عبداللہ بن قیس بن صیفی رضی اللہ عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
عبداللہ بن قیس بن صیفی رضی اللہ عنہ، جنہیں امتِ مسلمہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے نام سے جانتی ہے، قبیلہ بنو اشعر سے تعلق رکھتے تھے جو یمن کے مشہور قحطانی قبائل میں سے ایک ہے۔ آپ کا مکمل نسب عبداللہ بن قیس بن صیفی بن حضار بن حرب بن عامر بن عتر بن عذر بن وائل بن ناجیہ بن جماہر بن الأشعر ہے۔ آپ کی کنیت ‘ابو موسیٰ’ ہی زیادہ مشہور ہوئی اور اسی سے آپ کو پہچانا جاتا ہے۔ آپ کا تعلق ایک ایسے قبیلے سے تھا جو اپنی علم دوستی، نرم دلی اور قرآن سے محبت کے لیے مشہور تھا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے یمن ہی میں اسلام قبول کیا اور اس کے بعد اپنے قبیلے کے دیگر افراد کے ساتھ ہجرت کا ارادہ کیا۔ آپ اور آپ کے ساتھیوں نے یمن سے ہجرت کر کے حبشہ (ایتھوپیا) کی طرف سفر کیا جہاں دیگر مہاجرینِ اسلام مقیم تھے۔ آپ نے حبشہ میں کئی سال گزارے اور بعد ازاں فتح خیبر (7 ہجری) کے موقع پر حبشہ سے واپسی ہوئی اور مدینہ منورہ پہنچے۔ رسول اللہ ﷺ نے آپ اور آپ کے ساتھیوں (اشعریوں) کو بڑی گرم جوشی سے خوش آمدید کہا اور ان کے آنے پر خوشی کا اظہار فرمایا۔ نبی کریم ﷺ نے اشعریوں کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ "جب جنگ میں ان کا توشہ کم ہو جاتا ہے یا مدینہ میں ان کے عیال کا کھانا کم پڑ جاتا ہے تو وہ اپنے پاس جو کچھ بھی ہوتا ہے، اسے ایک کپڑے میں جمع کرتے ہیں، پھر آپس میں برابر تقسیم کر لیتے ہیں۔ پس وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے نہایت خوبصورت آواز سے نوازا تھا۔ آپ جب قرآن مجید کی تلاوت فرماتے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین وجد میں آ جاتے اور خود رسول اللہ ﷺ بھی آپ کی تلاوت سننا پسند فرماتے۔ ایک مرتبہ آپ کی تلاوت سن کر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "لقد أوتيت مزمارًا من مزامير آل داود” یعنی "تمہیں آل داؤد (علیہ السلام) کے سازوں میں سے ایک ساز عطا کیا گیا ہے۔” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)۔ یہ آپ کے حسنِ قرأت کا ایک بڑا اعتراف تھا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اسلامی تاریخ میں متعدد نمایاں خدمات انجام دیں۔ آپ ایک فقیہ، قاضی، امیر اور بہترین قاری کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
- علم و فقہ: آپ جلیل القدر صحابہ میں سے تھے جنہیں فقہ، حدیث اور قرأت کا گہرا علم تھا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے دورِ خلافت میں کئی اہم معاملات میں آپ سے مشورہ لیتے تھے۔ آپ نے تقریباً 360 احادیث نبویہ روایت کیں، جو آپ کے علمی مقام کی دلیل ہے۔
- قضا (عدالت): سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آپ کو بصرہ کا قاضی مقرر کیا۔ آپ نے عدل و انصاف کے بہترین تقاضے پورے کیے اور آپ کی قضاوت کا طریقہ کار آج بھی عدالتی اصولوں کے لیے ایک مثال ہے۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے قاضیوں کے لیے جو ہدایات جاری کی تھیں، وہ آپ ہی کو لکھ کر بھیجی تھیں، جس سے آپ کے عدالتی علم و بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے۔
- امارت و قیادت: آپ نے کئی غزوات میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شرکت کی جن میں فتح مکہ، غزوہ حنین اور غزوہ تبوک شامل ہیں۔ خلفائے راشدین کے دور میں بھی آپ نے عسکری اور انتظامی قیادت کے جوہر دکھائے۔
- بصرہ کے گورنر: سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں آپ کو بصرہ کا گورنر مقرر کیا گیا۔ آپ نے بصرہ میں عدل و انصاف قائم کیا اور وہاں کے لوگوں کو تعلیماتِ دین سے آراستہ کیا۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں بھی آپ نے بصرہ اور کچھ عرصے کے لیے کوفہ کی گورنری کے فرائض انجام دیے۔
- فارس کی فتوحات: آپ نے اسلامی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا، خصوصاً فارس (موجودہ ایران) کی فتوحات میں آپ کی قیادت مثالی تھی۔ آپ نے اہواز، رام ہرمز، اور اصبہان (جزوی طور پر) سمیت فارس کے کئی اہم علاقے فتح کیے۔
- تحکیم (ثالثی): جنگ صفین کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان صلح کی کوششوں کے دوران آپ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے ثالث (حکم) مقرر کیا گیا تھا۔ یہ ایک انتہائی نازک صورتحال تھی جہاں آپ نے اپنی حکمت اور اخلاص سے معاملے کو سلجھانے کی پوری کوشش کی۔ اگرچہ اس معاملے کا نتیجہ متفقہ نہیں نکلا، لیکن آپ نے اپنی طرف سے انصاف اور دین کی بھلائی کو پیش نظر رکھا۔
میراث اور وصال
عبداللہ بن قیس ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے امتِ مسلمہ کے لیے ایک عظیم علمی و عملی میراث چھوڑی۔
- علمی میراث: آپ نے تقریباً 360 احادیث روایت کیں اور آپ کا شمار ان صحابہ میں ہوتا ہے جنہوں نے فتویٰ دیا اور جن سے علم دین حاصل کیا گیا۔ آپ کی خوبصورت قرأت قرآن کا ذکر آج بھی عقیدت سے کیا جاتا ہے۔
- اخلاقی میراث: آپ اپنی زہد و تقویٰ، عدل و انصاف اور اخلاقی بلندی کے لیے مشہور تھے۔ آپ نے اپنی زندگی کو اسلام کی خدمت اور مسلمانوں کی رہنمائی کے لیے وقف کر دیا۔
آپ کے وصال کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں۔ اکثر مؤرخین کے نزدیک آپ کی وفات 42 ہجری یا 44 ہجری میں ہوئی۔ بعض روایات میں 50 ہجری اور 52 ہجری کا ذکر بھی ملتا ہے۔ آپ نے 60 سے 70 سال کے درمیان کی عمر پائی۔ آپ کی وفات کے مقام کے بارے میں بھی روایات مختلف ہیں، بعض کے نزدیک بصرہ، بعض کے نزدیک کوفہ جبکہ بعض روایات میں مکہ میں حج کے دوران وفات کا ذکر ہے۔ تاہم، آپ کا شمار ان عظیم صحابہ میں ہوتا ہے جن کی خدمات اور فضائل سے اسلامی تاریخ روشن ہے۔
مستند حوالہ جات
- صحیح بخاری (کتاب فضائل الصحابہ، کتاب التفسیر، کتاب المغازی)
- صحیح مسلم (کتاب فضائل الصحابہ)
- سنن ترمذی (ابواب التفسیر، ابواب المناقب)
- سنن ابی داؤد (کتاب الخراج والإمارة والفئ)
- الاستیعاب فی معرفة الأصحاب از ابن عبدالبر
- أسد الغابة في معرفة الصحابة از ابن اثیر
- الإصابة في تمييز الصحابة از ابن حجر عسقلانی
- سير أعلام النبلاء از الذہبی
- البدایة و النهایة از ابن کثیر
- تاریخ الطبری
