عروة إبن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت عروہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق قبیلہ ثقیف سے تھا جو طائف کا ایک معزز اور طاقتور قبیلہ تھا۔ ان کا پورا نام عروہ بن مسعود بن معتب الثقفی تھا۔ وہ اپنے قبیلے کے سرداروں میں سے ایک تھے اور ان کی قوم میں انہیں ‘سید ثقیف’ (ثقیف کا سردار) کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔ ان کی شخصیت میں ذہانت، بصیرت اور غیر معمولی وقار نمایاں تھا۔ وہ حرمتِ نسب اور سماجی مرتبے کے لحاظ سے اپنی قوم میں بلند مقام رکھتے تھے۔ ان کے سسرالی رشتے بھی اہم تھے؛ ایک روایت کے مطابق، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ زینب بنت عبداللہ الثقفیہ ان کی بھتیجی تھیں۔ یہ رشتے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ اپنے دور کے عرب معاشرت میں کتنا بلند مقام رکھتے تھے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت عروہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی طائف میں گزری، جہاں وہ اپنے قبیلے ثقیف کے معاملات میں نمایاں کردار ادا کرتے تھے۔ قبولِ اسلام سے قبل بھی ان کی بصیرت اور دانشمندی کا ایک بڑا ثبوت صلح حدیبیہ کے موقع پر ملتا ہے۔ جب قریش نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مذاکرات کے لیے کئی وفود بھیجے، تو حضرت عروہ کو بھی قریش کی جانب سے سفیر بنا کر بھیجا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے مسلمانوں کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غیر معمولی عقیدت اور محبت کا مشاہدہ کیا۔ جب وہ قریش کے پاس واپس آئے تو انہوں نے ان سے کہا: "اے قریش کے لوگو! میں نے بادشاہوں کا دربار دیکھا ہے، میں نے قیصر و کسریٰ اور نجاشی جیسے بادشاہوں کو دیکھا ہے، لیکن میں نے کسی بادشاہ کے اصحاب کو اس قدر محبت اور احترام سے پیش آتے نہیں دیکھا جتنا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اصحاب ان کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ خدا کی قسم، جب وہ وضو کرتے ہیں تو ان کے وضو کا پانی زمین پر گرنے نہیں دیتے بلکہ اس کو لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب وہ بات کرتے ہیں تو ان کے سامنے اپنی آوازیں پست کر لیتے ہیں اور ان کی تعظیم کی وجہ سے آنکھ بھر کر نہیں دیکھتے۔” یہ گواہی اس وقت دی گئی جب وہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے، اور یہ ان کی غیر جانبدارانہ بصیرت کا ثبوت تھا۔

ان کا قبولِ اسلام فتح مکہ کے بعد اور غزوہ حنین و طائف کے محاصرے کے بعد سن 9 ہجری میں ہوا۔ طائف کے محاصرے کے دوران قبیلہ ثقیف نے مسلمانوں کے خلاف سخت مزاحمت کی۔ جب محاصرہ اٹھا لیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ واپسی کا ارادہ فرمایا۔ اسی دوران حضرت عروہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کر لیا۔ وہ اسلام کی حقانیت سے متاثر ہوئے تھے اور انہوں نے اپنی دانشمندی سے یہ جان لیا تھا کہ اللہ کا دین ہی سچا راستہ ہے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت عروہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کا سب سے نمایاں کارنامہ اور خدمت ان کی اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دینا تھا۔ مدینہ منورہ میں مسلمان ہونے کے بعد انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ طائف واپس جا کر اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خبردار کیا کہ "تمہاری قوم تمہیں قتل کر دے گی،” کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ثقیف کی سرکشی اور شدت پسندی کا علم تھا۔ تاہم، حضرت عروہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنی قوم کے احترام اور اپنی حیثیت پر بھروسا رکھتے ہوئے پختہ یقین کے ساتھ بولے کہ ان کی قوم ان سے اپنے بچوں سے زیادہ محبت کرتی ہے اور انہیں کچھ نہیں کہے گی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لینے کے بعد وہ طائف روانہ ہوئے۔ جب وہ طائف پہنچے تو رات کا وقت تھا، اور وہ صبح سویرے اپنی قوم کے سامنے ظاہر ہوئے۔ انہوں نے اپنے گھر کی چھت پر چڑھ کر اپنی قوم کو جمع کیا اور انہیں اسلام کی دعوت دی۔ انہوں نے بلند آواز سے کلمہ شہادت پڑھا اور اعلان کیا کہ وہ مسلمان ہو گئے ہیں اور انہیں بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ یہ سن کر ان کی قوم ان پر ٹوٹ پڑی۔ قبیلہ ثقیف کے لوگوں نے غصے اور جہالت میں ان پر تیر برسائے اور انہیں شہید کر دیا۔

ان کی شہادت کا یہ واقعہ ان کی عظمت اور اسلام کے لیے ان کی قربانی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جب وہ دم توڑ رہے تھے تو انہوں نے فرمایا: "یہ اللہ کی طرف سے مجھ پر کرامت ہے، یہ میرے لیے سعادت ہے کہ مجھے اسی راستے میں شہادت ملی جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ شہید ہوئے۔” بعض روایات کے مطابق، انہوں نے وصیت کی کہ انہیں ان شہداء کے ساتھ دفن کیا جائے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طائف کے محاصرے میں شہید ہوئے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی شہادت کی خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "عروہ کا اپنی قوم میں مثال ایسی ہے جیسے سورہ یٰسین والے شخص کی مثال اپنی قوم میں تھی۔” یہ اشارہ اس مؤمن کی طرف تھا جس نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا اور وہ لوگ اسے قتل کر بیٹھے۔

میراث اور وصال

حضرت عروہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کا واقعہ اسلام کی تاریخ میں ایک عظیم مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کا وصال سن 9 ہجری میں طائف میں ہوا، جہاں انہوں نے اپنی قوم کے ہاتھوں جام شہادت نوش فرمایا۔ وہ قبیلہ ثقیف کے پہلے شہید کہلائے۔ ان کی شہادت سے قبیلہ ثقیف پر گہرا اثر پڑا۔ یہ واقعہ ان کی آنکھیں کھولنے کا سبب بنا کہ ان کا اپنا سردار، جس کی وہ قدر کرتے تھے، اس نے اسلام کی خاطر اپنی جان تک قربان کر دی ہے۔ چند ہی عرصے بعد قبیلہ ثقیف نے خود ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا اور سب نے اسلام قبول کر لیا۔ اس طرح حضرت عروہ رضی اللہ تعالی عنہ کی قربانی ثقیف کے اسلام قبول کرنے کی راہ ہموار کرنے میں بنیادی کردار ادا کر گئی۔

ان کی میراث دعوتِ دین میں استقامت اور شہادت کی اعلیٰ مثال ہے۔ انہوں نے اپنی جان دے کر یہ ثابت کیا کہ حق کی دعوت دینے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت اور کسی خوف کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ ان کا نام آج بھی ان عظیم شخصیات میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کے لیے بے لوث قربانیاں دیں۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر ان کے الفاظ آج بھی تاریخ میں رقم ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی دیتے ہیں۔

مستند حوالہ جات

  • ابن کثیر، البداية والنهاية، جلد 4، باب غزوة الطائف وحنين.
  • ابن ہشام، السيرة النبوية، باب وفد ثقيف وشهادة عروة بن مسعود.
  • الطبري، تاريخ الرسل والملوك، جلد 3، ذکر حوادث سنة تسع من الهجرة.
  • صحیح بخاری، کتاب الشروط، باب الشروط فی الجهاد والمصالحة مع اہل الحرب.
  • صحیح مسلم، کتاب الجهاد والسیر، باب صلح الحديبية.
  • تفسير ابن كثير، سورة يٰسين، تفسير آية 20-27.