مالک بن رافع رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
محترم قارئین، یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلامی تاریخ کی مستند کتب میں "مالک بن رافع” کے نام سے کوئی بہت مشہور اور تفصیلی سوانح حیات رکھنے والے صحابی کا ذکر کم ملتا ہے۔ تاہم، ایک بہت معروف اور جلیل القدر صحابی "رافع بن مالک رضی اللہ عنہ” کا تذکرہ بکثرت موجود ہے، جو انصار میں سے اولین اسلام قبول کرنے والوں میں سے تھے اور عقبہ کی پہلی بیعت کے بارہ نقیبوں میں شامل تھے۔ چونکہ بسا اوقات ناموں میں تقدیم و تاخیر ہو جاتی ہے، اس لیے قیاس یہی ہے کہ آپ کی مراد "رافع بن مالک رضی اللہ عنہ” سے ہے۔ ذیل میں انہی کی سوانح عمری پیش کی جا رہی ہے۔
رافع بن مالک رضی اللہ عنہ کا تعلق مدینہ منورہ کے قبیلہ خزرج کے بنو زریق سے تھا۔ ان کا پورا نام رافع بن مالک بن العجلان بن عمرو بن عامر بن زریق تھا۔ آپ کا قبیلہ بنو زریق انصار کے سرکردہ قبائل میں سے تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو ابتدائی ایام میں ہی اسلام قبول کرنے کی سعادت حاصل ہوئی اور آپ نے دین اسلام کی ترویج و اشاعت میں اہم کردار ادا کیا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
رافع بن مالک رضی اللہ عنہ کی ابتدائی زندگی مدینہ منورہ میں گزری جہاں وہ اپنے قبیلے کے سرکردہ افراد میں سے تھے۔ ان کا شمار عقلمند، نیک اور صاحب بصیرت شخصیات میں ہوتا تھا۔ 11 نبوی میں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ اسلام کے لیے طائف کا سفر کیا اور وہاں سے مایوس لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے موسم میں مختلف قبائل کو دعوت دین دینا شروع کی۔ اسی دوران، عقبہ کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات یثرب (مدینہ) کے چھ خوش نصیب افراد سے ہوئی، جن میں سے ایک رافع بن مالک رضی اللہ عنہ بھی تھے۔
ان چھ افراد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول کیا اور اسلام لے آئے۔ یہ عقبہ کی پہلی بیعت کہلاتی ہے، جو تاریخ اسلام کا ایک سنگ میل ہے۔ رافع بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس بیعت میں بھرپور حصہ لیا اور اسلام قبول کرنے کے بعد مدینہ واپس جا کر اپنے قبیلے اور اہل خانہ میں اسلام کی تبلیغ کا فریضہ انجام دیا۔ ان کی کوششوں سے مدینہ میں اسلام کا پودا پھلنے پھولنے لگا، جس کے نتیجے میں اگلے سال (12 نبوی) عقبہ کی دوسری بیعت میں یثرب سے کثیر تعداد میں لوگوں نے آ کر اسلام قبول کیا۔ یہ رافع بن مالک اور ان کے رفقاء کی ابتدائی تبلیغی کاوشوں کا ہی ثمر تھا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
رافع بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمات کا ایک اہم پہلو مدینہ میں اسلام کی ابتدائی اشاعت اور بیعت عقبہ میں ان کا کلیدی کردار ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عقبہ کی پہلی بیعت کے بارہ نقیبوں (سرداروں یا نمائندوں) میں سے ایک مقرر فرمایا تھا۔ نقیب کا مطلب اپنے قبیلے کے ذمہ دار شخص کو چننا تھا جو قبیلے کے معاملات سنبھالتا۔ یہ ان کے اعتماد اور قائدانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
مدینہ میں اسلام کے پھیلنے کے بعد، آپ رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں اسلامی تعلیمات کو پھیلانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ہجرت مدینہ کے بعد، آپ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر میں شرکت فرمائی۔ غزوہ بدر میں شرکت کرنے والے صحابہ کرام کو بہت بلند مقام حاصل ہے اور انہیں اہلِ جنت میں شمار کیا جاتا ہے۔ آپ نے اس عظیم معرکے میں اپنی بہادری اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔
میراث اور وصال
رافع بن مالک رضی اللہ عنہ کی زندگی دین اسلام کے لیے وقف تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر میں شرکت کی اور اس کے بعد بھی اسلامی ریاست کے دفاع میں حصہ لیتے رہے۔ آپ کی وفات کے بارے میں مختلف روایات ہیں، لیکن جمہور مورخین اور سیرت نگاروں کے مطابق آپ غزوہ احد میں شہید ہوئے۔
غزوہ احد سن 3 ہجری میں پیش آیا، جس میں مسلمانوں کو شدید آزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔ رافع بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس غزوہ میں بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا۔ آپ کی شہادت دین اسلام کے لیے آپ کی عظیم قربانی کی یاد دلاتی ہے اور آپ کا شمار ان جلیل القدر شہداء میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی جانیں راہِ حق میں قربان کر دیں۔ آپ کی میراث دین اسلام کی ابتدائی مضبوط بنیادوں میں شامل ہے۔
مستند حوالہ جات
- ابن الأثير، عز الدين علي بن محمد بن عبد الكريم الجزري، أسد الغابة في معرفة الصحابة، دار الكتب العلمية، بيروت، 1994م، ج 2، ص 249-250.
- ابن حجر العسقلاني، شهاب الدين أحمد بن علي بن محمد الكناني، الإصابة في تمييز الصحابة، دار الكتب العلمية، بيروت، 1995م، ج 2، ص 412.
- ابن عبد البر، أبو عمر يوسف بن عبد الله بن محمد، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، دار الجيل، بيروت، 1992م، ج 2، ص 493.
- الطبري، أبو جعفر محمد بن جرير، تاريخ الرسل والملوك، دار التراث، بيروت، 1967م، ج 2، ص 235-236 (بیعت عقبہ کے حوالے سے).
- ابن کثیر، أبو الفداء إسماعيل بن عمر، البداية والنهاية، دار هجر للطباعة والنشر والتوزيع والإعلان، 1997م، ج 3، ص 164 (بیعت عقبہ کے حوالے سے).
