے آپ کے اور مہاجرین میں سے حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درمیان مؤاخات (بھائی چارہ) قائم فرمایا تھا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ہجرت نبوی سے تقریباً 30 سال قبل مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ ان خوش نصیب افراد میں شامل تھے جنہوں نے اوائل اسلام میں ہی دعوتِ حق کو لبیک کہا اور ایمان قبول کیا۔ آپ انصار کے ان چند سابقون الاولون میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر ایمان لا کر دین اسلام کی ابتدائی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ آپ نے بیعتِ عقبہ ثانیہ میں شرکت کی، جس نے مدینہ میں اسلام کے فروغ اور رسول اللہ ﷺ کی ہجرت کی راہ ہموار کی۔ ہجرت کے بعد، جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے اسلام کی خاطر اپنی جان و مال قربان کرنے کا عزم کیا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی پوری زندگی اسلام کی خدمت اور فروغ کے لیے وقف کر دی۔ آپ کی نمایاں خدمات اور کارنامے درج ذیل ہیں:
- غزوات میں شرکت: آپ نے غزوہ بدر، احد، خندق، اور خیبر سمیت تقریباً تمام اہم غزوات میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شرکت فرمائی۔ غزوہ بدر میں آپ ان چند صحابہ کرام میں سے تھے جن کے پاس گھوڑا تھا۔ غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے آپ کو مدینہ کا نگران اور اپنا نائب مقرر فرمایا تھا، جس سے آپ پر رسول اللہ ﷺ کے اعتماد کا اندازہ ہوتا ہے۔
- کعب بن اشرف کا واقعہ: آپ اس مشہور مہم کے روحِ رواں تھے جس میں رسول اللہ ﷺ کے حکم پر کعب بن اشرف کو اس کی اسلام دشمن سرگرمیوں اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں کی وجہ سے واصلِ جہنم کیا گیا۔ اس واقعہ میں آپ کی جرأت، تدبر اور رسول اللہ ﷺ سے وفاداری نمایاں تھی۔
- سرایا کی قیادت: آپ نے متعدد سریوں (چھوٹی فوجی مہمات) کی قیادت فرمائی۔ مثلاً، بنو اسد کے خلاف قطن کا سریہ آپ ہی کی قیادت میں روانہ کیا گیا۔
- صدقات و زکوٰۃ کی وصولی: رسول اللہ ﷺ نے آپ کو صدقات اور زکوٰۃ کی وصولی کی ذمہ داری بھی سونپی تھی، جو آپ کی امانت اور دیانت پر گہرے اعتماد کا ثبوت ہے۔
- حضرت عمر کے دور میں کردار: خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو مختلف علاقوں کے گورنروں اور حکام کی نگرانی اور ان کے خلاف شکایات کی تحقیق کے لیے مقرر فرمایا تھا۔ آپ اس ذمہ داری کو انتہائی دیانت داری اور غیر جانبداری سے انجام دیتے تھے اور کسی بھی قسم کی ناانصافی یا کوتاہی پر سختی سے باز پرس کرتے ہوئے امیرالمومنین کو اطلاع دیتے تھے۔ آپ کا یہ کردار اسلامی ریاست میں احتساب اور عدل کے نظام کی بہترین مثال ہے۔
- فتنہ کے دور میں غیر جانبداری: حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد جب مسلمانوں میں فتنہ رونما ہوا اور حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہم کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے تو حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مکمل غیر جانبداری اختیار کی۔ آپ نے اپنی تلوار توڑ دی اور فرمایا کہ میں اس تلوار کو مسلمانوں کے خلاف نہیں اٹھاؤں گا۔ آپ کا یہ موقف آپ کے تقویٰ، بصیرت اور امت کے اتحاد کے لیے آپ کی گہری فکر کا عکاس ہے۔
میراث اور وصال
حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے طویل عمر پائی اور مدینہ منورہ میں ہی وفات پائی۔ آپ کا وصال حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں 43 ہجری میں ہوا۔ بعض روایات کے مطابق آپ کا وصال 46 ہجری میں ہوا اور آپ کی عمر تقریباً 77 سال تھی۔ آپ نے زندگی بھر اسلام کی سربلندی اور اس کے احکامات پر عمل پیرا ہونے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
آپ کی میراث ایک بہادر جنگجو، ایک امانت دار عامل، ایک غیر جانبدار قاضی اور ایک متقی و پرہیزگار انسان کی ہے۔ آپ کی زندگی مسلمانوں کے لیے ایک مثالی نمونہ ہے، خاص طور پر آپ کی فتنوں کے وقت غیر جانبداری اور عدل و انصاف کے قیام کے لیے آپ کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
مستند حوالہ جات
- ابن کثیر، "البدایۃ والنہایۃ”
- طبری، "تاریخ الرسل والملوک”
- ابن سعد، "الطبقات الکبریٰ”
- ابن حجر عسقلانی، "الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ”
- ذہبی، "سیر أعلام النبلاء”
- سید سلیمان ندوی، "سیرت النبی ﷺ”
