لبيد الأميرى رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

لبید بن ربیعہ بن مالک بن جعفر الکلابی العامری رضی اللہ تعالی عنہ، عرب کے ان نامور شعراء میں سے تھے جن کا شمار جاہلیت کے عظیم ترین شاعروں میں ہوتا ہے اور جنہیں اصحاب معلقات میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ آپ کا مکمل نام لبید بن ربیعہ بن مالک بن جعفر بن کلاب بن ربیعہ بن عامر بن صعصعہ ہے۔ آپ کا تعلق بنو عامر بن صعصعہ قبیلے سے تھا، جو عرب کے بڑے اور معزز قبائل میں سے ایک تھا۔ آپ کا لقب ‘امیر’ یا ‘عامری’ آپ کے قبیلے ‘بنو عامر’ کی نسبت سے ہے۔ قبل از اسلام آپ اپنے قبیلے کے سرداروں میں سے تھے اور اپنی سخاوت، بہادری، حکمت اور فصاحت و بلاغت کے لیے مشہور تھے۔ آپ کی شاعری عربی زبان و ادب کا ایک قیمتی سرمایہ سمجھی جاتی ہے اور آپ کی معلقہ، جو خانہ کعبہ پر لٹکائی جانے والی سبع معلقات میں سے ایک تھی، آپ کی ادبی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

لبید رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش قبل از اسلام تقریباً 560 عیسوی کے آس پاس ہوئی اور آپ نے ایک طویل عمر پائی۔ آپ نے اپنی جوانی جاہلیت کے دور میں گزاری اور اپنے زمانے کے بڑے شاعروں میں شمار ہوتے تھے۔ آپ کی شاعری میں عربی زبان کی تمام تر خوبیاں، صحرا کی عظمت، قبائلی روایات، گھوڑوں کی تعریف اور حکیمانہ خیالات واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ آپ نے اپنی زندگی کے ابتدائی 60 سال کے قریب جاہلیت میں گزارے۔ جب اسلام کی روشنی عرب میں پھیلی تو آپ اور آپ کے قبیلے نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں وفود بھیجے۔ لبید رضی اللہ تعالی عنہ بذات خود یا اپنے قبیلے کے ساتھ نبوی ﷺ کے زمانے میں اسلام قبول کیا۔ آپ کے قبولِ اسلام کا واقعہ ہجرت کے 9ویں یا 10ویں سال میں پیش آیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کی زندگی میں ایک انقلابی تبدیلی آئی۔ آپ نے شاعری ترک کر دی اور فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے مجھے شعر کے بدلے میں سورۃ البقرہ اور سورۃ آل عمران عطا فرما دی ہیں” (یا اس مفہوم کے الفاظ استعمال کیے۔) آپ کا یہ قول اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام کی آمد نے آپ کو کس قدر متاثر کیا اور آپ نے قرآن مجید کو ہر قسم کی شاعری پر فوقیت دی۔ اس کے بعد آپ نے بہت کم شعر کہے اور جو کہے وہ بھی اکثر اسلامی تعلیمات، حکمت اور نصیحت پر مبنی تھے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

لبید رضی اللہ تعالی عنہ کی سب سے بڑی خدمت ان کا اسلام قبول کرنا اور اپنی تمام تر شاعری کی صلاحیت کو ترک کر کے قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنا تھا۔ یہ اس بات کا عملی ثبوت تھا کہ اسلام کس طرح افراد کی شخصیت کو یکسر تبدیل کر دیتا ہے۔ آپ نے اپنی جاہلی زندگی کے اوصاف جیسے سخاوت اور فصاحت کو اسلامی اقدار کے تحت مزید نکھارا۔ بحیثیت صحابی، آپ نے رسول اللہ ﷺ سے حدیثیں سنی اور آپ کے زمانے کے کئی واقعات کے عینی شاہد رہے۔ آپ کی علمی خدمات میں آپ کی وہ حکیمانہ شاعری شامل ہے جو انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد کی، اور جو اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ تھی۔ آپ نے اپنے قبیلے میں اسلام کی ترویج اور تبلیغ میں بھی اہم کردار ادا کیا اور اپنے قبیلے کے لیے ایک مثالی مسلمان رہنما ثابت ہوئے۔ آپ کی طویل عمر نے انہیں چار خلفائے راشدین کے دور کو دیکھنے کا موقع دیا اور آپ نے اسلامی معاشرے کی ترقی کا مشاہدہ کیا۔

میراث اور وصال

لبید رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک انتہائی طویل عمر پائی، بعض روایات کے مطابق آپ نے 140 یا 145 سال کی عمر پائی، جس میں سے 60 سال سے زائد جاہلیت میں اور باقی اسلام میں گزارے۔ آپ آخری معمر صحابہ میں سے تھے جن کا وصال حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں تقریباً 41 ہجری (661-662 عیسوی) میں کوفہ میں ہوا۔ آپ کی وفات ایک عہد کا اختتام تھا، جس کے بعد جاہلیت اور اسلام کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے والے ایک عظیم شخصیت دنیا سے رخصت ہو گئی۔
آپ کی میراث کئی پہلوؤں پر مشتمل ہے:

  • آپ عربی شاعری کے ایک ستون تھے، اور آپ کی معلقہ آج بھی عربی ادب کے نصاب کا حصہ ہے۔
  • آپ ایک مثالی صحابی تھے جنہوں نے اپنی سابقہ زندگی کی تمام تر عظمت کو اسلام کی خاطر قربان کر دیا اور قرآن کو اپنی زندگی کا محور بنایا۔
  • آپ کی زندگی جاہلیت سے اسلامی دور تک کے ثقافتی اور فکری ارتقاء کو سمجھنے کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔
  • آپ کی حکمت اور بصیرت نے بعد کی نسلوں کے لیے مثال قائم کی۔

آپ کی شاعری اور آپ کا سیرت کا حصہ ہمیشہ عربی زبان و ادب اور اسلامی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔

مستند حوالہ جات

  • ابن کثیر، البداية والنهاية
  • طبری، تاریخ الرسل والملوک
  • ابن اثیر، أسد الغابة في معرفة الصحابة
  • ابن حجر عسقلانی، الإصابة في تمييز الصحابة
  • دیوان لبید (ان کی شاعری کے مجموعے)
  • ابن قتیبہ، الشعر والشعراء