عبداللہ بن مظعون رضی اللہ عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

عبداللہ بن مظعون رضی اللہ عنہ ان جلیل القدر صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے ابتدائی وقت میں اسلام قبول کیا اور دین کی خاطر بے پناہ قربانیاں دیں۔ آپ کا نسب یوں ہے: عبداللہ بن مظعون بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن جمح القرشی الجمحی۔ آپ کا تعلق قریش کے بنو جمح قبیلے سے تھا۔ آپ کی والدہ کا نام سخیلہ بنت عنبس تھا۔

آپ کے خاندان میں کئی دیگر جلیل القدر صحابہ کرام شامل تھے۔ آپ کے بھائیوں میں عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ (جو عظیم صحابی اور ابتدائی مہاجرین میں سے تھے اور جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رضاعی بھائی ہونے کا شرف بھی حاصل تھا) اور قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ یہ سب بھائی ایک ساتھ اسلام لائے اور دین حق کی راہ میں ثابت قدم رہے۔ آپ کی بہن زینب بنت مظعون کا نکاح امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوا تھا، جس سے آپ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سے بھی ایک قریبی تعلق بن جاتا ہے۔ عام طور پر آپ کو کسی مخصوص لقب یا کنیت سے نہیں پکارا جاتا، بلکہ آپ کو آپ کے نسب اور ابتدائی اسلام لانے والے صحابہ میں سے ہونے کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

عبداللہ بن مظعون رضی اللہ عنہ نے مکہ کے اس دور میں اسلام قبول کیا جب دین حق کی آواز بلند کرنا نہایت دشوار اور خطرے سے خالی نہ تھا۔ آپ ان "سابقون الاولون” (یعنی اسلام قبول کرنے والے ابتدائی گروہ) میں شامل تھے جنہوں نے بلاجھجک توحید کا پرچم تھاما۔ آپ کا قبولِ اسلام اس وقت ہوا جب مسلمان قریش کے شدید مظالم کا نشانہ بن رہے تھے۔

آپ کے قبولِ اسلام میں آپ کے بھائی عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی صحبت اور ان کا زہد و تقویٰ بھی ایک اہم عامل رہا۔ خاندان کے بیشتر افراد کی طرح، عبداللہ بن مظعون رضی اللہ عنہ نے بھی اسلام کی حقانیت کو دل سے تسلیم کیا اور اس پر ثابت قدم رہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کو قریش کی جانب سے شدید مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔ اس مشکل گھڑی میں، جب مسلمان اپنے دین پر قائم رہنے کے لیے بے پناہ قربانیاں دے رہے تھے، عبداللہ بن مظعون رضی اللہ عنہ نے کمال استقامت کا مظاہرہ کیا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

عبداللہ بن مظعون رضی اللہ عنہ کی زندگی متعدد اہم واقعات اور دین اسلام کے لیے کی گئی قربانیوں سے مزین ہے۔

  • ہجرت حبشہ: مکہ میں کفار کے بڑھتے ہوئے ظلم و ستم سے تنگ آکر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے مسلمانوں کے پہلے گروہ کے ساتھ آپ نے حبشہ کی جانب ہجرت فرمائی۔ یہ اسلام کی تاریخ میں پہلی ہجرت تھی۔ آپ ان چند جلیل القدر صحابہ میں سے تھے جنہوں نے دین کی خاطر اپنا وطن چھوڑ کر ایک غیر ملک میں پناہ لی اور اللہ کی راہ میں صعوبتیں برداشت کیں۔ آپ نے دوسری ہجرت حبشہ میں بھی شرکت فرمائی، جو آپ کی دین سے والہانہ عقیدت اور ثابت قدمی کا مظہر ہے۔
  • ہجرت مدینہ: حبشہ سے واپسی کے بعد، آپ نے دیگر مسلمانوں کے ہمراہ مدینہ منورہ کی جانب ہجرت فرمائی۔ مدینہ میں آپ نے مواخات (بھائی چارہ) کے نظام میں حصہ لیا اور اسلامی معاشرے کے قیام میں اپنا کردار ادا کیا۔
  • غزوات میں شرکت: عبداللہ بن مظعون رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل کیا۔ غزوہ بدر میں شرکت کرنے والے صحابہ کرام کو اسلام میں بہت اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ یہ وہ غزوے تھے جس کے شرکاء کو اللہ تعالیٰ نے خاص فضیلت سے نوازا تھا۔ اس کے علاوہ آپ نے غزوہ احد اور غزوہ خندق سمیت دیگر اہم غزوات اور مہمات میں بھی حصہ لیا، اور ہر موقع پر اپنی شجاعت، وفاداری اور فداکاری کا ثبوت دیا۔
  • آپ کی زندگی ایمان، صبر اور اللہ کی راہ میں جہاد سے عبارت تھی۔ آپ نے پوری زندگی اخلاص کے ساتھ دین اسلام کی خدمت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں گزاری۔

میراث اور وصال

عبداللہ بن مظعون رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اسلام کی خدمت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور دین کی سربلندی کی جدوجہد میں بسر کیا۔ آپ نے ہر آزمائش پر صبر کیا اور دین حق پر ثابت قدمی دکھائی۔

آپ کا وصال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہی ہوا۔ آپ مدینہ منورہ میں فوت ہوئے اور آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ جنت البقیع میں مدفون ابتدائی صحابہ کرام میں سے ہونا بھی آپ کے لیے ایک عظیم شرف ہے۔ آپ کے بھائی عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ بھی جنت البقیع میں مدفون اولین مہاجرین میں سے تھے، جن کے پہلو میں عبداللہ بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بھی جگہ ملی۔

آپ کی میراث میں دین اسلام کے ابتدائی دور کے مجاہدین میں شامل ہونا، دو بار ہجرت حبشہ جیسے صبر آزما مراحل سے گزرنا، اور غزوہ بدر سمیت دیگر غزوات میں فعال کردار ادا کرنا شامل ہے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی اللہ کی رضا اور دین کی نصرت کے لیے وقف کر دی۔ آپ کی زندگی آئندہ نسلوں کے لیے استقامت، ایثار اور دین سے والہانہ محبت کا بہترین نمونہ ہے۔

مستند حوالہ جات

  • ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ۔
  • ابن عبدالبر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب۔
  • ابن اثیر، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ۔
  • ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ۔
  • طبری، تاریخ الامم والملوک (تاریخ طبری)۔
  • ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ۔