عمیر بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ

معاف کیجئے گا، ‘عمیر بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ’ کے نام سے کوئی مشہور اور نمایاں صحابی تاریخی طور پر معروف نہیں ہیں۔ زیادہ تر امکان ہے کہ آپ ‘عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ’ کے بارے میں لکھوانا چاہ رہے ہوں، جو عشرہ مبشرہ میں شامل، ایک جلیل القدر اور عظیم المرتبت صحابی تھے۔

اگر آپ ‘عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ’ کے بارے میں معلومات چاہتے ہیں، تو ذیل میں ان کی تفصیلی اور مستند سوانح عمری پیش کی گئی ہے۔ اگر آپ کا مقصد واقعی ‘عمیر بن عوف’ ہی تھے، تو براہ کرم واضح فرمائیں تاکہ اس بارے میں مزید تحقیق کی جا سکے۔ فی الحال، یہ سوانح عمری ‘عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ’ کے متعلق ہے۔

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار ان جلیل القدر صحابہ کرام میں ہوتا ہے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے دنیا ہی میں جنت کی بشارت دی، یعنی وہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ آپ کا اصل نام اسلام سے پہلے عبد عمرو یا عبد کعبہ تھا، جسے رسول اللہ ﷺ نے تبدیل فرما کر عبدالرحمن رکھا۔ آپ کا نسب کچھ یوں ہے: عبدالرحمن بن عوف بن عبد عوف بن عبد بن حارث بن زہرہ بن کلاب قرشی زہری۔ آپ قریش کے معزز قبیلے بنو زہرہ سے تعلق رکھتے تھے، جو رسول اللہ ﷺ کے والدہ ماجدہ کا قبیلہ تھا۔ اس اعتبار سے آپ رسول اللہ ﷺ کے ننھیالی رشتہ دار تھے۔ آپ کی والدہ کا نام شفاء بنت عبد عمرو تھا، جو بنو زہرہ ہی سے تھیں۔ آپ عام الفیل کے تقریباً 10 سال بعد (581 عیسوی کے قریب) مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے، اور ابتدائی زندگی میں ہی تجارت کا پیشہ اختیار کیا، جس میں آپ نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

آپ نے اپنی جوانی مکہ مکرمہ کے ایک متمول اور معزز گھرانے میں گزاری۔ قریش کے اشراف میں آپ کا شمار ہوتا تھا اور آپ ایک کامیاب تاجر کے طور پر معروف تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی وحدانیت کی دعوت دی اور اسلام کا پیغام لے کر کھڑے ہوئے، تو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ نے کسی ہچکچاہٹ کے بغیر اسلام قبول کیا۔ آپ ان آٹھ افراد میں شامل ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ آپ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی دعوت پر اسلام قبول کیا اور بعثت کے ابتدائی ایام میں ہی مشرف بہ اسلام ہو گئے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کو بھی دوسرے نو مسلموں کی طرح قریش کے مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔ اس آزمائش کے دور میں آپ نے حبشہ کی جانب دونوں ہجرتوں میں حصہ لیا تاکہ اپنے دین کو بچا سکیں اور امن و امان کے ساتھ اللہ کی عبادت کر سکیں۔ مدینہ کی ہجرت کے بعد رسول اللہ ﷺ نے آپ کی مؤاخات (بھائی چارہ) حضرت سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے قائم فرمائی۔ حضرت سعد بن ربیع نے اپنی بے مثال ایثار کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی آدھی جائیداد اور دو بیویوں میں سے ایک کو طلاق دے کر پیشکش کی، لیکن حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ نے شکریہ کے ساتھ انکار کیا اور صرف بازار کا راستہ پوچھا۔ چند ہی دنوں میں آپ نے اپنی تجارتی صلاحیتوں کی بنا پر ایک بار پھر مالی استحکام حاصل کر لیا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی دین اسلام کے لیے بے مثال خدمات سے بھرپور ہے۔ آپ نے تمام غزوات میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شرکت کی، جن میں بدر، احد، خندق، اور فتح مکہ جیسے اہم معرکے شامل ہیں۔ غزوہ احد کے مشکل ترین موقع پر جب مسلمان بکھر گئے تھے، آپ ان چند ثابت قدم صحابہ میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کا دفاع کیا۔ غزوہ تبوک کے موقع پر آپ کو ایک خاص شرف حاصل ہوا جب نماز کا وقت ہوا اور رسول اللہ ﷺ موجود نہ تھے، تو آپ نے مسلمانوں کی امامت فرمائی۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور آپ ﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ کے پیچھے ایک رکعت ادا فرمائی۔ یہ آپ کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز تھا۔

مالی قربانیوں کے میدان میں آپ کا کوئی ثانی نہ تھا۔ آپ نے اپنی تجارت سے بے پناہ دولت کمائی اور اسے دل کھول کر اللہ کی راہ میں خرچ کیا۔ غزوہ تبوک کے موقع پر جب رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو صدقہ کی ترغیب دی تو آپ نے چار ہزار دینار بطور صدقہ پیش کیے، جو اس وقت ایک بہت بڑی رقم تھی۔ ایک موقع پر آپ نے سترہ سو اونٹوں پر لدا ہوا تجارتی قافلہ اللہ کی راہ میں وقف کر دیا۔ آپ نے اپنی زندگی میں کئی غلام آزاد کیے اور مساکین و محتاجوں پر بے دریغ خرچ کیا۔

آپ کو عشرہ مبشرہ میں سے ہونے کا شرف حاصل ہے، یعنی آپ ان دس صحابہ میں سے ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ نے دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی وفات سے قبل جن چھ افراد پر مشتمل شوریٰ قائم کی تھی تاکہ ان میں سے خلیفہ کا انتخاب کیا جائے، اس میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ ایک اہم رکن تھے۔ آپ نے اس شوریٰ میں انتہائی حکمت، عدل اور غیر جانبداری سے کام لیتے ہوئے امت کے لیے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کا انتخاب یقینی بنایا، اور اس طرح خلافت راشدہ کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ نے چند احادیث بھی روایت کی ہیں جو مستند کتب حدیث میں موجود ہیں۔

میراث اور وصال

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ نے 31 ہجری (652 عیسوی) میں، حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں، تقریباً 75 سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ آپ نے اپنی وفات کے وقت بہت زیادہ مال و دولت چھوڑی۔ یہ بھی روایت ہے کہ آپ کی وفات پر آپ کے ترکے میں 1000 اونٹ، 100 گھوڑے، 3000 بکریاں، اور سونے چاندی کی بہت بڑی مقدار شامل تھی۔ اس کے علاوہ آپ نے اپنے مال سے کئی وصیتیں فرمائی تھیں، جن میں اہل بدر میں سے ہر ایک زندہ صحابی کے لیے 400 دینار کی وصیت بھی شامل تھی۔ آپ کی زندگی اور آپ کا مال صرف دنیاوی مقاصد کے لیے نہیں تھا، بلکہ آپ نے اسے دین کی سربلندی اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا، اور اس طرح ایک سچے مسلمان تاجر کی بہترین مثال قائم کی۔ آپ کی سخاوت، تقویٰ، اور دنیا سے بے رغبتی رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح بخاری
  • صحیح مسلم
  • سنن ترمذی
  • سنن نسائی
  • مسند احمد بن حنبل
  • سیرت ابن ہشام
  • تاریخ طبری
  • البدایہ و النہایہ (حافظ ابن کثیر)
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ (ابن اثیر)
  • الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (ابن عبدالبر)
  • طبقات الکبریٰ (ابن سعد)