عبداللہ بن مخزمہ رضی اللہ عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت عبداللہ بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کا تعلق قریش کے معزز قبیلے بنو عامر بن لؤی سے تھا۔ آپ کا پورا نام عبداللہ بن مخرمہ بن عبدالعزیٰ بن ابی قیس بن عبدود بن نصر بن مالک بن حسل بن عامر بن لؤی القرشی العامری ہے۔ آپ کے والد کا نام مخرمہ تھا۔ آپ کا خاندان مکہ مکرمہ کے بااثر اور شریف گھرانوں میں سے تھا جو اپنی نسبی شرافت اور قبائلی حیثیت کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا۔ آپ کو عموماً آپ کی اولاد کی نسبت سے ابو مسور یا ابو سائب کی کنیت سے پکارا جاتا تھا، کیونکہ آپ کے صاحبزادوں میں مسور بن عبداللہ اور سائب بن عبداللہ شامل تھے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت عبداللہ بن مخرمہ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے۔ آپ کو سابقون الاولون (سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں) میں شمار کیا جاتا ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا اعلان فرمایا اور مکہ میں خفیہ طور پر اسلام کی دعوت کا آغاز کیا تو آپ نے ابتدائی مراحل میں ہی اس دعوت کو قبول کر لیا اور ایمان کی دولت سے مالا مال ہو گئے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کو بھی قریش کے دیگر نو مسلموں کی طرح ایذا رسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس مشکل وقت میں، جب کفارِ مکہ کا ظلم بڑھ گیا تو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ یہ حبشہ کی پہلی ہجرت تھی جس میں آپ شامل تھے۔ حبشہ سے واپسی کے بعد آپ دوبارہ مکہ مکرمہ میں قیام پذیر رہے، اور جب مسلمانوں کے لیے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا حکم ہوا تو آپ نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے مدینہ کی جانب ہجرت فرمائی۔ مدینہ پہنچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات کا رشتہ قائم کیا، اور حضرت عبداللہ بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کو بعض روایات کے مطابق حضرت مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ کا (اور بعض کے مطابق مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کا) بھائی بنایا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت عبداللہ بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے اسلام کی سربلندی کے لیے گرانقدر خدمات انجام دیں۔ آپ ایک سچے اور وفادار صحابی تھے جو ہر مشکل گھڑی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ بشانہ رہے۔ آپ نے اسلام کے تمام بڑے غزوات میں حصہ لیا:

  • غزوۂ بدر: آپ ان 313 خوش نصیب صحابہ کرام میں شامل تھے جنہوں نے غزوۂ بدر میں شرکت کی اور اسلامی تاریخ کی پہلی فیصلہ کن جنگ میں دادِ شجاعت دی۔
  • غزوۂ احد: آپ نے غزوۂ احد میں بھی حصہ لیا، جہاں مسلمانوں کو ابتدائی کامیابی کے بعد عارضی پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔ آپ نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔
  • غزوۂ خندق (احزاب): غزوۂ خندق میں بھی آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور مدینہ کے دفاع میں سرگرم حصہ لیا۔
  • دیگر غزوات: ان کے علاوہ، آپ نے فتح مکہ سمیت تقریباً تمام غزوات اور سرایا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کا شرف حاصل کیا۔

آپ نے اپنی پوری زندگی اللہ کی راہ میں جہاد اور دین کی خدمت میں گزاری، اور اسلام کے ابتدائی دور کی مشکلات اور چیلنجز کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔

میراث اور وصال

حضرت عبداللہ بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کا وصال خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے اواخر یا خلیفہ دوم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دورِ خلافت میں ہوا۔ بعض روایات کے مطابق آپ نے سن 12 ہجری یا 13 ہجری میں وفات پائی۔ یہ وہ دور تھا جب اسلامی فتوحات کا سلسلہ جاری تھا، اور آپ نے اپنی زندگی کا آخری حصہ ان عظیم فتوحات میں شرکت کرتے ہوئے گزارا۔ بعض مؤرخین کے نزدیک آپ نے جنگ یرموک میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپ نے دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے جو خدمات انجام دیں، وہ امت مسلمہ کے لیے ایک روشن مثال ہیں۔ آپ کی اولاد میں مسور بن عبداللہ اور سائب بن عبداللہ شامل تھے، جنہوں نے بعد میں بھی اسلامی معاشرے میں اپنی خدمات سرانجام دیں۔ آپ کی زندگی کا سب سے بڑا اثاثہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور دین اسلام کے لیے بے مثال قربانیاں تھیں۔

مستند حوالہ جات

  • ابن سعد، محمد بن سعد (المتوفی 230ھ)۔ الطبقات الکبریٰ۔
  • ابن عبد البر، یوسف بن عبد اللہ (المتوفی 463ھ)۔ الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب۔
  • ابن اثیر، علی بن محمد (المتوفی 630ھ)۔ اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ۔
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی (المتوفی 852ھ)۔ الاصابہ فی تمییز الصحابہ۔
  • الذهبی، شمس الدين محمد بن أحمد (المتوفی 748ھ)۔ سير أعلام النبلاء۔