فضل ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام الفضل بن العباس بن عبد المطلب بن ہاشم القرشی تھا۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سگے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالی عنہ کے سب سے بڑے صاحبزادے تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام حضرت اُمّ الفضل لبابہ بنت الحارث رضی اللہ تعالی عنہا تھا، جو عرب کی چند گنی چنی باشعور اور فاضل خواتین میں سے تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت میمونہ بنت الحارث رضی اللہ تعالی عنہا کی سگی بہن تھیں۔ اس طرح حضرت فضل رضی اللہ تعالی عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی چچازاد بھائی اور سالے بھی تھے۔

آپ اپنی خوبصورتی کے لیے مشہور تھے، آپ کو "احسن الناس وجهاً” (لوگوں میں سب سے خوبصورت چہرے والے) بھی کہا جاتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربت کی وجہ سے آپ کو "ابن عم رسول اللہ” (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی) اور حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری پر پیچھے بیٹھنے کی وجہ سے "ریدف النبی” (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری کرنے والے) کا لقب ملا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا بچپن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت اور آپ کی تعلیمات کے زیر سایہ گزرا۔ اگرچہ آپ کے والد حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے فتح مکہ کے قریب اسلام قبول کیا، لیکن آپ کی والدہ حضرت اُمّ الفضل رضی اللہ تعالی عنہا قدیم الاسلام تھیں اور انہوں نے بعثت کے ابتدائی دور ہی میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ اسی طرح، حضرت فضل رضی اللہ تعالی عنہ بھی اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ بہت کم عمری ہی میں اسلام کی آغوش میں آ چکے تھے اور آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت اور عقیدت تھی۔ آپ کا شمار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان قریبی رفقاء میں ہوتا ہے جنہوں نے آپ کے ہر حکم کی تعمیل کی۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زندگی میں کئی عظیم الشان کارنامے انجام دیے اور اسلام کی راہ میں گراں قدر خدمات پیش کیں۔

  • غزوہ حنین میں استقامت: غزوہ حنین (8 ہجری) کے موقع پر جب مسلمان فوج کا ابتدائی دستہ کفار کی تیر اندازی سے منتشر ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ثابت قدمی مثالی تھی۔ اس نازک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد آپ کے اہلِ بیت اور چند مخلص صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی رہ گئے تھے، جن میں حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے۔ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے ہوئے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا اور دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہے۔
  • حجۃ الوداع میں رفاقت: 10 ہجری میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا آخری حج (حجۃ الوداع) ادا فرمایا تو حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ اس مبارک سفر میں آپ کے ردیف (اونٹ پر پیچھے بیٹھنے والے) تھے۔ یہ ایک بہت بڑا اعزاز تھا جو آپ کو حاصل ہوا۔ صحیح بخاری میں اس کا تذکرہ موجود ہے کہ کس طرح ایک خثعمیہ عورت سے گفتگو کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فضل کا چہرہ دوسری طرف پھیر دیا تھا، جب وہ اس عورت کو دیکھ رہے تھے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز و تکفین میں شرکت: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد، آپ کی مبارک غسل اور تجہیز و تکفین کے عظیم اور حساس کام میں حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ شریک تھے۔ یہ آپ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ قربت اور اعتماد کا مظہر تھا۔
  • جہادی سرگرمیاں: آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم کے ادوارِ خلافت میں ہونے والی مختلف جنگوں اور فتوحات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ خاص طور پر شام کی فتوحات میں آپ نے اہم کردار ادا کیا۔
  • احادیث کی روایت: آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے چند احادیث بھی روایت کی ہیں، جو آپ کی علمی میراث کا حصہ ہیں۔

میراث اور وصال

حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زندگی اسلام کی خدمت اور جہاد فی سبیل اللہ میں گزاری۔ آپ کا وصال حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں ہوا۔ مؤرخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ شام کی فتوحات کے دوران سن 13 ہجری میں یا اس کے کچھ بعد، غالباً 17 یا 18 ہجری میں، طاعون عمواس کے دوران یا کسی جنگ میں جامِ شہادت نوش فرما کر وفات پا گئے۔ آپ کی وفات سرزمین شام میں ہوئی، ممکنہ طور پر دمشق یا اس کے گرد و نواح میں۔ آپ کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ آخری دم تک اسلام کے دفاع اور سربلندی کے لیے کوشاں رہے۔ آپ نے اپنے پیچھے کوئی اولاد نہیں چھوڑی، البتہ آپ کی میراث آپ کی قربانیوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اسلام کے لیے گراں قدر خدمات کی صورت میں تاقیامت زندہ رہے گی۔ آپ کا شمار ان عظیم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی جوانی اسلام کے لیے وقف کر دی۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح بخاری
  • صحیح مسلم
  • مسند احمد
  • السيرۃ النبویہ لابن کثیر
  • تاریخ طبری
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ لابن الاثیر
  • الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب لابن عبدالبر
  • الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر عسقلانی