عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کا تعلق مدینہ منورہ کے انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو حارثہ سے تھا۔ آپ کا پورا نام عبداللہ بن سہل بن زید بن عامر بن کعب بن جشم بن حارثہ بن حارث بن الخزرج الاکبر تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابی ہونے کا شرف حاصل تھا۔ آپ کے بھائی کا نام عبدالرحمن بن سہل تھا اور آپ کے چچازاد بھائیوں میں محیصہ بن مسعود اور حویصہ بن مسعود رضی اللہ عنہم بھی شامل تھے۔ یہ سب انصار کے وہ خاندان تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد آپ کی بھرپور نصرت فرمائی۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے آبائی باشندے تھے۔ آپ کی نبوت سے قبل کی زندگی کے بارے میں زیادہ تفصیلی معلومات دستیاب نہیں ہیں، لیکن یہ واضح ہے کہ آپ ان خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ ہجرت کے بعد فوراً اسلام قبول کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخلص ساتھیوں میں شامل ہو گئے۔ مدینہ کے دیگر انصار کی طرح، آپ نے بھی دینِ اسلام کی سربلندی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ آپ کا شمار ان صحابہ کرام میں ہوتا ہے جو اسلام کے ابتدائی دور میں اس کی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں پیش پیش رہے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کی سب سے نمایاں شناخت اور خدمات کا تعلق ایک ایسے المناک واقعے سے ہے جس نے اسلامی فقہ میں ایک اہم اصول "قسامہ” کی بنیاد رکھی۔ یہ واقعہ فتح خیبر کے بعد پیش آیا۔ آپ اپنے بھائی عبدالرحمن بن سہل اور چچازاد بھائی محیصہ بن مسعود کے ساتھ خیبر گئے تھے (بعض روایات کے مطابق تجارتی غرض سے)۔ خیبر پہنچ کر وہ منتشر ہو گئے، اور جب محیصہ اور عبدالرحمن نے آپ کو ڈھونڈا تو آپ کو ایک کنویں میں مردہ حالت میں پایا، جنہیں قتل کیا جا چکا تھا۔ آپ کا بھائی عبدالرحمن جو ان دونوں میں سب سے چھوٹا تھا، غم اور صدمے کی وجہ سے بات بھی نہیں کر پا رہا تھا، جبکہ محیصہ نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی۔
جب یہ خبر مدینہ پہنچی تو بنو حارثہ کے چند افراد، جن میں محیصہ، حویصہ (عبداللہ کے چچازاد بھائی) اور عبدالرحمن (عبداللہ کے بھائی) شامل تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ محیصہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کی خبر دی اور بیان کیا کہ عبداللہ کو خیبر میں قتل کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہودیوں پر الزام لگایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا تم پچاس آدمیوں کی گواہی دے سکتے ہو جس سے تمہارے دعوے کی تصدیق ہو سکے؟” انہوں نے انکار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تو کیا یہودی قسم کھائیں گے کہ انہوں نے قتل نہیں کیا؟” انہوں نے کہا: "یا رسول اللہ! وہ تو کافر ہیں، ہم ان کی قسم کیسے مانیں؟” (ایک روایت کے مطابق، انصار نے کہا کہ ہم کسی ایسی چیز پر قسم کیسے کھائیں جو ہم نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھی۔)
جب یہ معاملہ حل طلب ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی طرف سے مقتول کی دیت (خون بہا) ادا کرنے کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سو اونٹ دیت میں ادا فرمائے۔ یہ واقعہ اسلامی فقہ میں "قسامہ” کے اصول کی بنیاد بنا جس کے تحت ایسی صورتحال میں جب قتل کے واقعے کا کوئی گواہ نہ ہو اور قاتل کا تعین مشکل ہو، تو مقتول کے اولیاء پچاس قسمیں اٹھاتے ہیں اور اس کے بعد دیت وصول کی جاتی ہے۔ اگر وہ قسمیں نہ اٹھائیں تو خون رائیگاں نہیں جاتا بلکہ ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ دیت ادا کرے۔ اس طرح، حضرت عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کی شہادت ایک اہم عدالتی اصول کی بنیاد بنی جو آج بھی اسلامی فقہ کا حصہ ہے۔
میراث اور وصال
حضرت عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کا وصال خیبر میں شہادت کی صورت میں ہوا۔ آپ کی شہادت کا یہ واقعہ اسلامی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا اور اس نے اسلامی قانون میں قسامہ کے اصول کو مستحکم کیا۔ آپ کی میراث یہ ہے کہ آپ کا نام عدل و انصاف کے ایک ایسے تاریخی فیصلے سے ہمیشہ جڑا رہے گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی امت کے لیے قائم کیا۔ آپ نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے ایک ایسے اصول کی بنیاد بننے کا شرف حاصل کیا جس کے ذریعے حق دار کو اس کا حق اور مظلوم کو انصاف ملتا ہے۔ آپ اللہ کی راہ میں شہید ہوئے اور آپ کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں ایک مثال کے طور پر موجود ہے۔
مستند حوالہ جات
- صحیح بخاری، کتاب الدیات، باب القسامۃ في الجاهلیۃ وقول أہل مکۃ. (حدیث نمبر: 6898، 6899)
- صحیح مسلم، کتاب القسامۃ والمحاربین والقصاص والدیات، باب القسامۃ. (حدیث نمبر: 1669)
- سنن ابی داؤد، کتاب الدیات، باب فی القسامۃ. (حدیث نمبر: 4521)
- سنن ترمذی، أبواب الدیات عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم، باب ما جاء فی القسامۃ. (حدیث نمبر: 1419)
- البدایۃ والنھایۃ، از ابن کثیر، جلد 4، ذکر قصۃ عبداللہ بن سہل.
- تاریخ الرسل والملوک، از طبری، جلد 3، ذکر خبر مقتل ابن سہل بخیبر.
