عبدالله بن رواح رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام عبداللہ بن رواحہ بن ثعلبہ بن امرؤ القیس بن عمرو بن امرؤ القیس الاکبر بن مالک الاغر بن ثعلبہ بن کعب بن الخزرج الانصاری تھا۔ آپ کا تعلق مدینہ منورہ کے مشہور قبیلے بنو خزرج سے تھا، جو انصار کے دو بڑے قبائل میں سے ایک تھا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی کنیت ابوعمرو یا ابو محمد تھی۔ آپ انصار کے جلیل القدر صحابہ میں سے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ممتاز شعراء میں شمار ہوتے تھے۔ آپ کو "شاعر الرسول” کے لقب سے بھی جانا جاتا ہے کیونکہ آپ اپنے اشعار کے ذریعے اسلام کا دفاع کرتے اور کفار کی ہجو کرتے تھے، جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی حوصلہ افزائی فرمائی تھی۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ منورہ کے ان خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہوں نے دعوتِ اسلام کے ابتدائی دور میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپ مدینہ میں اسلام کی ترویج اور اشاعت میں پیش پیش رہے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے بیعتِ عقبہ ثانیہ (دوسری بیعتِ عقبہ) میں شرکت فرمائی۔ یہ وہ تاریخی بیعت تھی جس میں مدینہ منورہ کے 70 سے زائد افراد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی اور آپ کو مدینہ ہجرت کی دعوت دی۔ اس بیعت میں آپ کو اپنی قوم (بنو خزرج) کے 12 نقیبوں (نمائندوں) میں سے ایک مقرر کیا گیا تھا، جس سے ان کی قوم میں ان کے بلند مقام اور ان کی ذہانت و فراست کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس بیعت نے ہجرت مدینہ کی راہ ہموار کی اور اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ دینِ اسلام کی خدمت میں صرف کیا۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام بڑے غزوات میں شرکت فرمائی، جن میں بدر، احد، خندق، حدیبیہ اور خیبر شامل ہیں۔ ہر معرکے میں آپ نے نہایت بہادری اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔

آپ کی سب سے نمایاں خدمت آپ کی شاعری تھی۔ آپ اپنی فصیح و بلیغ شاعری سے اسلام کی حقانیت کا پرچار کرتے، مسلمانوں کو جہاد پر ابھارتے اور کفار کی مذمت کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی شاعری کو سراہتے ہوئے فرمایا تھا: "اللہ تعالیٰ ابنِ رواحہ کے اشعار پر رحم کرے، وہ کفار پر تیروں کی مانند ہیں۔” (صحیح مسلم)

آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض سریوں کا امیر بھی مقرر فرمایا۔ ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خیبر بھیجا تاکہ وہاں کی کھجوروں کی پیداوار کا تخمینہ لگائیں اور اس کا حصہ وصول کریں۔ جب یہودیوں نے انہیں رشوت دینے کی کوشش کی تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے سختی سے انکار کر دیا اور فرمایا: "اللہ کی قسم! میں اس کے پاس سے آیا ہوں جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، اور تمہارے پاس سے لوٹ کر جا رہا ہوں جو مجھے سب سے زیادہ ناپسند ہو، اور میرے دل میں تمہارے لیے جو نفرت ہے وہ مجھے اس بات پر آمادہ نہیں کر سکتی کہ میں اللہ کے حکم میں ناانصافی کروں۔” (سنن ابی داؤد، موطأ امام مالک)

آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ غزوہ موتہ میں آپ کی قیادت اور شہادت ہے۔ 8 ہجری میں پیش آنے والے اس غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یکے بعد دیگرے تین صحابہ کرام کو لشکر کا امیر مقرر فرمایا تھا: پہلے زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ، پھر جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ، اور پھر عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالی عنہ۔ جب زید بن حارثہ اور جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما یکے بعد دیگرے شہید ہو گئے تو علم حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالی عنہ نے سنبھالا۔ اس موقع پر آپ نے کچھ لمحے تردد کیا کیونکہ نفس نے دنیا کی آسائشوں کی طرف مائل کرنا چاہا، مگر فوراً ہی اپنے آپ کو ملامت کی اور ایک انتہائی ولولہ انگیز خطبہ دیا، جس میں آپ نے جہاد کی فضیلت، شہادت کی اہمیت اور جنت کی رغبت دلائی۔ آپ نے فرمایا: "اے نفس! تو اگر قتل نہیں کیا گیا تو بھی مرے گا ہی۔ پس شہادت کے میدان میں موت زیادہ بہتر ہے۔” اس کے بعد آپ نے نہایت شجاعت سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا۔

میراث اور وصال

حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالی عنہ نے 8 ہجری میں غزوہ موتہ کے دوران جام شہادت نوش فرمایا۔ آپ کی شہادت اس اسلامی لشکر کے عظیم قربانیوں میں سے ایک تھی جس نے رومی سلطنت کی وسیع فوج کے سامنے ثابت قدمی کا پہاڑ بن کر کھڑے ہونے کی مثال قائم کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی شہادت کی خبر وحی کے ذریعے ملی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو موتہ کے شہداء کی خبر دی اور ان کے لیے دعائے رحمت فرمائی۔

حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالی عنہ کی میراث ایک بہادر سپہ سالار، ایک مخلص شاعر اور ایک سچے عاشقِ رسول کی ہے۔ آپ کی شاعری آج بھی مسلمانوں کے لیے حوصہ افزائی کا ذریعہ ہے، اور آپ کی شجاعت اور ثابت قدمی آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ نے اپنی شاعری اور اپنی تلوار دونوں سے اسلام کی خدمت کی، اور شہادت کے بلند رتبے پر فائز ہوئے۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح بخاری
  • صحیح مسلم
  • تاریخ طبری (تاریخ الرسل والملوک)
  • البدایہ والنہایہ از حافظ ابن کثیر
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن اثیر
  • سیر اعلام النبلاء از امام ذہبی
  • موطأ امام مالک
  • سنن ابی داؤد