عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار ان جلیل القدر صحابہ کرام میں ہوتا ہے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی۔ آپ کا نسبی تعلق قریش کے بنو زہرہ قبیلے سے تھا، جو رسول اللہ ﷺ کے نانا کا قبیلہ تھا۔ آپ کا پورا نام عبدالرحمان بن عوف بن عبد عوف بن عبد بن حارث بن زہرہ بن کلاب تھا۔ آپ کی والدہ کا نام الشفاء بنت عبد مناف تھا، جو آپ ﷺ کی پھوپھی زاد بہن تھیں۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے آپ کا نام عبد عمرو یا عبد الکعبہ تھا، جسے رسول اللہ ﷺ نے تبدیل فرما کر عبدالرحمان رکھا۔ آپ کو السابقون الاولون (اسلام قبول کرنے والوں میں سے اولین) میں شمار کیا جاتا ہے اور آپ عشرہ مبشرہ (دس خوش نصیب صحابہ جنہیں جنت کی بشارت دی گئی) میں سے ایک ہیں۔ آپ کی کنیت ابو محمد تھی۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش عام الفیل کے تقریباً 10 سال بعد مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ جوانی میں آپ کا شمار مکہ کے باصلاحیت اور کامیاب تاجروں میں ہوتا تھا۔ آپ تجارت میں وسیع تجربہ اور بصیرت رکھتے تھے اور مال و دولت کی فراوانی کے باوجود نہایت معزز اور نیک سیرت شخص تھے۔ آپ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی دعوت پر اسلام قبول کیا، اور یہ قبول اسلام کے ابتدائی ایام کی بات ہے جب ابھی مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی۔ آپ ان آٹھ خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ مکہ میں اسلام لانے کے بعد آپ کو بھی دوسرے مسلمانوں کی طرح قریش کے ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا۔ اس ظلم و ستم کی وجہ سے آپ نے پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور پھر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ آپ نے دونوں ہجرتوں میں شرکت کا شرف حاصل کیا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
مدینہ ہجرت کے بعد رسول اللہ ﷺ نے جب مہاجرین اور انصار کے درمیان مؤاخات (بھائی چارے) قائم کی تو حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ کو انصاری صحابی حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ کا بھائی بنایا۔ حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ نے کمال ایثار کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی آدھی دولت اور اپنی دو بیویوں میں سے ایک کی پیشکش کی (جنہیں طلاق دینے کے بعد عبدالرحمان سے شادی کرادی جاتی) لیکن حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ نے نہایت خودداری کے ساتھ صرف بازار کا راستہ پوچھا اور تجارت کر کے اپنے لیے رزق کمانے کو ترجیح دی۔ آپ نے مدینہ کے بازار میں نہایت تیزی سے دوبارہ اپنا کاروباری مقام بنایا اور اللہ تعالی نے آپ کی تجارت میں بے پناہ برکت دی۔
آپ نے تمام غزوات میں رسول اللہ ﷺ کے شانہ بشانہ حصہ لیا۔ غزوہ بدر، احد، خندق اور دیگر تمام غزوات میں آپ نے شجاعت اور بہادری کے جوہر دکھائے۔ غزوہ احد میں جب مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے تھے، آپ ان چند صحابہ میں سے تھے جو رسول اللہ ﷺ کے گرد موجود رہے اور آپ ﷺ کا دفاع کیا۔
آپ کی سخاوت ضرب المثل تھی۔ آپ نے اللہ کی راہ میں بے مثال قربانیاں پیش کیں۔ غزوہ تبوک کے موقع پر جب رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو مال و دولت خرچ کرنے کی ترغیب دی تو حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ نے دو ہزار دینار یا ایک بڑا قافلہ جو کہ اس وقت بہت بڑی رقم تھی، پیش کیا۔ آپ نے اپنی زندگی میں کئی بار اپنا آدھا مال اللہ کی راہ میں صدقہ کیا۔ مروی ہے کہ آپ نے تیس ہزار غلام آزاد کیے۔ آپ نے امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی ضروریات کا بھی خاص خیال رکھا اور ان کے لیے اپنی وفات سے پہلے ایک بڑا باغ وصیت کیا جس سے انہیں مستقل آمدنی ہوتی رہے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی وفات سے قبل اگلے خلیفہ کے انتخاب کے لیے چھ رکنی شوریٰ (کمیٹی) تشکیل دی تھی، جس میں حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے۔ آپ نے اس شوریٰ میں کلیدی کردار ادا کیا اور تین دن تک مدینہ کے گلی کوچوں میں عوام الناس سے مشورہ کیا اور ان کی رائے جانی، پھر حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی اور اس طرح خلافت کا مسئلہ بہترین طریقے سے حل کیا۔ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ایک بار آپ ﷺ کی امامت میں نماز ادا کرنے کا منفرد شرف بھی حاصل ہوا جب آپ ﷺ فجر کی نماز کے لیے تاخیر سے تشریف لائے اور حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ جماعت کی امامت کروا رہے تھے۔ آپ ﷺ نے صف میں شامل ہو کر ان کے پیچھے نماز ادا کی۔
میراث اور وصال
حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ نے 32 ہجری میں 72 سال کی عمر میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں وفات پائی۔ آپ کی نماز جنازہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نے پڑھائی اور آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ آپ کی وفات کے وقت آپ کا ترکہ بہت زیادہ تھا، جس میں چار بیویاں، بے شمار اولاد، سونا، چاندی، اونٹ، گھوڑے اور زرعی زمینیں شامل تھیں۔ آپ کی دولت کے باوجود آپ ہمیشہ متقی، پرہیزگار اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے رہے۔ آپ نے اپنی سخاوت، تقویٰ، اور سلیم الطبع زندگی سے ایک بہترین مثال قائم کی اور مسلمانوں کے لیے تجارت، امانت داری اور دین کی خدمت کا ایک اعلیٰ نمونہ چھوڑا۔ آپ کا شمار ان عظیم ہستیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔
مستند حوالہ جات
- صحیح بخاری
- صحیح مسلم
- سیرت ابن ہشام
- تاریخ طبری
- البدایہ والنہایہ (حافظ ابن کثیر)
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ (ابن اثیر)
- الاصابہ فی تمییز الصحابہ (ابن حجر عسقلانی)
