عمارہ بن حزم رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت عمارہ بن حزم رضی اللہ تعالی عنہ کا مکمل نام عمارہ بن حزم بن زید بن ثعلبہ بن عبید بن غنم بن مالک بن النجار الانصاری الخزرجی تھا۔ آپ کا تعلق انصارِ مدینہ کے مشہور قبیلہ بنو نجار سے تھا، جو خزرج کی ایک شاخ تھی۔ یہ قبیلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ننھیالی رشتہ داروں میں سے تھا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ماجد حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب کی والدہ، حضرت آمنہ بنت وہب کے ننھیالی تعلقات اس قبیلے سے تھے، اور ہجرت مدینہ کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی قبیلے کے ایک صحابی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر قیام فرمایا تھا)۔ آپ کو "الانصاری الخزرجی” کے لقب سے پکارا جاتا تھا جو آپ کے آبائی قبیلے اور مدینہ سے تعلق کی نشاندہی کرتا ہے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت عمارہ بن حزم رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ منورہ کے ان خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہوں نے اسلام کی ابتدائی پکار سنی۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے قبل ہی مدینہ میں حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ کی دعوت پر اسلام قبول کر لیا تھا۔ حضرت مصعب رضی اللہ تعالی عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کو قرآن سکھانے اور اسلام کی تعلیمات پھیلانے کے لیے بھیجا تھا، اور ان کی محنت سے مدینہ میں اسلام تیزی سے پھیل گیا۔ حضرت عمارہ ان ابتدائی مسلمانوں میں سے تھے جنہوں نے بیعت عقبہ ثانیہ کے بعد اسلام کو اپنایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مدینہ میں ایک مضبوط اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ آپ نے مدینہ میں دین کی ترویج اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے ہی ماحول کو سازگار بنانے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت عمارہ بن حزم رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی پوری زندگی اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزاری۔ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام بڑے غزوات میں شرکت کی، جن میں غزوہ بدر، غزوہ احد، اور غزوہ خندق شامل ہیں۔ میدان جنگ میں آپ نے شجاعت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے آپ کو اپنی قوم بنو نجار کے نقباء (سرداران یا نمائندوں) میں سے مقرر فرمایا تھا، جس سے آپ کے قبیلہ میں آپ کی اہمیت اور اثر و رسوخ کا اندازہ ہوتا ہے۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث بھی روایت کیں، جو دین کے علم کو آئندہ نسلوں تک پہنچانے کا ذریعہ بنیں۔ ان میں ایک حدیث یہ بھی ہے جس میں مسجد میں اول وقت پہنچنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ آپ نے خلفائے راشدین کے دور میں بھی اسلامی ریاست کی خدمات جاری رکھیں اور دین کی سربلندی کے لیے کوشاں رہے۔

میراث اور وصال

حضرت عمارہ بن حزم رضی اللہ تعالی عنہ ان عظیم صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زندگی گزاری اور ہر مشکل گھڑی میں آپ کا ساتھ دیا۔ آپ کی زندگی ایمان، جہاد اور تقویٰ کا حسین امتزاج تھی۔ آپ نے اپنی زندگی کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کے مطابق ڈھالا اور مسلمانوں کے لیے ایک بہترین نمونہ چھوڑا۔ آپ نے کئی احادیث روایت کیں جو آج بھی ہمارے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی اسلامی ریاست کی خدمت جاری رکھی اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں وفات پائی۔ آپ کا وصال اسلامی تاریخ کے ابتدائی سنہری دور میں ہوا، جب دین کی بنیادیں مضبوط ہو رہی تھیں۔ آپ کی یادگار آپ کا نیک عمل، دین کے لیے خدمات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو آگے بڑھانے میں آپ کا کردار ہے۔

مستند حوالہ جات

  • الطبقات الکبریٰ از ابن سعد
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن الاثیر
  • الاصابہ فی تمییز الصحابہ از ابن حجر عسقلانی
  • سیر اعلام النبلاء از امام ذہبی
  • البدایہ والنہایہ از ابن کثیر
  • مسند احمد بن حنبل