عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام عبد اللہ بن علقمہ تھا، اور ان کے والد کی کنیت ابو اوفی تھی جس کی وجہ سے وہ عبد اللہ بن ابی اوفی کے نام سے مشہور ہوئے۔ آپ کا تعلق عرب کے معروف قبیلے بنو اسلم سے تھا، اسی لیے آپ کو اسلمی بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کی کنیت ابو محمد تھی، اگرچہ بعض روایات میں ابو ابراہیم یا ابو معاویہ بھی ملتی ہے۔ آپ کوفہ میں وفات پانے والے آخری صحابی ہونے کی وجہ سے خاص امتیاز رکھتے ہیں۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالی عنہ ان خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہوں نے ابتدائی دور ہی میں اسلام قبول کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نورِ نبوت سے اپنی زندگی کو منور کیا۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیعتِ رضوان میں شرکت کی تھی، جو سن 6 ہجری میں مقام حدیبیہ پر ہوئی تھی۔ اس بیعت کو قرآن مجید میں اللہ تعالی نے "بیعت الشجر” کے نام سے یاد فرمایا ہے، اور اس میں شامل صحابہ کرام کو اللہ تعالی نے اپنی رضا مندی کی بشارت دی۔ یہ آپ کی عظمت کا ایک بہت بڑا نشان ہے۔ اس کے بعد آپ نے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی اور مستقل طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں آگئے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام بڑے غزوات میں شرکت فرمائی۔ آپ غزوہ خیبر، غزوہ حنین اور غزوہ تبوک سمیت متعدد غزوات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرکاب رہے۔ آپ کی زندگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل پیرا ہونے اور جہاد فی سبیل اللہ میں گزری۔ آپ کوفہ میں مستقل سکونت اختیار کرنے کے بعد وہاں دین کی تعلیمات پھیلانے اور احادیثِ مبارکہ کی روایت میں مشغول رہے۔ آپ سے تقریباً 95 احادیث مروی ہیں جو مختلف صحاح ستہ اور دیگر کتبِ حدیث میں موجود ہیں۔ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست حدیثیں روایت کیں اور آپ سے روایت کرنے والوں میں آپ کے بیٹے اور بہت سے تابعین شامل ہیں۔ آپ ایک زاہد، عابد اور پرہیزگار صحابی تھے۔

میراث اور وصال

حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالی عنہ نے طویل عمر پائی اور کوفہ میں مقیم رہے۔ آپ کی وفات سن 86 ہجری میں ہوئی، اور یہ آپ کا سب سے بڑا اعزاز ہے کہ آپ کوفہ میں وفات پانے والے آخری صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ آپ کی عمر اس وقت تقریباً سو سال کے لگ بھگ تھی۔ آپ کے وصال سے کوفہ میں صحابہ کرام کا دور ختم ہوا اور بعد کی نسلوں کے لیے آپ نے علم، تقویٰ اور جہاد کی ایسی عظیم مثالیں چھوڑیں جو قیامت تک مشعلِ راہ رہیں گی۔ آپ کی روایات کوفہ کے علم حدیث کی بنیاد بنی، اور آپ نے اسلامی معاشرے کو اپنی علمی و عملی خدمات کے ذریعے مستحکم کیا۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح بخاری
  • صحیح مسلم
  • سنن ابی داود
  • سنن ترمذی
  • سنن نسائی
  • مسند احمد بن حنبل
  • الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (ابن عبدالبر)
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ (ابن الاثیر)
  • الاصابہ فی تمییز الصحابہ (ابن حجر عسقلانی)
  • سیر اعلام النبلاء (الذہبی)
  • الطبقات الکبری (ابن سعد)
  • البدایہ و النہایہ (ابن کثیر)