عبداللہ بن قیس بن خلدة رضی اللہ عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت عبداللہ بن قیس بن سلیم بن حضار رضی اللہ عنہ اسلامی تاریخ کی ایک جلیل القدر شخصیت ہیں جنہیں عام طور پر ان کی کنیت ابو موسیٰ اشعری کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آپ کا تعلق یمن کے قبیلہ اشعر سے تھا۔ آپ کا مکمل نسب عبداللہ بن قیس بن سلیم بن حضار بن حرب بن عامر بن محارب بن جديرة بن مالك الاشعري ہے۔ یمن میں آپ کے قبیلے کی بڑی عزت و توقیر تھی۔ آپ کے خاندان کا شمار یمن کے شریف اور بااثر گھرانوں میں ہوتا تھا۔ آپ کے لقب "اشعری” کی نسبت آپ کے قبیلہ "اشعر” کی طرف ہے، جو اپنی فصاحت و بلاغت اور علمی رجحانات کے لیے معروف تھا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنی ابتدائی زندگی یمن میں گزاری۔ وہ زمانہ جاہلیت میں بھی اپنی عقل و فہم اور راست بازی کے لیے مشہور تھے۔ جب اسلام کی دعوت یمن پہنچی تو آپ نے بغیر کسی تردد کے اسے قبول کر لیا۔ آپ ان اولین صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے ہجرت سے پہلے ہی یمن میں اسلام قبول کیا۔ جب آپ کو رسول اللہ ﷺ کی ہجرت مدینہ اور وہاں اسلامی ریاست کے قیام کی خبر ملی تو آپ نے اپنے قبیلے کے تقریباً پچاس افراد کے ساتھ یمن سے مدینہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا۔ آپ کا یہ سفر سمندر کے راستے ہوا، جس میں کئی مشکلات پیش آئیں۔ اتفاق سے ان کا جہاز حبشہ کے ساحل پر لنگر انداز ہو گیا، جہاں حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام موجود تھے۔ وہ سب اکٹھے ہی مدینہ منورہ پہنچے، اور یہ واقعہ غزوہ خیبر (7 ہجری) کے بعد پیش آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی آمد پر بہت خوشی کا اظہار فرمایا، اور فرمایا: "اللہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم کہ مجھے خیبر کی فتح پر زیادہ خوشی ہوئی ہے یا ابو موسیٰ اشعری کے ساتھیوں کی آمد پر۔” مدینہ پہنچنے کے بعد آپ نے اپنا پورا وقت دین کی خدمت اور رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں گزارا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ آپ کی خدمات دین اسلام کے ہر شعبے میں پھیلی ہوئی ہیں۔
- علمی خدمات: آپ جلیل القدر فقہاء، قراء اور حفاظ صحابہ کرام میں سے تھے۔ آپ کو رسول اللہ ﷺ نے یمن میں تعلیم، قضا اور فتویٰ دینے کے لیے مقرر فرمایا تھا۔ آپ کے پاس علم و فضل کا وسیع ذخیرہ تھا اور آپ نے کئی احادیث روایت کیں۔ بعد میں آپ کے شاگردوں نے آپ کے علم کو امت تک پہنچایا۔
- قرآن کی خوبصورت تلاوت: آپ کو اللہ تعالیٰ نے نہایت شیریں اور دلکش آواز سے نوازا تھا۔ آپ قرآن کی تلاوت اس قدر عمدگی اور خشوع و خضوع سے کرتے تھے کہ سننے والے وجد میں آ جاتے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک بار آپ کی تلاوت سن کر فرمایا: "یقیناً تمہیں آلِ داؤد کے لحن میں سے ایک لحن دیا گیا ہے” (یعنی حضرت داؤد علیہ السلام کی طرح خوبصورت آواز)۔
- امارت و جہاد: رسول اللہ ﷺ نے آپ کو یمن کے کچھ علاقوں کا عامل مقرر فرمایا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں آپ بصرہ کے والی مقرر ہوئے۔ آپ نے فارس کی کئی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا، جن میں اہواز، اصفہان، قم اور کاشان شامل ہیں۔ آپ ایک بہادر جنگجو اور مدبر حکمران تھے۔ بعد ازاں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی آپ نے مختلف علاقوں میں امارت کے فرائض سرانجام دیے۔
- تحکیم کا واقعہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان صفین کے معرکے کے بعد جب تحکیم (ثالثی) کا فیصلہ ہوا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے آپ کو حکم (ثالث) مقرر کیا گیا۔ اگرچہ یہ واقعہ سیاسی طور پر خاصا پیچیدہ تھا، تاہم اس میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا کردار نیک نیتی اور مسلمانوں کے خون خرابے کو روکنے کی خواہش پر مبنی تھا۔
میراث اور وصال
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اسلامی علمی و انتظامی ورثے میں گرانقدر اضافہ کیا۔ آپ نے اپنی پوری زندگی دین کی خدمت میں وقف کر دی۔ آپ کی فقہی آراء، احادیث اور تلاوت قرآن کا انداز آئندہ نسلوں کے لیے مشعل راہ بنا۔ آپ کے شاگردوں میں حضرت انس بن مالک، حضرت سعید بن مسیب اور دیگر کبار تابعین شامل ہیں۔ آپ کی قرأت اور آواز کی حلاوت صدیوں تک مسلمان قاریوں کے لیے ایک معیار کی حیثیت رکھتی ہے۔
آپ کی وفات کے بارے میں مختلف روایات ہیں، تاہم مشہور روایت کے مطابق آپ کا وصال حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں تقریباً 42 ہجری یا 44 ہجری یا بعض کے مطابق 50 ہجری میں ہوا۔ آپ نے کوفہ میں یا مکہ مکرمہ میں وفات پائی۔ آپ کو وہیں دفن کیا گیا۔ آپ نے ایک لمبی عمر پائی اور تقریباً 63 سال تک زندہ رہے۔
مستند حوالہ جات
- البداية والنهاية لابن كثير
- تاريخ الرسل والملوك للطبري
- الإصابة في تمييز الصحابة لابن حجر العسقلاني
- سير أعلام النبلاء للذهبي
- صحيح البخاري
- صحيح مسلم
- حلية الأولياء لأبي نعيم الأصفهاني
