عبد الله بن عمرو بن حرام رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ تعالی عنہ کا نسب نامہ کچھ یوں ہے: عبد اللہ بن عمرو بن حرام بن ثعلبہ بن حرام بن کعب بن غنم بن سلمہ الخزرجی السلمی الانصاری۔ آپ کا تعلق مدینہ منورہ کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو سلمہ سے تھا، جو انصار کے ایک معزز اور بڑے قبیلے کے طور پر جانا جاتا تھا۔ آپ کی والدہ کا نام ہند بنت قیس (یا ہند بنت عدی بن سواد بن غنم) تھا۔ آپ کو آپ کے مشہور فرزند حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی نسبت سے "ابو جابر” کی کنیت سے پکارا جاتا تھا۔ آپ قبیلہ بنو سلمہ کے معززین میں سے تھے اور آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت عقبہ ثانیہ میں اپنی قوم کا نقیب (سردار اور نمائندہ) مقرر فرمایا تھا۔ یہ آپ کے قاندانی وجاہت اور مرتبے کی دلیل تھی۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

آپ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور وہیں پرورش پائی۔ قبل از اسلام بھی آپ کا شمار اپنی قوم کے سرداروں اور معززین میں ہوتا تھا۔ آپ کی زندگی کا سب سے اہم موڑ اسلام قبول کرنا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرنا تھا۔ آپ ان خوش نصیب 70 سے زائد انصار صحابہ کرام میں شامل تھے جنہوں نے مدینہ سے مکہ آکر منیٰ کے قریب عقبہ کے مقام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر بیعت کی، جسے "بیعت عقبہ ثانیہ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس بیعت میں آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر حال میں حفاظت اور اسلام کی نصرت و حمایت کا عہد کیا تھا۔ اس تاریخی موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہ نقباء کا انتخاب فرمایا جو اپنی اپنی قوموں کے نمائندے تھے، اور آپ کو بنو سلمہ کا نقیب مقرر کیا گیا۔ یہ تقرری آپ کے اسلام سے قبل بھی آپ کی قیادت و بصیرت اور قوم میں آپ کے بلند مقام و مرتبے کو ظاہر کرتی ہے۔ مدینہ منورہ ہجرت کے بعد آپ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور مسلمانوں کی ہر طرح سے معاونت میں فعال کردار ادا کیا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی اسلام کے لیے بے مثال قربانیوں سے مزین ہے۔ آپ کے نمایاں کارناموں میں سب سے اہم بیعت عقبہ ثانیہ میں نقابت کا شرف حاصل کرنا تھا، جہاں آپ نے اپنی قوم بنو سلمہ کی نمائندگی کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مدینہ آنے کی درخواست کی اور آپ کی حفاظت کی ضمانت دی۔ آپ نے غزوہ بدر میں بھی شرکت کی اور اس میں بہادری کے جوہر دکھائے۔

آپ کی سب سے بڑی قربانی اور اعزاز غزوہ احد (3 ہجری) میں جامِ شہادت نوش فرمانا ہے۔ احد کے میدان میں جانے سے پہلے، آپ نے اپنے بیٹے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بات کی اور انہیں اپنے قرضوں کی ادائیگی اور اپنی بیٹیوں (جو جابر رضی اللہ عنہ کی بہنیں تھیں) کی دیکھ بھال کی وصیت فرمائی، جو اس بات کی علامت تھی کہ آپ کو اپنی شہادت کا پہلے سے ہی احساس ہو چکا تھا۔ میدان جنگ میں آپ نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا اور کفار کے خلاف دل کھول کر لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ روایات کے مطابق، آپ کو اور آپ کے ساتھی حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کو ایک ساتھ شہید کیا گیا اور انہیں ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا۔

آپ کی شہادت کے بعد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ: "اے جابر! تمہیں معلوم ہے کہ تمہارے والد سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا، اور پردے کے پیچھے سے بات کی اور پوچھا کہ کیا چاہتے ہو؟ تو انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب! میری تمنا ہے کہ مجھے دنیا میں دوبارہ بھیجا جائے تاکہ میں تیری راہ میں ایک بار پھر شہید ہو سکوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ کوئی واپس نہیں لوٹے گا (جس کا مطلب یہ تھا کہ کسی شہید کو دوبارہ دنیا میں نہیں بھیجا جائے گا)۔” (سنن ترمذی، سنن ابن ماجہ، مسند احمد) یہ حدیث اس عظیم صحابی کے مقام اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں ان کے رتبے کی واضح دلیل ہے۔ قرآن مجید کی وہ آیات جو شہداء کے بارے میں نازل ہوئیں کہ "اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ گمان نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے ہاں سے رزق دیے جاتے ہیں” (سورۃ آل عمران: 169)، ان عظیم شہداء میں آپ بھی شامل تھے۔

میراث اور وصال

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ تعالی عنہ نے 3 ہجری میں غزوہ احد کے موقع پر شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔ آپ کے جسدِ مبارک کو دیگر شہداء کے ساتھ احد کے میدان میں ہی دفن کیا گیا۔ مشہور ہے کہ چالیس سال بعد جب سیلاب کے باعث آپ کی قبر کو منتقل کرنے کی ضرورت پیش آئی تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ آپ اور حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کے اجسام تروتازہ تھے اور بالکل صحیح سلامت تھے، جیسے انہیں ابھی دفن کیا گیا ہو۔ یہ واقعہ آپ کے مقام و مرتبے اور اللہ کے ہاں شہداء کے بلند درجے کی ایک اور نشانی ہے۔

آپ نے اپنے پیچھے ایک مشہور بیٹے، حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو چھوڑا، جو بعد میں ایک کثیر حدیث روایت کرنے والے جلیل القدر صحابی بنے۔ آپ کی چھ بیٹیاں بھی تھیں۔ آپ کی وصیت کے مطابق حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے آپ کے قرض ادا کیے اور اپنی بہنوں کی بہترین دیکھ بھال کی۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ تعالی عنہ کی قربانی، دین اسلام کے لیے ان کی فدائیت اور شہادت کا عظیم مرتبہ تمام مسلمانوں کے لیے ایک لافانی مثال ہے۔ آپ کا نام تاریخ اسلام کے ان درخشاں ستاروں میں سے ہے جنہوں نے اپنی جان و مال سے اسلام کی راہ میں جہاد کیا اور ابدی زندگی حاصل کی۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوہ احد۔
  • صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، باب فضائل جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ و والدہ۔
  • سنن ترمذی، ابواب تفسیر القرآن، سورۃ آل عمران، حدیث نمبر: 3010۔
  • سنن ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی فضل من قتل فی سبیل اللہ، حدیث نمبر: 195۔
  • مسند احمد، جلد 3، صفحات 304، 351، 353۔
  • سیرت ابن ہشام، جلد 1 و 2، غزوہ احد کا بیان۔
  • الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر عسقلانی، جلد 4، صفحہ 234۔
  • الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب لابن عبدالبر، جلد 3، صفحہ 960۔
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ لابن الاثیر، جلد 3، صفحہ 339۔