عباس إبن مرداس رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت عباس ابن مرداس رضی اللہ تعالی عنہ کا مکمل نام عباس بن مرداس بن ابی عامر بن حارثہ بن عبد بن عبس بن رفاعہ بن حارث بن بہثہ بن سلیم السلمی تھا۔ آپ کا تعلق بنو سلیم کے معزز اور بڑے قبیلے سے تھا، جو اپنی شجاعت اور شاعری کے لیے مشہور تھا۔ آپ کے آبا و اجداد اپنے قبیلے کے سرداروں اور معززین میں شمار ہوتے تھے۔ بنو سلیم ایک طاقتور قبیلہ تھا جس کا شمار جزیرہ نما عرب کے اہم قبائل میں ہوتا تھا۔
آپ زمانہ جاہلیت کے معروف شعراء میں سے تھے اور آپ کو "عباس بن مرداس الشاعر” کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ آپ کی شاعری میں فخر، شجاعت اور قبائلی غیرت کا بھرپور اظہار ہوتا تھا، اور آپ کی زبان میں بڑی روانی اور بلاغت تھی۔ آپ اپنے قبیلے میں ایک بااثر اور محترم شخصیت تھے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
قبولِ اسلام سے قبل حضرت عباس ابن مرداس رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی بھی دوسرے قبائلی سرداروں کی طرح گزری۔ آپ اپنی بہادری اور فصاحت و بلاغت کی وجہ سے اپنے قبیلے میں ایک نمایاں مقام رکھتے تھے۔ آپ کی شاعری کو بڑے ذوق و شوق سے سنا جاتا تھا۔ آپ نے کئی قبائلی معرکوں میں حصہ لیا اور اپنی شجاعت کا لوہا منوایا۔
اسلام کی دعوت جب مکہ سے پھیلنی شروع ہوئی تو ابتدائی طور پر بنو سلیم کے بہت سے افراد نے مزاحمت کی، لیکن پھر آہستہ آہستہ اسلام کی حقانیت اور مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی قوت کا ادراک ہونا شروع ہوا۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا۔ آپ کے قبولِ اسلام کا ایک اہم واقعہ جنگ حنین کے بعد پیش آیا جس کا تذکرہ اکثر کتب سیر و تواریخ میں ملتا ہے۔
جنگ حنین کے بعد جب مال غنیمت تقسیم ہو رہا تھا، تو حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے محسوس کیا کہ انہیں (اور ان کے قبیلے کو) توقع سے کم حصہ ملا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اظہار کچھ اشعار کے ذریعے رسول اللہ ﷺ سے کیا، جس میں آپ نے اپنے قبیلے کے لیے بہتر حصہ طلب کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے آپ کی بات سنی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے آپ کو اطمینان بخش حصہ عطا فرمایا۔ اس واقعے سے آپ کو رسول اللہ ﷺ کی عدل و انصاف کی گہرائی کا ادراک ہوا اور آپ کا ایمان مزید مضبوط ہوا۔ اس کے بعد آپ نے اپنی پوری صلاحیتوں کو اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت عباس ابن مرداس رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی تمام تر صلاحیتیں اسلام کی خدمت میں صرف کر دیں۔ آپ نے اپنی فصاحت و بلاغت کو کفر و شرک کی مذمت اور اسلام کی حقانیت کے اظہار کے لیے استعمال کیا۔ آپ رسول اللہ ﷺ کے شعراء میں شامل ہو گئے اور اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں کے حوصلے بلند کیے اور کفار کی ہجو کی۔
آپ نے فتح مکہ کے بعد ہونے والے تمام غزوات میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شرکت فرمائی۔ آپ جنگ حنین اور طائف میں شامل تھے اور اپنی تلوار اور قلم دونوں کے ذریعے اسلام کا دفاع کیا۔ آپ نے اپنی قوم بنو سلیم کو بھی اسلام کی دعوت دی اور ان میں سے بہت سے افراد نے آپ کے ذریعے اسلام قبول کیا۔ آپ کا قبیلہ بنو سلیم بعد میں اسلامی فتوحات میں ایک اہم قوت بن کر ابھرا۔
آپ کی خدمات میں سے ایک اہم خدمت یہ بھی ہے کہ آپ نے اسلامی معاشرے میں اپنے قبیلے کی رہنمائی کی اور انہیں اسلامی اقدار اور تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دی۔ آپ کے اشعار اسلامی تاریخ کا حصہ ہیں جو اس دور کی تاریخ، جدوجہد اور ایمانی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔
میراث اور وصال
حضرت عباس ابن مرداس رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک طویل عمر پائی اور آپ نے اسلامی فتوحات کا ایک وسیع دور اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ آپ خلفائے راشدین کے دور میں بھی باحیات رہے۔ آپ کا وصال حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں تقریباً 30 ہجری کے بعد ہوا۔ آپ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اسلام کی خدمت، اشاعتِ دین اور اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں کے حوصلے بڑھانے میں صرف کیا۔
آپ کی میراث میں سب سے اہم آپ کی وہ شاعری ہے جو زمانہ جاہلیت سے اسلامی دور تک کے ارتقاء کو بیان کرتی ہے۔ آپ کی شاعری حقانیتِ اسلام، رسول اللہ ﷺ کی مدح سرائی اور اسلامی اقدار کے فروغ کا ذریعہ بنی۔ آپ ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے تھے جنہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو اللہ کے دین کے لیے وقف کر دیا اور رہتی دنیا تک آنے والے مسلمانوں کے لیے ایک بہترین نمونہ چھوڑا۔ آپ کی زندگی یہ سبق دیتی ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد انسان کو اپنی تمام صلاحیتوں کو دین کی خدمت میں لگانا چاہیے۔
مستند حوالہ جات
- سیرت ابن ہشام (Sirat Ibn Hisham)
- تاریخ طبری (Tarikh al-Tabari)
- البدایہ و النہایہ لابن کثیر (Al-Bidayah wa al-Nihayah by Ibn Kathir)
- اسد الغابہ فی معرفتہ الصحابہ لابن اثیر (Usd al-Ghabah fi Ma’rifat al-Sahabah by Ibn al-Athir)
- الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر عسقلانی (Al-Isabah fi Tamyiz al-Sahabah by Ibn Hajar al-Asqalani)
