عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا پورا نام عبداللہ بن رواحہ بن ثعلبہ بن امرئ القیس بن عمرو بن مالک الاغر بن ثعلبہ بن کعب بن الخزرج بن حارثہ بن ثعلبہ بن عمرو بن عامر بن حارثہ بن امرئ القیس ہے۔ آپ کا تعلق مدینہ منورہ کے قبیلہ خزرج کے بنو حارثہ خاندان سے تھا۔ آپ کی والدہ کا نام کبشہ بنت واقد بن عمرو تھا اور آپ کی بہن حضرت عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا تھیں جو کہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں۔ آپ انصار کے جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو آپ کی فصاحت و بلاغت اور شاعری کی وجہ سے خصوصی پہچان حاصل تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی شاعری کو سراہا اور آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے اسلام کا دفاع کیا۔ آپ کا شمار ان صحابہ میں ہوتا ہے جنہیں "نقباء” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، یعنی وہ بارہ سردار جنہیں بیعتِ عقبہ ثانیہ کے موقع پر اپنے قبیلے کا نمائندہ چنا گیا تھا۔ آپ کی کنیت ابو محمد یا ابو عمرو بیان کی جاتی ہے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور زمانہ جاہلیت میں بھی آپ کو اپنی قوم میں ایک باوقار مقام حاصل تھا۔ آپ ان چند مدنی افراد میں سے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے، جو اس دور میں ایک نایاب خوبی تھی۔ آپ نے نہایت ابتدائی دور میں اسلام قبول کیا۔ آپ نے انصار کے وفد کے ساتھ مکہ مکرمہ کا سفر کیا اور سنہ 13 نبوی میں ہونے والی دوسری بیعتِ عقبہ میں شرکت فرمائی۔ اس بیعت میں ستر انصار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور آپ کی نصرت کا عہد کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ستر افراد میں سے بارہ سرداروں کا انتخاب کیا، جنہیں نقباء کہا جاتا ہے۔ ان میں سے نو کا تعلق خزرج سے تھا اور تین کا تعلق اوس سے تھا۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ ان بارہ نقباء میں شامل تھے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اسلام کے ابتدائی ایام سے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتہائی معتمد اور بااثر ساتھیوں میں سے تھے۔ آپ کا قبولِ اسلام ایک پرخلوص اور پختہ عزم کا نتیجہ تھا، جس نے آپ کی آئندہ زندگی کو اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اسلام کی سربلندی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارا۔ آپ نے تمام غزوات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی اور اپنی شجاعت و بہادری کے جوہر دکھائے۔
- غزوات میں شرکت: آپ غزوہ بدر، احد، خندق، اور دیگر تمام اہم غزوات میں شریک ہوئے۔ ہر موقع پر آپ نے پامردی اور جاں نثاری کا ثبوت دیا۔
- غزوہ خیبر: فتح خیبر کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یہ ذمہ داری سونپی کہ آپ خیبر کی کھجوروں کی پیداوار کا تخمینہ لگائیں تاکہ مسلمانوں کا حصہ مقرر کیا جا سکے۔ یہودی آپ کی عدل پرستی سے واقف تھے اور آپ کے فیصلے پر اعتراض نہیں کرتے تھے، باوجود اس کے کہ آپ مسلمان تھے۔ ایک روایت کے مطابق، جب یہودیوں نے آپ کو رشوت کی پیشکش کی تو آپ نے سختی سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ "اللہ کی قسم! میں اللہ کے نزدیک تم سے زیادہ ناپسندیدہ مخلوق پر بھی انصاف کروں گا، اور تم میرے نزدیک بندر اور سور سے زیادہ ناپسندیدہ ہو، لیکن اس کے باوجود میں تمہاری حق تلفی نہیں کروں گا۔” آپ کے اس جواب سے یہودی متاثر ہوئے اور کہنے لگے کہ "اسی عدل پر آسمان اور زمین قائم ہیں۔”
- بطور شاعرِ رسول: حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تین اہم شعراء میں سے ایک تھے (دیگر حضرت حسان بن ثابت اور حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہم تھے)۔ آپ اپنی شاعری کے ذریعے مشرکین کی ہجو کا جواب دیتے، اسلام کی حقانیت بیان کرتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح سرائی کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی شاعری کو سراہتے ہوئے فرمایا تھا: "اللہ کے نام پر شعر کہو، روح القدس تمہارے ساتھ ہے۔” آپ کی شاعری میں جہاد کی ترغیب اور شہادت کی تمنا نمایاں تھی۔
- غزوہ موتہ کی قیادت اور شہادت: سنہ 8 ہجری میں غزوہ موتہ پیش آیا، جو رومی سلطنت کے خلاف مسلمانوں کا پہلا بڑا معرکہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لشکر کے لیے بالترتیب تین کمانڈر مقرر فرمائے: حضرت زید بن حارثہ، حضرت جعفر بن ابی طالب، اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم۔ جب پہلے دو کمانڈر (حضرت زید اور حضرت جعفر) شہید ہو گئے، تو قیادت حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں آئی۔ اس موقع پر مسلمانوں کے کچھ حوصلے پست ہو رہے تھے کیونکہ رومی فوج عددی اعتبار سے کہیں زیادہ تھی، لیکن آپ نے ایک ایمان افروز خطبہ دیا: "اے لوگو! اللہ کی قسم، جس چیز سے تم کراہت کرتے ہو (یعنی شہادت) وہی تم طلب کر رہے تھے۔ ہم لوگوں سے تعداد، طاقت اور کثرت کی وجہ سے نہیں لڑتے، بلکہ ہم اس دین کی وجہ سے لڑتے ہیں جس کے ساتھ اللہ نے ہمیں معزز فرمایا ہے۔ آگے بڑھو! ان دو بھلائیوں میں سے ایک تو ضرور ملے گی: یا فتح یا شہادت۔” اس خطبے نے لشکر میں نئی روح پھونک دی اور مسلمان جوش و خروش سے لڑے۔ آپ خود بھی بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدانِ جنگ میں شہید ہو گئے اور شہادت کے بلند مقام پر فائز ہوئے۔
میراث اور وصال
حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے سنہ 8 ہجری (629 عیسوی) میں غزوہ موتہ کے میدان میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان عظیم صحابہ میں سے تھے جنہوں نے اپنی جان، مال اور قلم سب کچھ اسلام کی خدمت میں وقف کر دیا۔ آپ کی شہادت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر بذریعہ وحی ملی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو اس بارے میں بتایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بہادری، ایمانی خطابت، اور شعری صلاحیتوں کے انمٹ نقوش چھوڑے۔ آپ کی میراث میں سب سے نمایاں آپ کا وہ ایمان افروز خطبہ ہے جو آپ نے غزوہ موتہ میں دیا، جس نے مسلمانوں کو جہاد کے لیے ابھارا اور انہیں شہادت کے رتبے کی عظمت یاد دلائی۔ آپ کی زندگی ایک ایسے سچے مؤمن کی مثال ہے جس نے دنیاوی زندگی کی عارضی آسائشوں پر آخرت کی ابدی کامیابی کو ترجیح دی۔ آپ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خصوصی شعراء میں سے ہونے کا شرف حاصل ہے، جنہوں نے اپنے قلم کو دینِ حق کے دفاع اور ترویج کے لیے استعمال کیا۔ آپ کی شہادت نے آئندہ نسلوں کے لیے قربانی اور شجاعت کی لازوال مثال قائم کی۔ آپ کی قربانی اور بہادری کو اسلامی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
مستند حوالہ جات
- صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوہ موتہ
- صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب فضائل جعفر بن ابی طالب و زید بن حارثہ و عبداللہ بن رواحہ
- سیرت ابن ہشام، غزوہ موتہ کا بیان
- البدایہ والنہایہ از ابن کثیر، جلد 4، غزوہ موتہ کا بیان
- تاریخ طبری، جلد 3، غزوہ موتہ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ کی شہادت
- اسد الغابہ فی معرفتہ الصحابہ از ابن الاثیر، ترجمہ عبداللہ بن رواحہ
- الاستیعاب فی معرفتہ الاصحاب از ابن عبدالبر، ترجمہ عبداللہ بن رواحہ
