عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہ کا تعلق انصارِ مدینہ کے عظیم قبیلے اوس سے تھا۔ آپ کا سلسلہ نسب عبداللہ بن طارق بن قیس بن سواد بن مالک بن افساء بن حارث بن عوف بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس سے ملتا ہے۔ آپ کا نام عبداللہ اور والد کا نام طارق تھا۔ آپ مدینہ منورہ کے ان اولین مسلمانوں میں سے تھے جنہوں نے اسلام کی حقانیت کو تسلیم کیا اور نبی کریم ﷺ کی نصرت کے لیے اپنی جان و مال کو وقف کر دیا۔ آپ کو کسی خاص لقب سے زیادہ شہرت حاصل نہیں، البتہ آپ کو "شہیدِ رجیع” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، جو آپ کی عظیم شہادت کی نسبت سے ہے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہ کی ابتدائی زندگی کے تفصیلی واقعات تاریخ میں بہت زیادہ مذکور نہیں، تاہم یہ بات مسلم ہے کہ آپ مدینہ منورہ کے ان خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کی نبوت پر ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی۔ آپ نے اسلام قبول کرنے کے بعد دین کی خدمت کے لیے خود کو وقف کر دیا۔ ہجرت مدینہ کے بعد آپ نے نبی کریم ﷺ کے شانہ بشانہ اسلامی تحریک میں حصہ لیا اور دین کی اشاعت و حفاظت کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار رہے۔ آپ ان باوفا اور مخلص صحابہ کرام میں سے تھے جو ہر حال میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ رہے اور آپ کی اطاعت و فرمانبرداری میں سبقت لے جانے کی کوشش کی۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہ کی زندگی کا سب سے نمایاں واقعہ اور عظیم کارنامہ ‘غزوہ رجیع’ (4 ہجری) میں آپ کی شہادت ہے۔ اس واقعے کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ قبیلہ عضل اور قارہ کے کچھ لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے درخواست کی کہ وہ ان کے علاقے میں اسلام کی تعلیم دینے اور قرآن سکھانے کے لیے چند معلمین بھیجیں۔ نبی کریم ﷺ نے دس صحابہ کرام کا ایک وفد حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کی قیادت میں بھیجا، جس میں حضرت عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ یہ وفد جب مکہ اور عسفان کے درمیان ‘رجیع’ نامی مقام پر پہنچا تو بنو لحیان (قبیلہ ہذیل کی ایک شاخ) کے تقریباً دو سو تیر اندازوں نے دھوکے سے انہیں گھیر لیا۔

صحابہ کرام نے بھرپور مقابلہ کیا، لیکن تعداد میں کم ہونے کے باعث حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ سمیت سات صحابہ کرام نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ جبکہ حضرت عبداللہ بن طارق، حضرت خبیب بن عدی اور حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہم کو قیدی بنا لیا گیا تاکہ انہیں مکہ میں قریش کے ہاتھ فروخت کیا جاسکے۔ جب انہیں مکہ کی طرف لے جایا جا رہا تھا تو راستے میں حضرت عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہ نے اپنی رسیوں کو کھول دیا اور اپنے قید کرنے والوں میں سے ایک کی تلوار چھیننے کی کوشش کی۔ کافروں نے اس بہادری اور خود داری کو دیکھ کر انہیں پتھروں اور تیروں سے حملہ کیا، اور آپ نے اسی مقام پر جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپ کا پاکیزہ جسم اسی جگہ چھوڑ دیا گیا اور آپ کی روح بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہو گئی۔

میراث اور وصال

حضرت عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہ نے 4 ہجری میں غزوہ رجیع کے دوران جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپ کی شہادت نبی کریم ﷺ کے ایک مخلص، بہادر اور دین کے لیے جانثار صحابی کی حیثیت سے اسلامی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جاتی ہے۔ آپ کی میراث آپ کی استقامت، بہادری اور حق پر ڈٹے رہنے کی وہ عظیم مثال ہے جو آپ نے اپنی شہادت کے ذریعے قائم کی۔ آپ نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے نہ صرف اسلام کے پیغام کی سچائی کو ثابت کیا بلکہ یہ بھی دکھایا کہ ایک سچا مسلمان ظلم اور باطل کے سامنے کبھی سر نہیں جھکاتا۔ آپ ان شہداء میں سے ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے آنے والی نسلوں کے لیے ایمان اور استقامت کی روشن مثالیں قائم کیں۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب: بعث النبی ﷺ عینا… (غزوہ رجیع کا تذکرہ)
  • سیرت ابن ہشام (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام)، واقعہ رجیع
  • تاریخ طبری (تاریخ الرسل والملوک)
  • البدایہ والنہایہ (ابن کثیر)، غزوہ رجیع کا بیان
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ (ابن الأثير)
  • الاصابہ فی تمييز الصحابہ (ابن حجر عسقلانی)