عروہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

عروہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق طائف کے قبیلہ ثقیف کی شاخ بنو مالک سے تھا۔ وہ اپنی قوم کے سرداروں اور اشراف میں سے تھے۔ ان کا پورا نام عروہ بن مسعود بن معتب بن مالک الثقفی تھا، اور انہیں قبیلہ ثقیف کا سردار (سید ثقیف) مانا جاتا تھا۔ وہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ کے چچا اور ابو محجن ثقفی کے بھائی تھے۔ حضرت عروہ رضی اللہ تعالی عنہ نہایت دانشمند، باوقار اور اپنی قوم میں ممتاز حیثیت کے حامل تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں ان کی تعریف کرتے ہوئے انہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مشابہ قرار دیا تھا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ اپنی قوم کے سرکردہ رہنما تھے۔ نبوت کے اوائل میں جب قریش مکہ نے مسلمانوں سے حدیبیہ میں صلح کی کوشش کی، تو قریش کی جانب سے مذاکرات کے لیے کئی وفود بھیجے گئے، جن میں ایک وفد کی قیادت عروہ بن مسعود نے کی تھی۔ حدیبیہ کے موقع پر انہوں نے مسلمانوں کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ عقیدت اور ادب کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ انہوں نے اس کا تذکرہ قریش سے کرتے ہوئے کہا تھا: "اے لوگو! میں نے بہت سے بادشاہوں کی حکومتیں دیکھی ہیں، میں نے قیصر و کسریٰ اور نجاشی کی درباریں دیکھی ہیں، لیکن خدا کی قسم! میں نے کبھی کسی بادشاہ کو نہیں دیکھا جس کے ساتھی اس کی ایسی تعظیم کرتے ہوں جیسے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھی ان کی تعظیم کرتے ہیں۔ خدا کی قسم! وہ کبھی تھوکتے ہیں تو ان کا تھوک کسی صحابی کے ہاتھ میں گرتا ہے جسے وہ اپنے چہرے پر مل لیتے ہیں۔” ان کے ان مشاہدات نے اگرچہ انہیں فوری اسلام کی طرف راغب نہیں کیا، لیکن یہ ان کے دل میں اسلام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا بیج بونے کا سبب بنے۔

فتح مکہ کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا تو طائف والے سخت مزاحمت کر رہے تھے۔ اس کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاصرہ ختم کر دیا، تو کچھ عرصے بعد عروہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ اپنی قوم کے پاس واپس جا کر انہیں اسلام کی دعوت دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خبردار کیا کہ ان کی قوم انہیں قبول نہیں کرے گی، لیکن عروہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اصرار کیا اور کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ان کی قوم ان کی عزت کرتی ہے اور ان کی بات ضرور سنے گی۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی قوم کی ہدایت کا فریضہ ادا کرنے کا تہیہ کیا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر طائف واپس لوٹے۔ طائف پہنچ کر انہوں نے فخر و وقار کے ساتھ اپنی قوم کو توحید اور اسلام کی دعوت دینا شروع کی۔ وہ اپنی قوم کے معزز اور محترم شخص تھے، اس لیے انہیں امید تھی کہ لوگ ان کی بات ضرور مانیں گے۔

حضرت عروہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے اپنے گھر کی چھت یا کسی اونچے مقام پر کھڑے ہو کر باآواز بلند اللہ کی وحدانیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اعلان کیا۔ مگر ان کی قوم میں سے کچھ سرکش اور جاہل افراد نے ان کی بات کو سختی سے رد کر دیا اور ان پر تیروں کی بارش کر دی۔ اس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ اپنی شہادت سے قبل انہوں نے اپنی قوم کے لیے دعا کی کہ اللہ انہیں ہدایت دے۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ اللہ کی طرف سے ان کے لیے ایک اعزاز اور شہادت ہے اور مجھے اس پر کوئی افسوس نہیں۔ انہوں نے اپنے متعلق فرمایا: "یہ اللہ کی طرف سے ایک اعزاز ہے اور وہ شہادت ہے جو اللہ نے مجھے دی، میں اس پر خوش ہوں۔” اس کے بعد وہ جامِ شہادت نوش فرما گئے۔

میراث اور وصال

حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت ہجرت کے نویں سال، فتح مکہ اور غزوۂ طائف کے بعد ہوئی۔ جب ان کی شہادت کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "عروہ کی مثال وہی ہے جو صاحب یاسین کی تھی۔ انہوں نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا اور قوم نے انہیں شہید کر دیا۔” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شہادت کو ایک عظیم قربانی قرار دیا اور اس عمل کو قرآن میں مذکور اس شخص کی قربانی سے تشبیہ دی جس نے اپنی قوم کو ہدایت کی دعوت دی اور اس کی پاداش میں شہید کر دیا گیا۔

حضرت عروہ رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت اگرچہ ایک المناک واقعہ تھا، لیکن اس نے طائف والوں کے دلوں پر گہرا اثر ڈالا۔ ان کی قوم نے جب یہ دیکھا کہ ان کا سردار اور رہبر محض اللہ کے دین کی خاطر اپنی جان نچھاور کر گیا، تو ان کے دلوں میں نرمی پیدا ہوئی۔ اس واقعہ کے بعد طائف سے ایک وفد مدینہ منورہ حاضر ہوا اور مکمل طور پر اسلام قبول کر لیا۔ اس طرح حضرت عروہ رضی اللہ تعالی عنہ کی قربانی قبیلہ ثقیف کے اسلام قبول کرنے کا ذریعہ بنی۔ ان کی زندگی جرات، استقامت اور دعوتِ حق کے لیے بے مثال قربانی کی ایک روشن مثال ہے۔ انہیں ان چند صحابہ کرام میں سے ایک ہونے کا اعزاز حاصل ہے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں اللہ کی راہ میں اپنی جان نچھاور کی۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح مسلم، کتاب الفتن و اشراط الساعۃ
  • سیرت النبی لابن ہشام، ذکر قدوم وفد ثقیف
  • الطبقات الکبریٰ لابن سعد، ذکر عروہ بن مسعود الثقفی
  • البدایہ والنہایہ لابن کثیر، ذکر عروہ بن مسعود الثقفی
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ لابن الاثیر، ذکر عروہ بن مسعود الثقفی
  • الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر العسقلانی، ذکر عروہ بن مسعود الثقفی