عمرو بن الجموح رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت عمرو بن الجموح رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق مدینہ منورہ کے معروف قبیلے بنو سلمہ سے تھا، جو انصار کے بڑے قبائل میں سے ایک تھا۔ آپ کا پورا نسب عمرو بن الجموح بن زید بن حرام بن کعب بن غنم بن کعب بن سلمہ الانصاری السلمی ہے۔ آپ اپنے قبیلے کے سرداروں اور معززین میں سے تھے اور آپ کا شمار مدینہ کے سخی اور شریف لوگوں میں ہوتا تھا۔ آپ کی ایک خاص نشانی لنگڑا پن تھی، جس کا ذکر آپ کی زندگی کے کئی اہم واقعات میں ملتا ہے۔ آپ کی اہلیہ کا نام ہند بنت عمرو تھا، اور آپ کے بیٹے معاذ، بشر اور خلاد (رضوان اللہ علیہم اجمعین) تھے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
بعثت نبوی سے قبل حضرت عمرو بن الجموح رضی اللہ تعالی عنہ اپنے قبیلے کے سردار کی حیثیت سے ایک معزز زندگی گزار رہے تھے۔ اس دور میں عرب میں بت پرستی عام تھی اور آپ نے بھی اپنے گھر میں ایک خوبصورت لکڑی کا بت رکھا ہوا تھا جسے وہ "مناف” کہتے تھے اور اس کی خوب دیکھ بھال کرتے تھے۔ مدینہ میں اسلام کی آمد کے بعد آپ کے تینوں بیٹے، معاذ، بشر اور خلاد، اور آپ کی اہلیہ ہند بنت عمرو، مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی دعوت پر اسلام قبول کر چکے تھے۔ وہ اپنے والد سے چھپ کر نمازیں پڑھتے اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے تھے۔ جب آپ کے بیٹوں کو اپنے والد کے بت سے لگاؤ کا علم ہوا، تو انہوں نے ایک تدبیر سوچی۔ وہ رات کو چپکے سے آپ کے بت کو اٹھا کر گندی جگہوں پر پھینک آتے۔ حضرت عمرو بن الجموح رضی اللہ تعالی عنہ صبح اٹھ کر بت کو تلاش کرتے، اسے صاف کرتے اور دوبارہ اپنی جگہ رکھ دیتے۔ کئی بار یہ واقعہ دہرایا گیا۔ بالآخر جب آپ نے دیکھا کہ آپ کا معبود اس طرح گندی جگہوں پر پھینکا جاتا ہے اور اپنی حفاظت بھی نہیں کر سکتا تو آپ کا دل بت پرستی سے متنفر ہو گیا۔ آپ نے اپنے بیٹوں سے اس بارے میں بات کی اور انہیں سچائی پر پایا۔ اس کے بعد آپ نے اسلام قبول کر لیا اور سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت عمرو بن الجموح رضی اللہ تعالی عنہ کی سب سے نمایاں خدمت اور کارنامہ غزوہ احد میں ان کی شرکت اور شہادت ہے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ طبعی طور پر لنگڑے تھے، اور اس لنگڑے پن کی وجہ سے شرعی طور پر جہاد میں شریک نہ ہونے کی رخصت رکھتے تھے۔ جب غزوہ احد کی تیاریاں شروع ہوئیں، تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے جہاد میں شرکت کا پختہ ارادہ کر لیا۔ آپ کے بیٹوں نے، آپ پر شفقت کرتے ہوئے، آپ کو روکنے کی کوشش کی اور کہا کہ اللہ تعالی نے آپ کو معذور ہونے کی وجہ سے جہاد میں شرکت سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ لیکن آپ کا جذبہ ایمانی اس قدر پختہ تھا کہ آپ نے فرمایا: "اللہ کی قسم! میں چاہتا ہوں کہ اپنے اس لنگڑے پاؤں سے جنت میں قدم رکھوں!”
آپ اپنی اہلیہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: "یا رسول اللہ! میرے بیٹے مجھے جہاد میں جانے سے روکتے ہیں۔ حالانکہ میں اللہ کی راہ میں شہید ہونا چاہتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اپنے اس لنگڑے پاؤں سے جنت میں چلوں۔” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم پر کوئی فرض نہیں، اللہ تعالی نے تمہیں معذور قرار دیا ہے۔” لیکن جب آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی شدید خواہش کا اظہار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جذبے کو دیکھتے ہوئے انہیں اجازت دے دی اور فرمایا: "اللہ تعالی نے تمہیں رخصت دی ہے، لیکن اگر تم جاؤ تو اللہ تمہیں شہادت نصیب کرے گا۔” پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بیٹوں سے کہا: "اسے نہ روکو، ہو سکتا ہے اللہ اسے شہادت نصیب کرے۔” آپ رضی اللہ تعالی عنہ خوشی خوشی میدان جنگ کی طرف روانہ ہوئے اور اعلان کیا: "اللہ کی قسم! میں اپنے لنگڑے پن کے ساتھ بھی جنت میں جاؤں گا!” غزوہ احد کے دن آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے کمال بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا، اور اسی جنگ میں آپ کے بیٹے خلاد رضی اللہ تعالی عنہ بھی شہید ہوئے۔
میراث اور وصال
حضرت عمرو بن الجموح رضی اللہ تعالی عنہ نے سن 3 ہجری میں غزوہ احد کے موقع پر جام شہادت نوش فرمایا۔ آپ کی شہادت اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ ایمان کی قوت اور اللہ تعالی کی رضا کی طلب جسمانی کمزوریوں پر غالب آ جاتی ہے۔ جب غزوہ احد کے بعد شہداء کو دفن کیا جا رہا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ حضرت عمرو بن الجموح اور ان کے گہرے دوست حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام (جو حضرت جابر بن عبداللہ کے والد تھے) کو ایک ہی قبر میں دفن کیا جائے۔ یہ دونوں حضرات آپس میں بہت گہرے دوست تھے اور دونوں نے شہادت کی تمنا کی تھی۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی اور بالخصوص آپ کا غزوہ احد میں شرکت کا غیر متزلزل ارادہ، بعد کی نسلوں کے لیے ایمان، جہاد اور اللہ تعالی کی راہ میں ہر قربانی دینے کی ایک لازوال مثال بن گیا۔ آپ کا نام ان عظیم صحابہ کرام میں شامل ہے جنہوں نے اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
مستند حوالہ جات
- سیرت ابن ہشام
- البدایہ والنہایہ از ابن کثیر
- طبقات ابن سعد
- دلائل النبوة از بیہقی
- اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ از ابن الاثیر
- الاصابہ فی تمییز الصحابہ از ابن حجر عسقلانی
