عبد اللہ بن سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ
نوٹ: آپ کے سوال میں ‘عبد اللہ بن سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ’ کا ذکر ہے، لیکن اسلامی تاریخ میں اس نام سے کوئی نمایاں صحابی موجود نہیں جن کے تفصیلی حالاتِ زندگی مستند اور مشہور کتب میں دستیاب ہوں۔ تاہم، ‘عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ’ ایک بہت مشہور صحابی ہیں جو سابقہ آسمانی کتب کے عالم تھے اور جنہوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ غالب گمان یہ ہے کہ سوال میں ٹائپنگ کی غلطی ہوئی ہے اور آپ کا اشارہ ‘عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ’ کی طرف ہے۔ اسی مفروضے پر، ذیل میں ‘عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ’ کی مستند سوانح عمری پیش کی جا رہی ہے۔
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ کا اصل نام اسلام قبول کرنے سے پہلے الحصین (حصین) بن سلام تھا۔ آپ قبیلہ بنو قینقاع سے تعلق رکھنے والے بنو اسرائیل کے سرداروں اور علماء میں سے تھے۔ مدینہ منورہ میں آپ کا شمار یہودی مذہب کے جید علماء، فقیہوں اور مذہبی رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ آپ تورات اور دیگر آسمانی صحائف کے بہت بڑے عالم تھے اور اپنے علم و فضل کی وجہ سے یہودیوں میں انتہائی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ آپ کو "حبر الأمة” (امت کا عالم) کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔ جب آپ نے اسلام قبول کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا نام "الحصین” سے تبدیل کر کے "عبد اللہ” رکھا اور آپ کی کنیت ابو یوسف تھی۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ اپنی ابتدائی زندگی میں یہودی مذہب کے ایک ممتاز عالم اور پیشوا تھے۔ آپ مدینہ منورہ میں مقیم تھے اور تورات کا گہرا علم رکھتے تھے۔ تورات میں مذکور آخری نبی کی نشانیوں کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ کو یقین تھا کہ ایک آخری نبی کا ظہور ہونے والا ہے جو مدینہ کی طرف ہجرت کرے گا۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے، تو حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ کو اس کی اطلاع ملی۔ اس وقت آپ اپنے باغ میں کھجور توڑ رہے تھے۔ خبر سنتے ہی آپ فوراً نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ کی نشانیوں کو پرکھ سکیں۔ آپ نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں اور لوگ آپ کے گرد جمع ہیں۔ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو غور سے دیکھا اور اسی لمحے جان لیا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے کا نہیں ہو سکتا۔
آپ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین سوال کیے جن کا جواب انبیاء کرام کے علاوہ کوئی اور نہیں دے سکتا تھا:
- قیامت کی پہلی نشانی کیا ہے؟
- اہلِ جنت کا پہلا کھانا کیا ہو گا؟
- بچے اپنے ماں باپ میں سے کسی ایک سے مشابہت کیوں اختیار کرتے ہیں؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی جبریل علیہ السلام نے مجھے ان سوالوں کے جوابات بتائے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
- قیامت کی پہلی نشانی ایک آگ ہے جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف ہانکے گی (یا مغرب سے مشرق کی طرف ہانکے گی)۔
- اہلِ جنت کا پہلا کھانا مچھلی کے جگر کا ٹکڑا (زیادہ گوشت) ہو گا۔
- بچے کے مشابہت اختیار کرنے کا سبب یہ ہے کہ جب مرد و عورت مباشرت کرتے ہیں اور مرد کا پانی عورت کے پانی پر سبقت لے جاتا ہے تو بچہ مرد سے مشابہ ہوتا ہے، اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر سبقت لے جاتا ہے تو بچہ عورت سے مشابہ ہوتا ہے۔
یہ جوابات سن کر حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ نے فوراً کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام الحصین سے بدل کر عبد اللہ رکھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہودیوں سے میرے بارے میں دریافت کریں کہ وہ میرے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں، مگر انہیں میرے اسلام لانے کا علم نہ ہو۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے پوچھا تو انہوں نے عبد اللہ بن سلام کی خوب تعریف کی اور انہیں اپنا سردار اور عالم قرار دیا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بتایا کہ عبد اللہ بن سلام نے اسلام قبول کر لیا ہے، تو یہودی کہنے لگے: "وہ جھوٹا ہے، برائیوں کا گڑھ ہے اور بدکار ہے۔” اس پر حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ مسجد سے باہر آئے اور کہا: "اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو بتایا تھا کہ یہودی ایسے ہی ہیں۔” آپ کا اسلام قبول کرنا یہودیوں کے لیے ایک بڑا صدمہ تھا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنی تمام زندگی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں گزاری۔ آپ اسلام کے پہلے یہودی عالم تھے جنہوں نے صداقت اور حق کی خاطر اپنے آباؤ اجداد کے دین کو چھوڑ کر دینِ اسلام قبول کیا۔ آپ کی خدمات درج ذیل ہیں:
- علمی خدمات: آپ تورات اور سابقہ آسمانی کتابوں کے گہرے عالم تھے۔ اسلام لانے کے بعد آپ نے اس علم کو اسلام کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا۔ آپ نے یہودیوں کے شکوک و شبہات دور کرنے اور انہیں اسلام کی دعوت دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
- قرآن میں ذکر: مفسرین کی اکثریت کا ماننا ہے کہ سورۃ الاحقاف کی آیت 10 اور سورۃ الرعد کی آیت 43 میں آپ ہی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: "کہو، بھلا تمہارا کیا خیال ہے، اگر یہ (قرآن) اللہ کی طرف سے ہو اور تم اس کا انکار کرو، حالانکہ بنی اسرائیل کا ایک گواہ اسی جیسی چیز کی گواہی دے چکا ہے اور وہ ایمان لے آیا ہے، اور تم نے تکبر کیا ہے، تو کیا اللہ ایسے ظالموں کو ہدایت دیتا ہے؟”
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں فرمایا: "جس شخص کو جنتی شخص کو دیکھنا ہو، وہ عبد اللہ بن سلام کو دیکھ لے۔” (صحیح بخاری، صحیح مسلم) یہ آپ کے عظیم مرتبے کی دلیل ہے۔
- احادیث کی روایت: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کیں، جن میں قیامت کی نشانیاں اور جنت کی نعمتوں سے متعلق روایات شامل ہیں۔
- دیانت اور صداقت: آپ اپنی دیانت، صداقت اور حق گوئی کے لیے مشہور تھے۔ آپ نے کبھی حق بات کہنے سے گریز نہیں کیا۔
میراث اور وصال
حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ آپ نے اپنی باقی زندگی مدینہ منورہ میں بسر کی اور اہل علم و فضل میں سے شمار ہوتے رہے۔ آپ کے بیٹے یوسف بن عبد اللہ بن سلام بھی ایک جلیل القدر تابعی اور محدث تھے۔
حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ کا وصال حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں، تقریباً 43 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوا۔ آپ نے ایک ایسی زندگی گزاری جو حق کی تلاش اور اس پر ثابت قدمی کا عملی نمونہ تھی۔ آپ کی زندگی اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ علم اور سچائی کی تلاش کرنے والا شخص بالآخر حق کو پا لیتا ہے۔
مستند حوالہ جات
- صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب مناقب عبد الله بن سلام رضي الله عنه
- صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابة، باب فضائل عبد الله بن سلام رضي الله عنه
- سیرت ابن ہشام، ذكر إسلام عبد الله بن سلام
- الاصابہ فی تمییز الصحابہ (ابن حجر عسقلانی)، ذکر عبد الله بن سلام
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ (ابن اثیر)، ذکر عبد الله بن سلام
- الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (ابن عبدالبر)، ذكر عبد الله بن سلام
- البدایہ والنہایہ (ابن کثیر)، الجزء الثالث والرابع (مختصر سیرت الرسول)
- تاریخ طبری، ذكر إسلام عبد الله بن سلام
