عبداللہ بن زید بن ثعلبۃ رضی اللہ عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت عبداللہ بن زید بن ثعلبۃ رضی اللہ عنہ کا پورا نام عبداللہ بن زید بن ثعلبۃ بن عبد ربہ بن زید بن حارث بن خزرج بن عمرو بن مالک بن الأوس تھا۔ آپ کا تعلق مدینہ کے معزز قبیلہ خزرج کی شاخ بنو حارث سے تھا، جو انصار کے ایک اہم قبیلے کے طور پر معروف ہے۔ آپ کی والدہ کا نام حُرّہ بنت عمرو تھا۔ انصار کے پہلے مسلمان ہونے والے افراد میں سے تھے اور مدینہ منورہ کے قدیم باشندوں میں شمار ہوتے تھے۔ آپ کی کنیت ابو محمد تھی۔ تاریخ اسلام میں آپ کو اس عظیم خواب کے ذریعے یاد کیا جاتا ہے جس میں آپ کو اذان کے کلمات سکھائے گئے، اور یہی خواب اسلامی دنیا میں مسلمانوں کو نماز کے لیے بلانے کا مستقل طریقہ بن گیا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ (یثرب) میں مقیم تھے اور اپنی قوم کے بااثر افراد میں سے تھے۔ آپ نے ہجرت مدینہ سے قبل ہی اسلام قبول کر لیا تھا اور انصار کے ان خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں خوش آمدید کہا اور دین اسلام کی نصرت کا بیڑا اٹھایا۔ آپ کا شمار سابقون الاولون (سبقت لے جانے والے پہلے مسلمان) میں ہوتا ہے اور آپ نے دعوت اسلامی کے ابتدائی دور میں ہی حق کو پہچان لیا تھا۔ مدینہ میں اسلامی ریاست کے قیام کے بعد آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی اور معتمد اصحاب میں شامل ہو گئے، اور ہر موقع پر آپ نے اپنی جان و مال سے اسلام کی خدمت کی۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کا سب سے نمایاں کارنامہ وہ عظیم خواب ہے جو ہجرت مدینہ کے بعد دیکھا گیا۔ جب مسلمان مدینہ تشریف لائے تو نماز کے لیے لوگوں کو جمع کرنے کا کوئی باقاعدہ طریقہ نہیں تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے اس مسئلے پر مشورہ فرمایا۔ مختلف آراء پیش کی گئیں، جیسے ناقوس بجانا یا آگ روشن کرنا، لیکن کوئی بھی طریقہ حتمی طور پر طے نہ پایا۔ اسی دوران ایک رات حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص سبز لباس میں آیا اور اس نے آپ کو اذان کے کلمات سکھائے اور پھر اقامت کے کلمات بھی بتائے۔

صبح بیدار ہو کر حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ فوراً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا خواب بیان کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا: "یہ سچا خواب ہے، اللہ تعالیٰ نے تمہیں دکھایا ہے۔” پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان کلمات کے ساتھ اذان دیں کیونکہ ان کی آواز بلند اور دلکش تھی۔ اسی دوران حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بھی آ کر بتایا کہ انہوں نے بھی ویسا ہی خواب دیکھا ہے، جس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم دیر سے نہیں آئے۔” اس طرح حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے خواب کے ذریعے نماز کے لیے اذان کا طریقہ مقرر ہوا، جو آج بھی دنیا بھر میں کروڑوں مسلمانوں کو نماز کی طرف بلاتا ہے۔

اذان کے اس عظیم کارنامے کے علاوہ، حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے اسلام کی سربلندی کے لیے مختلف غزوات اور سرایا میں فعال حصہ لیا۔ آپ نے غزوہ بدر، احد، خندق اور دیگر تمام اہم معرکوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ بشانہ ہو کر بہادری کے جوہر دکھائے۔ آپ ایک مخلص صحابی، سچے مومن اور دین کے لیے ہر قربانی دینے والے شخص تھے۔

میراث اور وصال

حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی سب سے بڑی میراث وہی اذان ہے جو تا قیامت مسلمانوں کو نماز کی طرف بلائے گی۔ یہ ان کے لیے ایک صدقہ جاریہ ہے اور اس سے انہیں ہر اس شخص کے ثواب کا حصہ ملتا رہے گا جو اذان سن کر نماز کی طرف آتا ہے۔ آپ نے ایک عظیم الشان روایت کو زندہ کیا جو آج بھی جاری و ساری ہے۔

آپ کا وصال 32 ہجری میں خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ہوا۔ بعض روایات میں آپ کی وفات کا سنہ 33 ہجری بھی بیان کیا جاتا ہے۔ آپ نے ایک طویل اور باوقار زندگی گزاری اور دین اسلام کی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ آپ مدینہ منورہ میں ہی وفات پائی اور وہیں تدفین ہوئی۔ آپ نے اپنے پیچھے ایک روشن مثال چھوڑی جس سے رہتی دنیا تک مسلمان ہدایت پاتے رہیں گے۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح بخاری، کتاب الأذان
  • صحیح مسلم، کتاب الصلاة
  • سنن أبی داود، کتاب الصلاة
  • جامع الترمذی، کتاب الصلاة
  • مسند أحمد
  • سیرت ابن ہشام
  • الاصابہ فی تمییز الصحابہ، ابن حجر عسقلانی
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، ابن اثیر
  • تاریخ طبری
  • البدایہ والنہایہ، ابن کثیر