عبد اللہ بن جبیر رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت عبد اللہ بن جبیر رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام عبد اللہ بن جبیر بن النعمان بن أمية الأنصاري الأوسي الحارثي تھا۔ آپ کا تعلق مدینہ منورہ کے ایک معزز انصاری قبیلے، بنو ثعلبہ سے تھا، جو کہ قبیلہ اوس کی ایک شاخ تھی۔ آپ کا شمار جلیل القدر صحابہ کرام میں ہوتا ہے۔ آپ کے بھائی، حضرت خوات بن جبیر رضی اللہ تعالی عنہ بھی عظیم صحابی تھے۔ کتبِ سیرت میں آپ کی کوئی خاص کنیت یا لقب مشہور نہیں ہے، تاہم آپ کو غزوہ احد کے ان نمایاں شہداء میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے اطاعتِ رسول اور ثابت قدمی کی بے مثال داستان رقم کی۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت عبد اللہ بن جبیر رضی اللہ تعالی عنہ ان خوش نصیب مدنی انصار میں سے تھے جنہوں نے ہجرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپ ان ستر انصاری افراد میں شامل تھے جنہوں نے مکہ مکرمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت عقبہ ثانیہ (دوسری بیعت عقبہ) فرمائی تھی۔ یہ بیعت اسلامی تاریخ کا ایک سنگ میل تھی جس نے مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست کی داغ بیل ڈالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا راستہ ہموار کیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ ہجرت کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے درمیان رشتہ مواخات (بھائی چارہ) قائم فرمایا۔ اس موقع پر حضرت عبد اللہ بن جبیر رضی اللہ تعالی عنہ کو مہاجر صحابی حضرت طفیل بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ کا اخوی (بھائی) بنایا گیا، جو اسلامی بھائی چارے اور ایثار کی ایک روشن مثال ہے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت عبد اللہ بن جبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام کی سر بلندی کے لیے متعدد غزوات میں شرکت فرمائی۔ آپ غزوہ بدر میں بھی شریک تھے، جہاں آپ نے کفارِ مکہ کے خلاف شجاعت اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔
تاہم، آپ کا سب سے نمایاں کارنامہ اور اسلامی تاریخ میں آپ کی پہچان غزوہ احد (شوال 3 ہجری) کے موقع پر قائم ہوئی۔ اس غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو پچاس تیر اندازوں کا امیر مقرر فرمایا اور انہیں احد پہاڑ پر ایک اہم اسٹریٹیجک درّے (گھاٹی) پر تعینات کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نہایت سختی سے ہدایت فرمائی تھی کہ: "ہمارے پیچھے اس جگہ پر قائم رہنا، اگر تم ہمیں دیکھو کہ ہم نے دشمن کو شکست دے دی ہے اور پرندے ہمارے جسموں کو اچک رہے ہیں، تب بھی تم اپنی جگہ سے نہ ہٹنا جب تک کہ میں تمہیں (کوئی نیا) حکم نہ دوں۔” (صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ احد)
غزوہ کے ابتدائی مرحلے میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی اور مشرکین بھاگنے لگے۔ تیر اندازوں نے جب یہ منظر دیکھا کہ مسلمان مالِ غنیمت اکٹھا کر رہے ہیں تو اکثر نے یہ سمجھتے ہوئے کہ جنگ ختم ہو چکی ہے، اپنی جگہ چھوڑ دی۔
حضرت عبد اللہ بن جبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے ساتھیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی یاد دلائی اور انہیں اپنی جگہ پر ثابت قدم رہنے کی تاکید فرمائی، مگر ان میں سے صرف دس سے بارہ افراد ہی ان کے ساتھ باقی رہے۔ جب حضرت خالد بن ولید (جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے) نے درّے کو خالی دیکھا تو اپنے گھڑ سوار دستے کے ساتھ پشت سے حملہ کر دیا۔ حضرت عبد اللہ بن جبیر رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے چند ساتھیوں نے اس اچانک حملے کا بے مثال جرات و بہادری سے مقابلہ کیا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی جان کی آخری سانس تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی پاسداری کرتے ہوئے درّے کی حفاظت کی اور اسی مقام پر جامِ شہادت نوش فرمایا۔
میراث اور وصال
حضرت عبد اللہ بن جبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے شوال 3 ہجری میں غزوہ احد کے دوران شہادت کا عظیم رتبہ پایا۔ آپ کی شہادت اس بات کی گواہی ہے کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی مکمل اطاعت، شجاعت اور ثابت قدمی کا ایک لازوال نمونہ پیش کیا۔
آپ کی زندگی اور بالخصوص غزوہ احد میں آپ کا کردار امتِ مسلمہ کے لیے ایک دائمی سبق ہے کہ نظم و ضبط، قائد کی اطاعت اور عہد پر قائم رہنا ہر حال میں کامیابی کی کنجی ہے۔ آپ ان عظیم شہداء میں سے ہیں جنہوں نے اپنی جانیں راہِ حق میں قربان کر کے اسلامی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے لکھوایا۔ آپ کی سیرت ثابت قدمی، ایثار اور محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک روشن مینار ہے۔
مستند حوالہ جات
- صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ احد۔
- صحیح مسلم، کتاب الجہاد والسیر، باب غزوۃ احد۔
- سیرت ابن ہشام (مختصراً السیرۃ النبویہ لابن ہشام)، ذکر غزوہ احد۔
- البدایہ والنہایہ لابن کثیر، الجزء الرابع، باب غزوہ احد۔
- تاریخ الطبری، الجزء الثانی، باب غزوہ احد۔
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ لابن اثیر الجزری، جلد 3، صفحہ 295-296۔
- الإصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر العسقلانی، جلد 4، صفحہ 157-158۔
