عاصم بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام عاصم بن ثابت بن ابی الاقلح الانصاری الاوسی البدری ہے۔ آپ کا تعلق مدینہ منورہ کے معروف قبیلے بنو عمرو بن عوف سے تھا جو اوس قبیلے کی ایک شاخ تھی۔ آپ کی والدہ کا نام الشموس بنت ابی عامر تھا، جو صحابیہ تھیں۔ حضرت عاصم ان خوش نصیب انصار صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے ہجرت مدینہ سے قبل ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپ کو "البدری” کا لقب اس لیے ملا کہ آپ غزوہ بدر میں شریک تھے، اور یہ ایک بہت بڑا اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو اپنی شجاعت، وفاداری اور دین کے لیے بے مثال قربانیوں کے سبب یاد کیا جاتا ہے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ منورہ کے ان اولین باشندوں میں سے تھے جنھوں نے دعوتِ اسلام پر لبیک کہا۔ آپ ان خوش نصیبوں میں شامل تھے جنہوں نے عقبہ ثانیہ کی بیعت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اس بیعت میں آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر حال میں مدد کرنے کا عہد کیا اور اس عہد کو اپنی حیات کے آخری لمحے تک خوب نبھایا۔ آپ کی ابتدائی زندگی اسلام کے دفاع اور ترویج کے لیے وقف رہی۔ مدینہ ہجرت کے بعد آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں تمام غزوات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنی جاں نثاری کا ثبوت دیا۔ آپ ایمان کی پختگی اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت کا حسین پیکر تھے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ نے غزوہ بدر میں نمایاں کارنامے انجام دیے اور کفر کے کئی علمبرداروں کو واصلِ جہنم کیا۔ غزوہ احد میں بھی آپ نے بے جگری سے لڑائی کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا۔ آپ کی سب سے مشہور خدمت اور شہادت کا واقعہ "سریۃ الرجیع” (غزوہ رجیع) کے نام سے مشہور ہے۔ یہ واقعہ ہجرت کے چوتھے سال پیش آیا جب کچھ قبائل (عضل اور قارہ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چند قاریوں کی درخواست کی تاکہ وہ انہیں دین سکھائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس صحابہ کرام کی ایک جماعت حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کی قیادت میں روانہ فرمائی۔ جب یہ جماعت مقام رجیع پر پہنچی تو ان قبائل نے غداری کی اور انہیں گھیر لیا، اور بنو لحیان کے مشرکین کی مدد سے انہیں شہید کرنے کی کوشش کی۔ حضرت عاصم رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بھرپور مزاحمت کی۔ اس موقع پر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ مشہور دعا فرمائی: "اللهم إني أحمي اليوم دينك فاحم لي لحمي” (اے اللہ! آج میں تیرے دین کی حفاظت کر رہا ہوں، سو تو میرے جسم کی حفاظت فرما)۔ آپ نے مزید فرمایا: "لا أمس مشركاً ولا يمسني مشرك” (میں کسی مشرک کو ہاتھ نہیں لگاؤں گا اور نہ کوئی مشرک مجھے ہاتھ لگائے گا)۔ آپ نے بہادری سے لڑتے ہوئے کئی مشرکوں کو قتل کیا اور بالآخر جام شہادت نوش فرمایا۔
میراث اور وصال
حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے بعد مشرکین (خاص طور پر صفوان بن امیہ جس کے باپ کو حضرت عاصم نے بدر میں قتل کیا تھا) نے آپ کے سر کو کاٹ کر مکہ لے جانے کی کوشش کی تاکہ انعام حاصل کر سکیں۔ لیکن اللہ تعالی نے اپنے نیک بندے کی دعا کو قبول فرمایا۔ جب مشرکین آپ کے جسدِ مبارک کے قریب پہنچے تو اللہ تعالی نے شہد کی مکھیوں یا بھڑوں کا ایک بہت بڑا غول بھیج دیا جنہوں نے آپ کے جسم کا گھیراؤ کر لیا اور مشرکین کو قریب نہیں آنے دیا۔ مشرکین نے انتظار کیا کہ رات ہو اور مکھیاں چلی جائیں، لیکن اللہ کی قدرت سے موسلادھار بارش شروع ہو گئی جس نے آپ کے جسدِ مبارک کو بہا کر ایسی جگہ پہنچا دیا جہاں مشرکین اسے تلاش نہ کر سکے۔ اس طرح حضرت عاصم رضی اللہ تعالی عنہ کی دعا قبول ہوئی اور ان کے جسم کو کسی مشرک نے ہاتھ نہیں لگایا۔ یہ واقعہ آپ کی کرامت اور اللہ تعالی کی طرف سے آپ کی عظمت کا نشان ہے۔ آپ کی یہ لازوال قربانی امت مسلمہ کے لیے استقامت اور اللہ پر توکل کی روشن مثال ہے۔ آپ کی اولاد میں بیٹے عبداللہ اور محمد اور بیٹی عاصمہ شامل ہیں۔
مستند حوالہ جات
- صحیح البخاری، کتاب المغازی (باب غزوۃ الرجیع و رجال اھل رجیع)
- صحیح مسلم، کتاب الإمارۃ (باب في قتال من غدر بأصحاب النبي ﷺ)
- سیرت ابن ہشام، ذکر مقتل خبیب و اصحابہ
- البدایہ والنہایہ از ابن کثیر، جلد 4، ذکر سریۃ رجیع
- تاریخ طبری، جلد 2، ذکر سریۃ رجیع
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن الاثیر، جلد 3، ذکر عاصم بن ثابت
- الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب از ابن عبد البر، جلد 2، ذکر عاصم بن ثابت
