عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالی عنہ کا مکمل نام عبد اللہ بن رواحہ بن ثعلبہ بن امرئ القیس بن عمرو بن امرئ القیس الاکبر الخزرجی تھا۔ آپ کا تعلق مدینہ منورہ کے مشہور قبیلہ بنو خزرج کی شاخ بنو حارثہ سے تھا۔ آپ کی کنیت ابو محمد یا ابو عمرو بیان کی جاتی ہے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ ان چند جلیل القدر صحابہ کرام میں سے تھے جو اپنی شاعری، خطابت اور بے مثال شجاعت کے باعث نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ انہیں "شاعر رسول” (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شاعر) کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے اور بعض اوقات "سید الشعراء” (صحابہ کرام میں شعراء کے سردار) بھی کہا جاتا ہے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ اپنی قوم کے معزز اور سرکردہ افراد میں سے تھے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
مدینہ منورہ میں آنکھ کھولنے والے عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی جوانی جاہلیت کے دور میں گزاری، لیکن جب اسلام کی کرنیں مدینہ پہنچیں تو آپ نے فوری طور پر اسے قبول کر لیا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ ان پہلے انصار میں شامل تھے جنہوں نے مکہ مکرمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور اسلام قبول کیا۔ آپ نے بیعتِ عقبہ اولیٰ میں حصہ لیا اور اس کے بعد بیعتِ عقبہ ثانیہ کے بھی بارہ نقباء میں سے ایک تھے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قبیلے کی نمائندگی کے لیے منتخب فرمایا تھا۔ یہ آپ کی قوم میں آپ کے مقام اور اعتماد کا بین ثبوت تھا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اس بیعت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر ایمان، اطاعت اور نصرت کی قسم کھائی اور تمام مشرکانہ رسم و رواج کو ترک کر دیا۔ آپ کا قبولِ اسلام نہ صرف آپ کی ذاتی زندگی میں انقلاب لایا بلکہ مدینہ میں اسلام کی مضبوط بنیادیں قائم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی سربلندی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزاری۔ آپ کے نمایاں کارناموں میں سب سے اہم آپ کی شاعری تھی جس نے جہاد فی سبیل اللہ اور مسلمانوں کے جذبۂ ایمانی کو پروان چڑھایا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ اپنی شاعری کے ذریعے کفار کے الزامات کا جواب دیتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے اور مسلمانوں کو حق کی راہ میں قربانی دینے پر ابھارتے تھے۔
آپ نے تمام بڑے غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ بشانہ حصہ لیا جن میں غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ خندق، اور صلح حدیبیہ شامل ہیں۔ ہر معرکے میں آپ نے ثابت قدمی اور بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا۔
غزوہ خیبر کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی پیداوار کا تخمینہ لگانے اور محصول مقرر کرنے کے لیے وفد بھیجا تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو اس کام کے لیے منتخب فرمایا۔ آپ نے یہودیوں کی بددیانتی کے باوجود انصاف کے ساتھ اپنا فریضہ انجام دیا۔
آپ کی زندگی کا سب سے بڑا اور یادگار واقعہ غزوہ موتہ (8 ہجری) ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر شام کی طرف روانہ فرمایا اور زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ کو امیر مقرر کیا، فرمایا کہ اگر زید شہید ہو جائیں تو جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ امیر ہوں گے، اور اگر جعفر بھی شہید ہو جائیں تو عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالی عنہ امیر ہوں گے۔ یہ اسلامی تاریخ کا پہلا موقع تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیرونی جنگ کے لیے یکے بعد دیگرے تین امیر مقرر فرمائے۔
جب زید بن حارثہ اور جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہما یکے بعد دیگرے شہید ہو گئے تو علم عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالی عنہ نے سنبھالا۔ آپ میدانِ جنگ میں داخل ہونے سے پہلے کچھ لمحے ہچکچائے، انہیں اپنی جان کی محبت اور شہادت کی خواہش کے درمیان کشمکش محسوس ہوئی، لیکن پھر آپ نے اپنے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
"اے نفس! کیا تو شہادت سے گریزاں ہے؟ اگر میں جنگ کے دوران بستر پر بھی لیٹ جاؤں، تو بھی موت میرے گلے لگ جائے گی۔ آج تجھے جانا ہے اور اللہ کا خوف ہی باقی رہے گا۔”
ان اشعار کے ساتھ آپ نے دشمن پر حملہ کر دیا اور بے مثال بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ یوں آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے عین مطابق موتہ کے میدان میں تیسرے شہید ہونے والے سپہ سالار بنے۔
میراث اور وصال
عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالی عنہ نے 8 ہجری میں غزوہ موتہ کے دوران جامِ شہادت نوش فرمایا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں وحی کے ذریعے اس کی خبر ملی تو آپ نے صحابہ کرام کو مسجد نبوی میں جمع فرما کر زید، جعفر اور پھر عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالی عنہم کی شہادت کی خبر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں شہداء کے لیے دعائیں فرمائیں۔
عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی شاعری، اپنی بے لوث خدمات، اپنی شجاعت اور دین کے ساتھ اپنی والہانہ محبت کے ذریعے اسلام کی تاریخ میں ایک لازوال نقش چھوڑا۔ آپ کی شاعری کو سیرت کی کتب میں خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آپ کا نام تاریخِ اسلام کے ان شہداء میں شامل ہے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے دین کی بنیادوں کو مستحکم کیا۔ آپ کی میراث صرف آپ کی شاعری تک محدود نہیں بلکہ آپ کا کردار، آپ کا جہادی جذبہ اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آپ کی والہانہ محبت ہمیشہ مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔
مستند حوالہ جات
- صحیح بخاری (کتاب المغازی، باب غزوۃ مؤتۃ)
- صحیح مسلم (کتاب فضائل الصحابۃ، باب فضائل جعفر بن ابی طالب و زید بن حارثہ و عبد اللہ بن رواحہ)
- سیرت ابن ہشام (جلد اول و دوم، بیعت عقبہ، غزوات)
- تاریخ طبری (تاریخ الامم والملوک، الجزء الثانی، باب غزوات مؤتۃ)
- البدایہ والنہایہ از ابن کثیر (الجزء الرابع، باب غزوات مؤتۃ)
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن الاثیر (جلد ثالث، ترجمہ عبد اللہ بن رواحہ)
- الاصابہ فی تمییز الصحابہ از ابن حجر عسقلانی (جلد رابع، ترجمہ عبد اللہ بن رواحہ)
