عتبان بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

عتبان بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مکمل نام عتبان بن مالک بن عجلان بن عمرو بن عوف بن مبذول بن عمرو بن غنم بن مازن بن نجار الانصاری الخزرجی تھا۔ آپ کا تعلق مدینہ منورہ کے انصاری قبیلہ خزرج کی شاخ بنو سالم بن عوف سے تھا۔ یہ قبیلہ مدینہ منورہ میں اپنی شرافت اور حیثیت کی وجہ سے ممتاز تھا۔ آپ کو "اہلِ بدر” میں شمار کیا جاتا ہے، یہ وہ عظیم لقب اور اعزاز ہے جو ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو حاصل ہے جنہوں نے غزوہ بدر میں شرکت کی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں جنت کی بشارت دی۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

عتبان بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ منورہ (اس وقت یثرب) میں نبوت سے پہلے پیدا ہوئے اور اپنی قوم بنو سالم کے معزز سرداروں میں سے تھے۔ آپ کا اسلام قبول کرنا ان ابتدائی ایام میں ہوا جب اسلام کی دعوت مدینہ منورہ میں پہنچ چکی تھی۔ بعض روایات کے مطابق، آپ ان خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہوں نے بیعتِ عقبہ (غالباً بیعت عقبہ ثانیہ) میں شرکت کی، جہاں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت و حمایت کا عہد کیا اور اس کے بعد آپ انصار کے ان نمایاں افراد میں سے تھے جنہوں نے ہجرت کے بعد یا اس سے پہلے اسلام قبول کیا۔ آپ اپنی قوم کے امام تھے اور مسجدِ بنو سالم میں نمازوں کی امامت کا فریضہ سرانجام دیتے تھے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

عتبان بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ آپ غزوہ بدر کے ان مقدس صحابہ کرام میں سے ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں اولین جنگ میں شرکت فرمائی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غزوہ احد اور اس کے بعد پیش آنے والے تمام اہم غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حصہ لیا اور شجاعت و بہادری کا مظاہرہ کیا۔

آپ کی ایک بہت نمایاں خدمت اور واقعہ، جو صحیح احادیث میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آپ کے گھر تشریف آوری سے متعلق ہے۔ عتبان بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بینائی کمزور ہو چکی تھی، یا بعض روایات کے مطابق آپ عمر کے آخری حصے میں نابینا ہو گئے تھے۔ آپ کی مسجد اور گھر کے درمیان ایک وادی حائل تھی جو بارش کے موسم میں پانی سے بھر جاتی تھی اور اندھیرا ہونے کی وجہ سے آپ کے لیے مسجد جانا دشوار ہو جاتا تھا۔ اس مشکل کی وجہ سے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ ان کے گھر تشریف لا کر کسی ایک جگہ نماز ادا فرمائیں تاکہ وہ اس جگہ کو اپنا مصلیٰ (نماز پڑھنے کی جگہ) بنا لیں اور اس جگہ نماز پڑھ کر برکت حاصل کریں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی درخواست قبول فرمائی اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ ان کے گھر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت فرمایا کہ وہ کس جگہ نماز پڑھوانا چاہتے ہیں۔ عتبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد عتبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حریرہ (ایک قسم کا شیریں کھانا) سے ضیافت کی۔ اس دوران بعض منافقین کے بارے میں بات چیت ہوئی، جس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص صرف اللہ کی رضا کے لیے "لا الہ الا اللہ” کہے گا، اللہ اس پر جہنم کی آگ حرام کر دے گا۔ یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے صحابہ کے ساتھ شفقت، ان کی ضروریات کا خیال رکھنے اور ان کے گھروں کو برکتوں سے نوازنے کی عکاسی کرتا ہے۔

میراث اور وصال

عتبان بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک طویل عمر پائی اور بیشتر روایات کے مطابق آپ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت تک زندہ رہے۔ آپ کی وفات کی صحیح تاریخ معلوم نہیں، تاہم آپ نے اسلام کی خدمت میں اپنی زندگی بسر کی اور ایک متقی و پرہیزگار صحابی کی حیثیت سے شہرت حاصل کی۔

آپ کی سب سے بڑی میراث آپ کی روایت کردہ احادیث ہیں، خاص طور پر وہ حدیث جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آپ کے گھر تشریف لا کر نماز ادا کرنے کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم سمیت کتبِ حدیث میں موجود ہے اور فقہاء نے اس سے کئی مسائل اخذ کیے ہیں۔ یہ واقعہ نہ صرف ان کے فضائل کو بیان کرتا ہے بلکہ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس قدر اپنے صحابہ کی ضروریات اور تکالیف کا خیال رکھتے تھے۔ عتبان بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک سچے اور فداکار مسلمان کی حیثیت سے یاد رکھے جائیں گے جنہوں نے اپنی زندگی دین کی خدمت میں وقف کر دی اور "اہلِ بدر” ہونے کا عظیم شرف حاصل کیا۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح بخاری (کتاب الصلاة، باب المساجد فی البیوت)
  • صحیح مسلم (کتاب المساجد ومواضع الصلاة)
  • ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ
  • ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ
  • ابن الاثیر، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ
  • الذہبی، سیر اعلام النبلاء
  • الطبری، تاریخ الامم والملوک