عبد اللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت عبد اللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی بن سعید بن سہم قرشی سہمی رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق قریش کے معزز قبیلے بنو سہم سے تھا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا شجرہ نسب کعب بن لوئی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شجرہ نسب سے جا ملتا ہے۔ آپ کا لقب یا کنیت عام طور پر کسی خاص نام سے مشہور نہیں ہے، البتہ آپ اپنے پورے نام "عبد اللہ بن حذافہ سہمی” ہی سے جانے جاتے ہیں، اور آپ کی پہچان آپ کے عظیم کارناموں سے ہے۔ آپ کا خاندان اسلام سے قبل بھی مکہ میں ایک معروف حیثیت رکھتا تھا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت عبد اللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ تعالی عنہ ان خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہوں نے اسلام کی ابتدائی دعوت پر لبیک کہا۔ آپ السابقون الاولون (سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں) میں سے تھے۔ مکہ کے دورِ ابتلا میں جب مسلمانوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم تھا، آپ بھی ان تکالیف سے دوچار ہوئے۔ آپ نے حبشہ کی طرف پہلی ہجرت میں شرکت کی، جہاں آپ نے کچھ عرصہ قیام کیا۔ بعد ازاں، آپ مکہ واپس آئے اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ آپ نے اپنی زندگی کا آغاز خالص توحید اور اللہ کی اطاعت کے لیے وقف کر دیا تھا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت عبد اللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی کئی جرأت مندانہ اور ایمان افروز واقعات سے بھری ہوئی ہے۔
- کسریٰ پرویز کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پہنچانا: سنہ 6 ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف بادشاہوں اور سربراہان کو اسلام کی دعوت کے خطوط ارسال فرمائے۔ کسریٰ (خسرو پرویز)، جو فارس کا شہنشاہ تھا، اسے خط پہنچانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالی عنہ کا انتخاب فرمایا۔ یہ ایک انتہائی خطرناک اور اہم ذمہ داری تھی کیونکہ اس وقت کی دو بڑی طاقتوں میں سے ایک فارس تھا اور وہاں کے بادشاہ کا مزاج بھی انتہائی متکبرانہ تھا۔ حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نہایت جرأت مندی سے یہ خط کسریٰ کے دربار میں پیش کیا۔ کسریٰ نے غرور اور تکبر کے عالم میں اس خط کو پھاڑ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں توہین آمیز کلمات کہے۔ حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ صورتحال واپس آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ "اے اللہ! جس طرح کسریٰ نے میرے خط کو ٹکڑے ٹکڑے کیا ہے، اسی طرح اس کی بادشاہت کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔” بعد ازاں، کسریٰ کا بیٹا شیرویہ نے اسے قتل کر دیا اور فارس کی سلطنت ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ یہ واقعہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ کی بے مثال جرأت اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے وفاداری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
- رومیوں کی قید اور استقامت: حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں اسلامی لشکر نے رومی سلطنت کے خلاف جہاد کیا۔ ایک معرکے کے دوران حضرت عبد اللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالی عنہ کو رومیوں نے قید کر لیا۔ رومی بادشاہ (اکثر ہراکلیئس یا اس کا کوئی جرنیل بتایا جاتا ہے) نے انہیں عیسائیت قبول کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ پہلے اس نے انہیں عمدہ کھانے اور شاہی مراعات کی پیشکش کی، لیکن آپ نے انکار کر دیا۔ پھر انہیں بھوکا پیاسا رکھا گیا اور عیسائیت قبول کرنے کا کہا گیا، تب بھی آپ ثابت قدم رہے۔ جب کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی تو رومی بادشاہ نے انہیں دھمکی دی کہ اگر انہوں نے دین تبدیل نہ کیا تو انہیں کھولتے ہوئے تیل کے کڑاہ میں ڈال دیا جائے گا۔ بادشاہ نے ایک مسلمان قیدی کو بلا کر ان کے سامنے کھولتے ہوئے تیل میں ڈال دیا، جس سے وہ فوراً شہید ہو گیا۔ پھر حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ کو اس کڑاہ کے قریب لایا گیا، اس وقت آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ بادشاہ نے سمجھا کہ وہ ڈر گئے ہیں، لیکن آپ نے فرمایا: "میں اس لیے نہیں رو رہا کہ مجھے موت کا ڈر ہے، بلکہ میری تمنا یہ ہے کہ کاش میرے جسم میں اتنی جانیں ہوتیں جتنے میرے جسم پر بال ہیں، اور میں ایک ایک جان اللہ کی راہ میں اسی طرح قربان کرتا۔” بادشاہ ان کی یہ بے مثال استقامت دیکھ کر حیران رہ گیا۔ بالآخر بادشاہ نے کہا کہ اگر تم میرا سر چوم لو تو میں تمہیں اور تمہارے ساتھ تمام مسلمان قیدیوں کو آزاد کر دوں گا۔ حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: "میں صرف اس شرط پر تمہارا سر چوموں گا کہ میرے ساتھ تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کیا جائے۔” بادشاہ نے یہ شرط قبول کر لی اور آپ کا سر چومنے کے بعد تمام قیدیوں کو رہا کر دیا۔ جب آپ مدینہ واپس تشریف لائے اور یہ واقعہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو سنایا گیا تو آپ نے فرمایا: "ہر مسلمان کا حق ہے کہ وہ عبد اللہ بن حذافہ کے سر کو چومے، اور میں سب سے پہلے چومتا ہوں!” یہ واقعہ آپ کے پختہ ایمان، صبر اور اللہ پر توکل کی عظیم مثال ہے۔
- دیگر غزوات میں شرکت: آپ نے غزوہ بدر، احد، خندق سمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اکثر غزوات اور سرایا میں شرکت کی اور اپنی شجاعت و بہادری کا مظاہرہ کیا۔
میراث اور وصال
حضرت عبد اللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک طویل اور پرعزم زندگی گزاری۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام کے لیے بے پناہ خدمات انجام دیں اور ہر محاذ پر ثابت قدم رہے۔ آپ کا وصال حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں مصر میں ہوا۔ آپ کی زندگی مسلمانوں کے لیے استقامت، جرأت، اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت کی ایک درخشاں مثال ہے۔ آپ نے اپنی جرات، ایمان اور ثابت قدمی کے ذریعے اسلامی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے رقم کروایا۔
مستند حوالہ جات
- سیرت ابن ہشام (السيرة النبوية لابن هشام)
- تاریخ طبری (تاریخ الرسل والملوک)
- البدایہ والنہایہ (البداية والنهاية لابن کثیر)
- اسد الغابہ فی معرفتہ الصحابہ (ابن الاثیر)
- الاصابہ فی تمییز الصحابہ (ابن حجر عسقلانی)
- دلائل النبوة (امام بیہقی)
