عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام عامر بن ربیعہ بن مالک بن عامر بن ربیعہ بن حاجب بن سلیم بن نقیف بن وائل بن عمرو بن عنزہ بن وائل تھا اور آپ کا تعلق قبیلہ عنز بن وائل سے تھا۔ آپ کو "الوائلی” یا "الأنزي” کے لقب سے بھی پکارا جاتا ہے۔ آپ مکہ مکرمہ میں قریش کے قبیلہ بنو عدی کے حلیف تھے۔ یہ وہ قبیلہ تھا جس سے خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق تھا اور آپ الخطاب بن نفیل (حضرت عمر کے والد) کے حلیف تھے۔ آپ کی والدہ کا نام اُم عبداللہ بنت مالک تھا اور آپ کی زوجہ محترمہ کا نام لیلیٰ بنت ابی حثمہ رضی اللہ تعالی عنہا تھا جو کہ ایک جلیل القدر صحابیہ تھیں اور انہوں نے بھی آپ کے ساتھ ہجرت کے تمام مراحل طے کیے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالی عنہ ان خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہوں نے اسلام کی ابتدائی دعوت پر لبیک کہا اور "السابقون الأولون” (سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے) میں شامل ہوئے۔ آپ نے حضرت ارقم بن ابی الارقم رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر کو دعوت کا مرکز بنانے سے بھی پہلے اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپ کی زوجہ محترمہ لیلیٰ بنت ابی حثمہ رضی اللہ تعالی عنہا بھی ابتدائی ایام میں ہی اسلام لے آئی تھیں۔
مکہ مکرمہ میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے سبب، آپ کو سخت تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو حبشہ ہجرت کرنے کی اجازت دی تو عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنی زوجہ محترمہ لیلیٰ بنت ابی حثمہ کے ساتھ حبشہ کی پہلی ہجرت کرنے والوں میں شامل تھے، جو 5 نبوی میں ہوئی۔ حبشہ سے واپسی کے بعد جب دوبارہ ہجرت حبشہ کی ضرورت پیش آئی تو آپ اور آپ کی اہلیہ نے دوسری ہجرت حبشہ میں بھی شرکت کی۔ بعد ازاں، آپ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والوں میں بھی شامل تھے۔ آپ کی ہجرتوں کی یہ تفصیل دینِ اسلام کی خاطر قربانیوں کا ایک روشن باب ہے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی جہاد فی سبیل اللہ اور دینِ اسلام کی خدمت سے عبارت تھی۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تمام بڑے غزوات میں شرکت کی، جن میں بدر، احد، خندق، حدیبیہ، خیبر، فتح مکہ، حنین اور تبوک شامل ہیں۔ آپ کی جنگی خدمات اور اسلام کے لیے قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ آپ اپنی بہادری، ایمانی پختگی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ وفاداری کے لیے مشہور تھے۔
آپ کی زوجہ لیلیٰ بنت ابی حثمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ایک مشہور واقعہ ہے جو ہجرت حبشہ کے موقع پر پیش آیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب ہم ہجرت کی تیاری کر رہے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ابھی اسلام نہیں لائے تھے، تو انہوں نے ہمیں ہجرت کے ارادے سے جاتے ہوئے دیکھا اور تعجب کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: "کیا تم کوچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہو اے ام عبداللہ؟” (ام عبداللہ عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالی عنہ کی کنیت تھی)۔ لیلیٰ رضی اللہ تعالی عنہا نے جواب دیا کہ "ہاں اللہ کی قسم، تم لوگوں نے ہمیں اتنا ستایا ہے کہ ہم اللہ کی زمین میں نکل رہے ہیں تاکہ اللہ ہمیں کشادگی عطا فرمائے۔” حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس پر نرمی کا اظہار کیا اور کہا: "اللہ تمہارے ساتھ ہو!” لیلیٰ رضی اللہ تعالی عنہا نے بعد میں فرمایا کہ حضرت عمر کے چہرے پر غم اور درد کے آثار تھے، اور میں نے اس دن محسوس کیا کہ اسلام کی ان پر گہرا اثر کر رہا تھا۔ یہ واقعہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے اسلام قبول کرنے سے پہلے کی ان کی اندرونی کشمکش اور بعد میں اسلام قبول کرنے کی راہ ہموار کرنے کا ایک اہم پہلو اجاگر کرتا ہے۔

میراث اور وصال

عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک طویل عمر پائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد بھی ایک نمایاں صحابی کی حیثیت سے زندہ رہے۔ آپ مدینہ منورہ میں ہی قیام پذیر رہے اور وہاں ہی آپ کا وصال ہوا۔ مختلف روایات کے مطابق، آپ کا وصال حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں، تقریباً 32 ہجری یا 34 ہجری کے لگ بھگ ہوا۔ آپ نے ایک بیٹا عبداللہ بن عامر یادگار چھوڑا۔
آپ کی میراث، اسلام کی خاطر کی گئی ہجرتوں، غزوات میں شرکت، اور ابتدائی ایام میں اسلام قبول کرنے کی صورت میں نمایاں ہے۔ آپ ان جلیل القدر صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ حق کی خدمت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع میں گزاری۔ آپ کی استقامت، سادگی اور ایمانی پختگی بعد میں آنے والے مسلمانوں کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے۔

مستند حوالہ جات

  • ابن سعد، الطبقات الكبرى
  • ابن عبد البر، الاستيعاب في معرفة الأصحاب
  • ابن الأثير، أسد الغابة في معرفة الصحابة
  • ابن حجر عسقلانی، الإصابة في تمييز الصحابة
  • الذهبي، سير أعلام النبلاء
  • ابن کثیر، البدایہ والنہایہ