ظہیر بن رافع رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ کا تعلق مدینہ منورہ کے قدیم اور معزز انصاری قبیلے بنو اوس کی شاخ بنو حارثہ سے تھا۔ آپ کا مکمل نام ظہیر بن رافع بن عدی بن زید بن جشم بن حارثہ تھا۔ آپ انصاری صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے اسلام کی ابتدائی ایام میں ہی حق کی آواز پر لبیک کہا۔ بعض روایات میں آپ کی کنیت ابو سفیان بھی ملتی ہے، تاہم آپ اپنے نام ظہیر بن رافع سے ہی زیادہ مشہور اور معروف ہیں۔ بنو حارثہ ایک بڑا قبیلہ تھا جس کا شمار ان قبائل میں ہوتا تھا جو ہجرت سے قبل یثرب کی سماجی و سیاسی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ کی ابتدائی زندگی مدینہ منورہ (اس وقت یثرب) میں گزری۔ آپ اپنی قوم کے دیگر افراد کی طرح کھیتی باڑی اور زراعت کے پیشے سے وابستہ تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے داعیوں کو اسلام کی تبلیغ کے لیے یثرب بھیجا تو انصاری صحابہ کرام کے دلوں میں اسلام کی روشنی اتری۔ ظہیر بن رافع ان خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہوں نے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی دعوت پر یا عقبہ ثانیہ کی بیعت کے موقع پر ہی اسلام قبول کر لیا۔ آپ ان سابقون الاولون میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے قبل ہی آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور دینِ حق کو قبول کیا۔ آپ نے اپنے ایمان میں پختگی اور صداقت کا بہترین مظاہرہ کیا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت اور نصرت کے لیے وقف کر دی۔

  • **بدر میں شرکت:** آپ ان بدری صحابہ میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے غزوہ بدر میں شرکت کا شرف بخشا، جو اسلام کی تاریخ کا پہلا اور فیصلہ کن معرکہ تھا۔ غزوہ بدر کے شرکاء کو اسلام میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔
  • **دیگر غزوات:** آپ نے غزوہ احد، غزوہ خندق اور فتح مکہ سمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام بڑے غزوات اور سرایا میں حصہ لیا اور ہر محاذ پر اپنی شجاعت اور وفاداری کا ثبوت دیا۔
  • **فقہی خدمات (المزارعہ کا مسئلہ):** ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ کو خاص طور پر زراعت اور کھیتی باڑی کے معاہدات (المزارعہ) سے متعلق ایک اہم حدیث روایت کرنے کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس رائج رواج کے بارے میں دریافت کیا کہ لوگ اپنی زمینیں اس شرط پر کرایہ پر دیتے ہیں کہ نہروں کے کنارے اگنے والی فصل یا چند مخصوص قطاروں کی پیداوار زمیندار کی ہو گی اور باقی کاشتکار کی، یا کسی خاص حصے کی پیداوار مخصوص کر دی جاتی تھی۔ اس صورتحال میں زمیندار کو تو فائدہ یقینی ہوتا تھا جبکہ کاشتکار کو نقصان کا خطرہ ہوتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے معاہدات سے منع فرمایا اور یہ ہدایت دی کہ یا تو زمین کو مکمل طور پر نقد کرائے پر دیا جائے یا زمیندار اور کاشتکار پیداوار کو نصف نصف یا کسی طے شدہ نسبت سے تقسیم کر لیں، بشرطیکہ وہ نسبت مجموعی پیداوار پر لاگو ہو۔ اس حدیث نے اسلامی فقہ میں مزارعہ کے احکام کی بنیاد رکھی اور انصاف پر مبنی زرعی معاہدات کی تعلیم دی۔ یہ حدیث صحیح مسلم اور دیگر کتب حدیث میں موجود ہے اور فقہاء کرام نے اس سے کئی مسائل کا استنباط کیا ہے۔
  • **روایت حدیث:** آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کیں، جن میں مذکورہ بالا حدیث المزارعہ سب سے نمایاں ہے۔ آپ کے بیٹے رافع بن ظہیر اور دیگر تابعین نے آپ سے حدیث کا علم حاصل کیا۔

میراث اور وصال

ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ کی میراث ان کی روایاتِ حدیث اور اسلامی فقہ میں ان کا عملی کردار ہے، خاص طور پر زراعت کے قوانین کے حوالے سے۔ آپ کی روایت کردہ حدیث نے زرعی تعلقات میں عدل و انصاف کے اصول وضع کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ آپ کی سیرت ایک سچے مومن، وفادار صحابی اور علم پر عمل کرنے والے داعی کی بہترین مثال ہے۔

آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد بھی ایک مدت تک حیات پائی اور دینِ اسلام کی خدمت میں مصروف رہے۔ آپ کا وصال امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں تقریباً 40 ہجری میں ہوا، بعض روایات کے مطابق آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں وفات پائی۔ آپ نے ایک بھرپور اور بابرکت زندگی گزاری، اور اپنے پیچھے علم و تقویٰ کی ایک عظیم میراث چھوڑی۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح بخاری
  • صحیح مسلم
  • سنن ابی داؤد
  • سنن ترمذی
  • مسند احمد بن حنبل
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن الاثیر
  • الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ از ابن حجر عسقلانی
  • سیر اعلام النبلاء از امام ذہبی
  • البدایہ والنہایہ از ابن کثیر