عبادة بن الصامت رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت عبادة بن الصامت رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق مدینہ منورہ کے انصار کے قبیلہ خزرج سے تھا۔ آپ کا مکمل نسب عبادة بن الصامت بن قیس بن أصرم بن فهر بن ثعلبہ بن غنم بن عوف بن عمرو بن عوف بن الخزرج ہے۔ آپ کی والدہ کا نام قرۃ العین بنت عبادة تھا۔ آپ قبیلہ بنو غنم بن عوف کے سرداروں میں سے تھے۔ آپ کی کنیت ابو الولید تھی۔ عبادة بن الصامت رضی اللہ عنہ کا شمار ان جلیل القدر صحابہ کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کی ابتدائی تاریخ میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ اپنی شرافت، بردباری اور بصیرت کے لیے قبولِ اسلام سے قبل بھی اپنی قوم میں نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
ہجرت سے قبل مدینہ منورہ (جو اس وقت یثرب کہلاتا تھا) میں مقیم حضرت عبادة بن الصامت رضی اللہ عنہ ان خوش نصیب افراد میں شامل تھے جنہیں رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی دعوت کا شرف حاصل ہوا۔ آپ ان پہلے بارہ انصاریوں میں سے تھے جنہوں نے عقبہ اولیٰ (11 نبوی) کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کی تھی۔ بعد ازاں، آپ عقبہ ثانیہ (13 نبوی) میں بھی شامل تھے جہاں 73 مردوں اور 2 عورتوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی۔ اس بیعت کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے آپ کو ان بارہ نقیبوں (سرداروں) میں سے ایک مقرر فرمایا تھا جنہیں اپنی قوم کی ذمہ داری سنبھالنے اور ان کے دینی و دنیاوی معاملات کی نگہبانی کا فریضہ سونپا گیا تھا۔ اس طرح، آپ نے مدینہ منورہ میں اسلام کی بنیادوں کو مضبوط کرنے اور ہجرت نبوی ﷺ کے لیے ماحول سازگار بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ آپ نے اس موقع پر اللہ کے راستے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے بے خوف ہو کر حق گوئی اور دین پر ثابت قدمی کا عہد کیا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت عبادة بن الصامت رضی اللہ عنہ کی زندگی اسلامی خدمات سے بھرپور تھی۔ آپ کا شمار ان جلیل القدر صحابہ میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔
- غزوات میں شرکت: آپ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمام اہم غزوات میں شرکت کی، جن میں بدر، احد، خندق، خیبر، فتح مکہ، حنین اور تبوک شامل ہیں۔ آپ ان غازیوں میں سے تھے جن کی ثابت قدمی اور بہادری نے اسلامی فتوحات کی بنیاد رکھی۔ جنگ بدر میں آپ نے غیر معمولی شجاعت کا مظاہرہ کیا۔
- قرآن و حدیث کی تعلیم: آپ کا شمار ان صحابہ کرام میں ہوتا تھا جو قرآن کریم کے جید حافظ، عالم اور جامع تھے۔ آپ نے رسول اللہ ﷺ سے براہ راست علم حاصل کیا اور بعد میں اسے امت تک منتقل کیا۔
- امامت و قضاوت: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں، آپ کو شام (فلسطین) کے علاقے میں معلم، قاضی اور بیت المال کا انچارج بنا کر بھیجا گیا۔ حضرت عمرؓ نے آپ کو اہل شام کی طرف روانہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ "عبادہ اہل شام کو قرآن اور سنت کی تعلیم دیں، اور لوگوں کے درمیان فیصلے کریں”۔ اس عہدے پر فائز ہو کر آپ نے عدل و انصاف کے بہترین نمونے پیش کیے۔
- اسکندریہ کی فتح: حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے لشکر کے ساتھ آپ نے مصر اور اسکندریہ کی فتح میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اسکندریہ کی فتح کے موقع پر آپ کو لشکر کے ایک اہم حصے کی قیادت سونپی گئی تھی اور آپ کی موجودگی سے مسلمانوں کے حوصلے بلند ہوئے تھے۔
- حق گوئی اور بے باکی: آپ حق گوئی اور بے باکی میں لاثانی تھے۔ ایک موقع پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں جب سونا چاندی کے لین دین میں کمی بیشی کا معاملہ پیش آیا تو حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی حدیث مبارکہ "لا تبيعوا الذهب بالذهب إلا سواءً بسواء، والفضة بالفضة إلا سواءً بسواء” (سونے کو سونے کے بدلے نہ بیچو مگر برابر سرابر، اسی طرح چاندی کو چاندی کے بدلے مگر برابر سرابر) سنا کر اس کی مخالفت کی، حالانکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اس وقت شام کے حاکم تھے۔ آپ نے فرمایا کہ "مجھے اللہ کے راستے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہیں”۔ یہ آپ کے پختہ ایمان اور دین پر استقامت کی روشن دلیل ہے۔
- راوی حدیث: آپ نے رسول اللہ ﷺ سے کئی احادیث روایت کی ہیں جو صحیح بخاری، صحیح مسلم اور دیگر کتب حدیث میں موجود ہیں۔ آپ کا شمار کثیر الروایت صحابہ میں ہوتا ہے۔
میراث اور وصال
حضرت عبادة بن الصامت رضی اللہ عنہ نے دین اسلام کی ترویج و اشاعت، قرآن و سنت کی تعلیم اور اسلامی ریاست کے استحکام کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ آپ کی زندگی علم، عمل، شجاعت، تقویٰ، حق گوئی اور دین پر استقامت کا حسین امتزاج تھی۔ آپ نے بے شمار لوگوں کو قرآن و حدیث کی تعلیم دی اور ایک عظیم اسلامی میراث چھوڑی۔
آپ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں 34 ہجری میں وفات پائی۔ بعض روایات کے مطابق آپ کا وصال فلسطین کے شہر رملہ میں ہوا، جبکہ دیگر روایات کے مطابق آپ نے بیت المقدس میں وفات پائی۔ آپ کا مزار مبارک آج بھی بیت المقدس میں باب الرحمۃ (گولڈن گیٹ) کے قریب قبرستان میں موجود ہے، جہاں ہر سال ہزاروں مسلمان آپ کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔
مستند حوالہ جات
- سیرت ابن ہشام
- تاریخ طبری
- البدایہ والنہایہ از حافظ ابن کثیر
- اسد الغابہ فی معرفتہ الصحابہ از ابن الاثیر
- الاصابہ فی تمییز الصحابہ از ابن حجر عسقلانی
- صحیح بخاری
- صحیح مسلم
