عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار ان جلیل القدر تابعین اور فقہائے سبعہ مدینہ میں ہوتا ہے جنہوں نے علمِ حدیث، فقہ اور سیرت کو اگلی نسلوں تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ کا پورا نام عروہ بن الزبیر بن العوام القرشی الاسدی ہے اور آپ کی کنیت ابو عبد اللہ تھی۔ آپ کا شجرہ نسب انتہائی معزز اور رسول اللہ ﷺ کے قریب ترین رشتوں سے جڑا ہوا ہے۔

آپ کے والد گرامی حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے حواریوں میں سے تھے اور عشرہ مبشرہ (وہ دس صحابہ جنہیں دنیا میں جنت کی بشارت دی گئی) میں شامل تھے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی بھی تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ حضرت اسماء بنت ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہا ہیں جو ذات النطاقین کے لقب سے مشہور ہیں، اور خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں۔ اس طرح حضرت عروہ رضی اللہ عنہ کا تعلق رسول اللہ ﷺ کے معزز صحابہ اور خانوادہ صدیق سے تھا۔ آپ کی پھوپھی رسول اللہ ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ آپ کے بھائی مشہور صحابی اور خلیفہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما تھے۔

آپ کے نانا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، اور نانی حضرت زینب بنت عبد العزیٰ تھیں۔ دادا حضرت عوام بن خویلد اور دادی رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی حضرت صفیہ بنت عبد المطلب تھیں۔ یہ تمام رشتے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے اسلامی معاشرت کے انتہائی پاکیزہ اور علمی ماحول میں آنکھ کھولی۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کی ولادت مدینہ منورہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں تقریباً 23 ہجری میں ہوئی۔ چونکہ آپ کی پیدائش رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد ہوئی، لہٰذا آپ کو صحابی ہونے کا شرف حاصل نہیں ہوا بلکہ آپ کا شمار جلیل القدر تابعین میں ہوتا ہے یعنی آپ نے صحابہ کرام کی صحبت اٹھائی لیکن رسول اللہ ﷺ کا دیدار نہیں کیا۔

آپ نے آنکھیں ایسے گھرانے میں کھولیں جو علم، تقویٰ اور جہاد کا گہوارہ تھا۔ آپ کی تربیت براہ راست حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا (آپ کی والدہ اور پھوپھی) اور آپ کے والد حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابہ کے زیر سایہ ہوئی۔ آپ کا بچپن مدینہ منورہ کے علمی اور روحانی مرکز میں گزرا جہاں ہر طرف علم و حکمت کی روشنیاں بکھری ہوئی تھیں۔

آپ نے کم عمری ہی سے علم حاصل کرنے کی طرف توجہ دی۔ آپ کی سب سے بڑی استاد اور مرجع آپ کی پھوپھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں، جن سے آپ نے کثیر تعداد میں احادیث اور فقہی مسائل کا علم حاصل کیا۔ آپ نے اپنی والدہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا، والد حضرت زبیر رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور دیگر کبار صحابہ کرام سے حدیث، فقہ اور تفسیر کا علم حاصل کیا۔

آپ نے اپنے آپ کو مکمل طور پر علمِ دین کے حصول کے لیے وقف کر دیا اور مدینہ منورہ کے ان سات فقہاء میں شامل ہوئے جنہیں فقہائے سبعہ مدینہ کہا جاتا ہے۔ آپ کی علمی بصیرت، تقویٰ اور استقامت نے آپ کو تابعین کے درمیان ایک ممتاز مقام عطا کیا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی خدمات اسلامی علوم کے فروغ کے لیے بے مثال ہیں۔

علمِ حدیث اور فقہ

  • آپ مدینہ منورہ کے ان سات بڑے فقہاء میں سے ایک تھے جن پر فقہِ مدینہ کی بنیاد رکھی گئی، اور جن کے اجتہاد اور فتاویٰ کو مستند مانا جاتا تھا۔
  • آپ نے سب سے زیادہ احادیث اپنی پھوپھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیں۔ امام زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیثوں کا سمندر تھے۔” آپ کی روایت کردہ احادیث صحیح بخاری، صحیح مسلم اور دیگر کتبِ حدیث میں بکثرت موجود ہیں۔
  • آپ کو حدیث کے ساتھ ساتھ فقہ پر بھی گہری دسترس حاصل تھی۔ آپ کے فتاویٰ آج بھی فقہی کتابوں میں موجود ہیں اور آپ کا شمار مدینہ کے سب سے بڑے مفتیوں میں ہوتا تھا۔

علمِ مغازی (سیرت)

  • آپ نے مغازی (رسول اللہ ﷺ کی سیرت اور غزوات) کے موضوع پر سب سے پہلے لکھنے والوں میں سے تھے۔ آپ نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی جو اگرچہ اصل صورت میں ہم تک نہیں پہنچی لیکن بعد کے سوانح نگاروں جیسے ابن اسحاق نے اپنی سیرت کی کتابوں میں آپ کے حوالے کثرت سے نقل کیے ہیں۔ آپ کے بیٹے ہشام بن عروہ نے بھی آپ سے سیرت کا علم روایت کیا ہے۔
  • آپ کی کاوشوں نے سیرت نگاری کے فن کو بنیاد فراہم کی اور بعد کے مؤرخین کے لیے راہ ہموار کی۔

عبادت اور تقویٰ

  • حضرت عروہ رضی اللہ عنہ اپنی عبادت، زہد اور تقویٰ میں بھی ممتاز تھے۔ آپ کثرت سے روزے رکھتے اور تہجد پڑھتے تھے۔
  • آپ کی سخاوت بھی مشہور تھی۔ آپ کی کئی ایک زیتون کے باغات تھے جن سے کافی آمدنی ہوتی تھی اور آپ اس کا ایک بڑا حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کر دیا کرتے تھے۔

صبر اور استقامت

  • آپ کی زندگی میں ایک بڑا ابتلاء آیا۔ ایک مرتبہ آپ کو شام کے حکمران عبد الملک بن مروان سے ملاقات کے لیے بلایا گیا۔ راستے میں آپ کے پاؤں میں ایک پھوڑا نکلا جو بڑھتے بڑھتے اس قدر شدید ہوگیا کہ حکیموں نے پاؤں کاٹنے کا مشورہ دیا۔ جب پاؤں کاٹا جارہا تھا تو آپ نے صبر و استقامت کا ایسا مظاہرہ کیا کہ حاضرین حیران رہ گئے۔ اسی سفر میں آپ کے ایک بیٹے کی گھوڑے کے سم تلے آکر وفات ہوگئی۔ آپ نے ان تمام مصائب کو کمال صبر اور رضا بالقضاء کے ساتھ برداشت کیا اور فرمایا: "اے اللہ! میرے چار اعضاء (ہاتھ پاؤں) سلامت تھے، ایک لے لیا۔ میرے سات بیٹے تھے، ایک لے لیا۔ آپ نے جو لے لیا، اس پر بھی آپ کا شکر ہے اور جو عطا فرمایا اس پر بھی آپ کا شکر ہے۔”

میراث اور وصال

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کی علمی اور روحانی میراث عالم اسلام کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گی۔

علمی میراث

  • آپ کے شاگردوں میں امام زہری، آپ کے بیٹے ہشام بن عروہ، نافع (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام) اور بہت سے دیگر عظیم محدثین اور فقہاء شامل ہیں۔ خاص طور پر امام زہری کا آپ سے علم حدیث اور مغازی حاصل کرنا آپ کی علمی گہرائی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
  • آپ کی روایت کردہ احادیث اسلامی فقہ اور حدیث کا ایک اہم حصہ ہیں۔ آپ نے احادیث اور سیرت کو محفوظ کرنے میں جو کردار ادا کیا وہ ناقابل فراموش ہے۔
  • آپ کا شمار فقہائے سبعہ مدینہ میں ہونے کی وجہ سے، آپ کے اجتہادی اقوال اور فتاویٰ نے اسلامی قانون سازی پر گہرا اثر ڈالا ہے۔

وصال

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کا وصال 94 ہجری میں ہوا، بعض روایات میں 93 یا 99 ہجری بھی مذکور ہے، لیکن 94 ہجری زیادہ راجح ہے۔ اس وقت آپ کی عمر تقریباً 71 سال تھی۔ آپ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ علمِ دین کے حصول، تدریس، عبادت اور تقویٰ میں گزارا۔ آپ کو مدینہ منورہ کے مشہور قبرستان جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ آپ کی وفات سے مدینہ منورہ کے علمی حلقوں میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا۔ آپ نے اپنی زندگی کے آخری لمحات تک علم و عمل کا پیغام پھیلایا اور رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے ایک مثالی شخصیت کے طور پر زندہ رہیں گے۔

مستند حوالہ جات

  • سیر اعلام النبلاء از امام ذہبی
  • تاریخ طبری از امام طبری
  • البدایہ والنہایہ از ابن کثیر
  • تہذیب التہذیب از ابن حجر عسقلانی
  • صحیح بخاری
  • صحیح مسلم