غفل بن حنظلہ رضی اللہ عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ سوال میں "غفل بن حنظلہ رضی اللہ عنہ” کا نام ذکر کیا گیا ہے، جبکہ تاریخ اسلام کی کتب میں اس نام سے کوئی مشہور صحابی موجود نہیں۔ غالب گمان یہ ہے کہ سوال پوچھنے والے کا اشارہ مشہور جلیل القدر صحابی حضرت حنظلہ بن ابی عامر انصاری رضی اللہ عنہ کی طرف ہے، جنہیں ان کی شہادت کے بعد فرشتوں کے غسل دینے کی وجہ سے "غسیل الملائکہ” (فرشتوں کا غسل دیا ہوا) کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ ذیل میں انہی عظیم صحابی حضرت حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ عنہ کی سوانح عمری پیش کی جا رہی ہے۔

حضرت حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ عنہ کا اصل نام حنظلہ تھا۔ ان کے والد کا نام ابی عامر تھا، جن کا تعلق مدینہ منورہ کے قبیلہ اوس کے بنو عمرو بن عوف سے تھا۔ ان کا مکمل نسب حنظلہ بن ابی عامر بن صیفی بن مالک بن دعلج بن زید بن غنم بن مالک بن عوف بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس الانصاری ہے۔ ان کی والدہ کا نام اسماء بنت حارث بن صخر تھا۔

ان کے والد ابو عامر کو پہلے "راہب” کہا جاتا تھا کیونکہ وہ راہبانہ زندگی بسر کرتے تھے، لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اور اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے اسلام قبول کرنے کی بجائے منافقت اختیار کی اور بالآخر مدینہ چھوڑ کر روم چلے گئے جہاں وہ کفر کی حالت میں ہی فوت ہوئے۔ تاہم، حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد کے برعکس حق کو قبول کیا اور ایمان کی سچائی کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا۔

حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کا سب سے مشہور لقب "غسیل الملائکہ” ہے۔ یہ لقب انہیں غزوہ احد میں ان کی عظیم شہادت کے بعد عطا ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ انہیں فرشتوں نے غسل دیا، جس کی تفصیل آگے بیان کی جائے گی۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل بھی ایک نیک سیرت اور بااخلاق نوجوان کے طور پر جانے جاتے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی جانب ہجرت فرمائی اور اسلام کی دعوت دی، تو حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ نے بلا جھجک اس حق کو قبول کیا۔ انہوں نے اپنے ایمان کا برملا اظہار کیا اور دین اسلام کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔ ان کا اسلام قبول کرنا اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے جب یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان کے والد ابو عامر نے اسلام کی سخت مخالفت کی تھی اور منافقت کا راستہ اختیار کیا تھا۔ اس کے باوجود حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ نے ایمان کی راہ چُنی اور اپنے عمل سے ثابت کیا کہ رشتے اور تعلقات دین حق کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔

آپ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخلص صحابہ میں شامل ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر حکم پر لبیک کہنے والے بن گئے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کی سب سے نمایاں خدمت اور کارنامہ غزوہ احد میں ان کی بے مثال شہادت ہے۔ یہ واقعہ ان کے ایمان، بہادری اور شوقِ شہادت کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔

غزوہ احد کے دن (بعض روایات کے مطابق اس سے ایک رات قبل) حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کی نئی نئی شادی ہوئی تھی، اور وہ اپنی اہلیہ جمیلہ بنت عبداللہ بن ابی (جو رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کی بیٹی تھیں) کے ساتھ تھے۔ ابھی آپ غسلِ جنابت بھی نہ کر پائے تھے کہ جہاد کی منادی کی آواز ان کے کانوں میں پڑی۔ یہ سنتے ہی آپ رضی اللہ عنہ نے بلا تاخیر تلوار اٹھائی اور میدانِ جنگ کی طرف دوڑ پڑے۔ دنیاوی آرام اور ذاتی خوشیوں کو پسِ پشت ڈال کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پکار پر لبیک کہا۔

میدانِ احد میں آپ رضی اللہ عنہ نے بے پناہ بہادری کا مظاہرہ کیا۔ آپ کفار کی صفوں کو چیرتے ہوئے ابو سفیان (جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے) کی طرف بڑھے اور تقریباً انہیں ہلاک کرنے ہی والے تھے کہ اسود بن شعوب اور شداد بن اسود نامی مشرکین نے آپ رضی اللہ عنہ پر پیچھے سے حملہ کر دیا اور آپ کو شہید کر دیا۔ اس طرح آپ رضی اللہ عنہ حالتِ جنابت میں ہی بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہو گئے۔

آپ کی شہادت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو بتایا کہ "میں نے حنظلہ کو دیکھا کہ فرشتے انہیں چاندی کے برتنوں سے بارش کے پانی کے ساتھ غسل دے رہے ہیں۔” یہ اس وجہ سے تھا کہ وہ حالتِ جنابت میں شہید ہو گئے تھے اور غسل کا موقع نہ مل سکا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے ان کے غسل کا انتظام فرمایا۔ اسی لیے آپ رضی اللہ عنہ کو "غسیل الملائکہ” (فرشتوں کا غسل دیا ہوا) کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے آپ رضی اللہ عنہ کی عظمت، قربانی اور اخلاص کی کھلی ہوئی دلیل تھی۔

میراث اور وصال

حضرت حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ عنہ نے 3 ہجری میں غزوہ احد کے موقع پر جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی عمر اس وقت تقریباً چوبیس سال تھی۔ آپ نے ایک بیٹا عبداللہ بن حنظلہ اپنی یادگار چھوڑے، جو بعد میں ایک عظیم تابعی اور مدینہ کے امیر بنے اور واقعہ حرہ کے دوران یزید کی افواج کے خلاف لڑتے ہوئے خود بھی شہید ہوئے۔

حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کی حیاتِ مبارکہ اور بالخصوص ان کی شہادت کا واقعہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک عظیم سبق اور مثالی نمونہ ہے۔ یہ واقعہ سکھاتا ہے کہ جب دین کی پکار آئے تو دنیا کی ہر چیز کو قربان کر کے لبیک کہنا چاہیے۔ ان کی بہادری، ایمان کی پختگی اور شوقِ شہادت رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔ ان کا لقب "غسیل الملائکہ” ہمیشہ ان کی عظمت اور اللہ کے ہاں ان کے مقام کی یاد دلاتا رہے گا۔

مستند حوالہ جات

  • سیرت ابن ہشام
  • تاریخ طبری
  • البدایہ والنہایہ لابن کثیر
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ لابن الأثیر
  • الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر عسقلانی
  • دلائل النبوہ للبیہقی
  • صحیح ابن حبان
  • مستدرک حاکم