عبد اللہ بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت عبد اللہ بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام عبد اللہ بن ارقم بن عبد یغوث بن عبد مناف الزہری القرشی ہے۔ آپ کا تعلق قریش کے معزز قبیلے بنو زہرہ سے تھا، جو رسول اللہ ﷺ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کا بھی قبیلہ تھا۔ اس طرح نسبی اعتبار سے آپ کو رسول اکرم ﷺ سے خاص قربت حاصل تھی۔ آپ کے والد کا نام ارقم تھا جو ایک معزز اور نیک شخص تھے۔ آپ کی والدہ کا نام فریعہ بنت عبد اللہ بن ابی قیس تھا، جن کا تعلق بنو عامر بن لؤی سے تھا۔ آپ عام طور پر "عبد اللہ بن ارقم” کے نام سے معروف ہیں اور آپ کی کنیت ابو روح تھی۔ آپ کا خاندان مکہ مکرمہ میں اپنے اخلاق، امانت داری اور شرافت کی وجہ سے جانا جاتا تھا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت عبد اللہ بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش مکہ مکرمہ میں ہوئی اور آپ نے اپنی ابتدائی زندگی اسی شہر میں گزاری۔ آپ نے نبوت سے قبل کے مکہ کے معاشرتی و اخلاقی حالات کو دیکھا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اسلام کی دعوت کا آغاز فرمایا، تو حضرت عبد اللہ بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ نے نہایت کم عمری میں ہی اس دعوت کو قبول کر لیا۔ آپ کا شمار سابقون الاولون یعنی اسلام قبول کرنے والے ابتدائی مسلمانوں میں ہوتا ہے، جب اسلام ابھی مکہ میں خفیہ طور پر پھیل رہا تھا اور مسلمانوں کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ آپ نے ایمان کی خاطر ہر قسم کی صعوبتیں برداشت کیں اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ بعد ازاں، آپ نے مسلمانوں کے ساتھ حبشہ کی طرف پہلی ہجرت میں شرکت کی، اور وہاں سے واپسی کے بعد مدینہ منورہ کی طرف بھی ہجرت فرمائی۔ یہ ہجرتیں اللہ کی راہ میں آپ کی بے مثال قربانی اور اخلاص کا بین ثبوت تھیں۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت عبد اللہ بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ کی شخصیت کئی حوالوں سے نمایاں تھی۔ آپ کے نمایاں کارنامے اور خدمات درج ذیل ہیں:

  • کاتبِ وحی اور خطوط: آپ رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر کاتبین میں سے تھے۔ آپ کو رسول اللہ ﷺ کے خطوط لکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی جو آپ نے مختلف بادشاہوں، حکمرانوں اور قبائل کے سرداروں کے نام لکھے تھے۔ ان خطوط کے ذریعے رسول اللہ ﷺ نے انہیں اسلام کی دعوت دی اور دین حق کی تبلیغ فرمائی۔ آپ کی امانت، دیانت اور خطاطی پر رسول اللہ ﷺ کو مکمل اعتماد تھا۔ یہ آپ کی ذہانت اور قابلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے آپ جیسے قابل صحابی کو غیر عربی حکمرانوں کو خطوط لکھنے پر مامور فرمایا۔ بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انہیں سریانی زبان سیکھنے کا حکم بھی دیا گیا تھا تاکہ وہ مختلف زبانوں میں خط و کتابت کر سکیں۔
  • بیت المال کے نگران: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں آپ کو بیت المال (سرکاری خزانے) کا نگران مقرر کیا گیا۔ یہ ایک انتہائی حساس اور ذمہ دارانہ عہدہ تھا، جس کے لیے کمال درجے کی امانت داری، دیانت اور مالی معاملات کی بصیرت درکار تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے انصاف پسند اور باریک بین خلیفہ کا آپ پر یہ اعتماد آپ کی عظمت، ایمانداری اور انتظامی صلاحیتوں کی گواہی دیتا ہے۔ آپ نے اس ذمہ داری کو نہایت خوش اسلوبی اور کمال دیانت داری سے نبھایا۔
  • جہادی خدمات: آپ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کئی غزوات میں شرکت کی اور اسلام کے دفاع کے لیے میدان جنگ میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔ اگرچہ غزوات میں آپ کی تفصیلی شمولیت کے زیادہ واضح واقعات نہیں ملتے، لیکن یہ ثابت ہے کہ آپ نے ہر موقع پر رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دیا اور دین حق کے لیے اپنی جان و مال کی قربانی پیش کی۔
  • اخلاقی فضائل: آپ اپنی پاکیزہ سیرت، امانت داری، دیانت اور تقویٰ و پرہیزگاری کے لیے مشہور تھے۔ آپ زہد و ورع کی عمدہ مثال تھے اور ہر معاملے میں عدل و انصاف سے کام لیتے تھے۔

میراث اور وصال

حضرت عبد اللہ بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت میں گزاری۔ آپ نے بحیثیت کاتبِ وحی و خطوط، رسول اللہ ﷺ کے کلام اور پیغامات کو محفوظ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، جو آج بھی اسلامی تاریخ کے انمول دستاویزات کا حصہ ہیں۔ آپ کی سیرت امانت، دیانت، اطاعتِ رسول اور زہد و تقویٰ کا بہترین نمونہ ہے۔

آپ نے ایک طویل اور باوقار زندگی گزاری۔ آپ کی وفات کے بارے میں مؤرخین میں اختلاف پایا جاتا ہے، لیکن زیادہ تر روایات کے مطابق آپ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں، تقریباً 50 ہجری (بعض روایات میں 43 ہجری بھی مذکور ہے) میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ آپ کی وفات سے امتِ مسلمہ ایک عظیم صحابی، ایک امین کاتب اور ایک باصلاحیت منتظم سے محروم ہو گئی۔

مستند حوالہ جات

  • ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ
  • ابن سعد، الطبقات الکبریٰ
  • ابن عبدالبر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب
  • ابن اثیر، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ
  • امام بخاری، التاریخ الکبیر
  • امام ذہبی، سیر اعلام النبلاء
  • ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ