محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام محمد بن مسلمہ بن سلمہ بن خالد بن عدی بن مجدعہ بن حارثہ بن حارثہ بن خزرج بن عمرو بن مالک بن اوس تھا۔ آپ کا تعلق انصار کے قبیلہ اوس کی شاخ بنو حارثہ سے تھا۔ آپ کی کنیت ابو عبدالرحمٰن تھی۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ منورہ کے جلیل القدر صحابہ کرام میں سے تھے اور انصار کے سابقون الاولون میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو ان کی غیر معمولی بہادری اور وفاداری کی بنا پر "فارس رسول اللہ” (اللہ کے رسول کے شہسوار) کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا، جس سے آپ کی عسکری صلاحیتوں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قلبی تعلق کی عکاسی ہوتی ہے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور وہیں آپ کی پرورش ہوئی۔ ہجرت نبوی سے قبل جب مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ منورہ تشریف لائے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کے ہاتھوں اسلام قبول کیا۔ آپ ان معدودے چند خوش نصیب انصاری صحابہ میں سے تھے جنہوں نے ابتدا ہی میں اسلام کی حقانیت کو پہچان لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے قبل ہی اپنی زندگی کو اسلام کے تابع کر دیا۔ ہجرت مدینہ کے بعد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے درمیان مواخات (بھائی چارے) کا رشتہ قائم کیا تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کو مشہور مہاجر صحابی حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالی عنہ کا دینی بھائی بنایا۔ یہ تعلق اس بات کی گواہی ہے کہ آپ ابتداء ہی سے ایمان، کردار اور وفاداری میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی جہاد فی سبیل اللہ، اسلام کی خدمت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا عملی نمونہ تھی۔ آپ نے تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی اور اپنی بے مثال شجاعت و فدائیت کا مظاہرہ کیا۔
- غزوہ بدر و احد: آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے غزوہ بدر میں دیگر صحابہ کرام کے شانہ بشانہ جنگ لڑی اور غزوہ احد میں بھی ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا۔
- غزوہ خندق: غزوہ خندق کے موقع پر آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے خندق کھودنے کے کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور جنگ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
- کعب بن اشرف کا قتل: ہجرت مدینہ کے بعد، کعب بن اشرف ایک یہودی سردار تھا جو اپنی شاعری اور سازشوں کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی ہجو کرتا اور فتنے پھیلاتا تھا۔ اس کی شرارتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خاتمے کا حکم دیا۔ اس اہم اور خطرناک مہم کی قیادت محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمائی۔ آپ نے کعب بن اشرف کو اس کے ٹھکانے پر جا کر واصل جہنم کیا، جس سے مسلمانوں کو بڑے فتنے سے نجات ملی۔ یہ واقعہ آپ کی بے پناہ جرات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غیر متزلزل وفاداری کا ثبوت ہے۔
- بنو نضیر کی جلا وطنی: جب بنو نضیر نے عہد شکنی کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی سازش کی تو انہیں مدینہ سے جلا وطن کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس حکم کی تنفیذ کا فریضہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کو سونپا گیا، اور آپ نے کامیابی کے ساتھ اس مہم کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔
- غزوہ خیبر: غزوہ خیبر کے دوران آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے قلعوں کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ ان صحابہ میں شامل تھے جنہوں نے قلعہ قموص کو سر کرنے میں حصہ لیا اور اپنی بہادری کا لوہا منوایا۔
- امیر سریہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کئی چھوٹے سریوں (چھوٹے فوجی دستوں) کا امیر مقرر فرمایا، جن میں سریہ قطن، سریہ ذوالقصہ اور سریہ ضریہ شامل ہیں۔ ان مہمات میں آپ نے اپنی قیادت اور عسکری صلاحیتوں کا بہترین مظاہرہ کیا۔
- امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں: حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کی دیانت اور تقویٰ پر غیر معمولی اعتماد کیا۔ جب حضرت عمر خود مدینہ سے باہر تشریف لے جاتے تو آپ کو اپنا قائم مقام مقرر فرماتے۔ نیز، آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو کئی صوبوں کے والیوں کے حساب کتاب کی چھان بین کے لیے بھیجا گیا، جن میں حضرت عمرو بن العاص اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہما بھی شامل تھے، جس سے آپ کے عدل و دیانت کی تصدیق ہوتی ہے۔
- فتنہ کے دور میں: حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے بعد جب مسلمانوں میں خانہ جنگی کا آغاز ہوا اور مختلف گروہ تشکیل پائے تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کسی بھی فریق کی طرف سے لڑنے سے انکار کر دیا۔ آپ نے اپنی تلوار توڑ دی اور گوشہ نشینی اختیار کر لی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فتنے کے دور میں مسلمانوں کے درمیان جنگ سے بچنے کی ہدایت فرمائی تھی۔ یہ عمل آپ کے فہم دین، تقویٰ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصایا پر مکمل ایمان کا مظہر ہے۔
میراث اور وصال
محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک طویل، متقی اور مجاہدانہ زندگی گزاری۔ آپ نے تقریباً 77 سال کی عمر میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں، 46 ہجری میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار ان صحابہ میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کے ابتدائی مشکل ترین حالات سے لے کر اس کے عروج تک ہر موڑ پر اپنی جان، مال اور صلاحیتوں کے ساتھ دین کی خدمت کی۔ آپ کی زندگی بہادری، وفاداری، تقویٰ، اور فتنے کے اوقات میں غیر جانبداری کی بہترین مثال ہے۔ آپ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے چند احادیث بھی روایت کی ہیں۔ آپ کا مزار مبارک مدینہ منورہ کے جنت البقیع میں ہے۔
مستند حوالہ جات
- سیرت ابن ہشام (السیرۃ النبویۃ)
- تاریخ طبری (تاریخ الرسل والملوک)
- البدایہ و النہایہ از ابن کثیر
- صحیح بخاری
- صحیح مسلم
- طبقات کبریٰ از ابن سعد
- سیر اعلام النبلاء از الذہبی
