عبد اللہ بن انیس رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت عبد اللہ بن انیس رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام عبد اللہ بن انیس بن عمرو بن مسعود الجہنی ہے۔ آپ کا تعلق قبیلہ جُہَینَہ سے تھا جو عرب کے قدیم اور معروف قبائل میں سے ایک تھا۔ اس قبیلے کی بستیاں مدینہ منورہ کے قریب واقع تھیں اور اس کے افراد اپنی شجاعت اور دلیری کے لیے مشہور تھے۔ آپ کو عام طور پر صرف عبد اللہ بن انیس رضی اللہ تعالی عنہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اور آپ ان جلیل القدر صحابہ کرام میں سے تھے جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاص اعتماد تھا۔ آپ کی کنیت ابو یحییٰ بیان کی جاتی ہے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت عبد اللہ بن انیس رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں بہت زیادہ تفصیلی معلومات دستیاب نہیں ہیں، تاہم یہ واضح ہے کہ آپ نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنی پوری زندگی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور خدمت میں وقف کر دی۔ آپ ان ابتدائی مسلمانوں میں سے تھے جنہوں نے ہجرت مدینہ کے بعد اسلام قبول کیا اور مدینہ منورہ کو اپنا مسکن بنایا۔ آپ کی ایمانی غیرت اور وفاداری مثالی تھی۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں بے شمار غزوات اور سرایا میں حصہ لیا اور اپنی شجاعت و بہادری کے جوہر دکھائے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت عبد اللہ بن انیس رضی اللہ تعالی عنہ کو تاریخ اسلام میں ایک خاص واقعے کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے جو آپ کی غیر معمولی شجاعت، اطاعت اور ذہانت کا مظہر ہے۔ یہ واقعہ سنہ 3 ہجری (بعض روایات کے مطابق 4 ہجری) میں پیش آیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ سفیان بن خالد الہذلی (جسے ابن نبیح بھی کہا جاتا ہے) نخلہ کے مقام پر مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے لشکر جمع کر رہا ہے۔ یہ شخص قبیلہ بنی لحیان سے تعلق رکھتا تھا اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کر رہا تھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے دریافت فرمایا کہ "کون ہے جو سفیان بن خالد الہذلی کے پاس جائے گا؟” حضرت عبد اللہ بن انیس رضی اللہ تعالی عنہ نے فوراً اپنی جان قربان کرنے کی پیشکش کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس مہم پر روانہ فرمایا اور ہدایت کی کہ اسے قتل کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا کہ "اسے دیکھتے ہی مجھے اللہ یاد آ گیا” (یعنی وہ شیطانی خصلتوں کا مالک تھا)۔

حضرت عبد اللہ بن انیس رضی اللہ تعالی عنہ تنہا روانہ ہوئے اور تین دن تک سفر کر کے مطلوبہ مقام پر پہنچے۔ انہوں نے کمال ہشیاری سے سفیان کے خیمے کے قریب پہنچنے کے لیے ایک حیلہ اختیار کیا۔ انہوں نے اپنے آپ کو قبیلہ بنی خُزاعہ کے ایک فرد کے طور پر پیش کیا اور سفیان سے یہ ظاہر کیا کہ وہ اس کے حلیف ہیں اور مسلمانوں کے خلاف اس کی مدد کے لیے آئے ہیں۔ سفیان ان کی باتوں میں آ گیا اور انہیں اپنے قریب کر لیا۔ جب شام ہوئی اور سفیان کے محافظ سو گئے تو حضرت عبد اللہ بن انیس رضی اللہ تعالی عنہ نے موقع غنیمت جانا اور اسے ایک ہی وار میں قتل کر دیا۔ اس کے بعد آپ سفیان کا سر کاٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آئے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے قتل کی تصدیق ہو سکے۔

اس کامیاب مشن سے واپسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور بطور انعام اپنی ایک چھڑی (عصا) انہیں عطا فرمائی اور فرمایا: "یہ چھڑی قیامت کے دن میرے اور تمہارے درمیان علامت ہو گی۔” حضرت عبد اللہ بن انیس رضی اللہ تعالی عنہ نے اس چھڑی کو اپنی زندگی بھر سنبھال کر رکھا اور وصیت کی کہ ان کے وفات کے بعد وہ چھڑی ان کے کفن میں رکھ کر ان کے ساتھ دفن کی جائے۔ یہ واقعہ ان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت، اعتماد اور فرمانبرداری کا اعلیٰ نمونہ ہے۔

آپ نے غزوہ بدر، احد، خندق سمیت تمام بڑے غزوات میں شرکت کی اور اپنی شجاعت کے جوہر دکھائے۔ آپ ان جانباز صحابہ میں سے تھے جو ہر مشکل گھڑی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔

میراث اور وصال

حضرت عبد اللہ بن انیس رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی سربلندی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں گزاری۔ آپ کی میراث میں سب سے اہم سبق اللہ اور اس کے رسول پر کامل توکل، بے مثال شجاعت اور بے چون و چرا اطاعت کا جذبہ ہے۔ آپ کی زندگی رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے ایک رہنما اصول ہے کہ کس طرح ایک مسلمان اپنے ایمان، وفاداری اور قربانی سے اسلام کی خدمت کر سکتا ہے۔

آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں سنہ 54 ہجری میں وفات پائی۔ آپ کی وصیت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا کردہ وہ مبارک چھڑی ان کے کفن میں رکھ کر دفن کی گئی۔ یوں، وہ نشانِ وفا قیامت تک کے لیے ان کی پہچان بن گیا۔

مستند حوالہ جات

  • السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، الجزء الثالث (غزوۃ بنی لحیان، مقتل سفیان بن خالد)
  • تاریخ الطبری، الجزء الثانی (ذکر سریۃ عبد اللہ بن أنیس)
  • البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر، الجزء الرابع (سرایا الرسول صلى الله عليه وسلم بعد أُحُد – سریۃ عبد اللہ بن أُنَیس)
  • أسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ لابن الأثیر، الجزء الثالث (عبد الله بن أنیس الجہنی)
  • الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ لابن حجر العسقلانی، الجزء الرابع (عبد الله بن أنیس)