طلحة بن عبيد الله رضی اللہ تعالی عنہ
خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام طلحہ بن عبید اللہ بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ القرشی التیمی تھا۔ آپ کا تعلق قریش کے بنو تیم قبیلے سے تھا، اسی قبیلے سے تعلق رکھنے والے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ بھی تھے۔ آپ کا نسب چھٹی پشت میں مرہ بن کعب پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملتا ہے۔ آپ کی والدہ کا نام الصعبہ بنت الحضرمی تھا۔ آپ کا لقب ابو محمد تھا۔ آپ ان دس خوش نصیب صحابہ کرام میں سے ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی تھی، اسی لیے انہیں "عشرہ مبشرہ” میں شمار کیا جاتا ہے۔ غزوہ احد کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت میں بے مثال شجاعت دکھانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو "شہیدِ زندہ” (زمین پر چلتا پھرتا شہید) کے لقب سے نوازا۔ آپ اپنی بے مثال سخاوت اور فیاضی کی وجہ سے بھی مشہور تھے، اور اس وصف میں بھی آپ کا کوئی ثانی نہ تھا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ تعالی عنہ مکہ مکرمہ میں عام الفیل کے تقریباً 28 سال بعد (تقریباً 594 عیسوی) پیدا ہوئے۔ آپ کا شمار مکہ کے معزز نوجوانوں میں ہوتا تھا اور آپ تجارت کے پیشے سے منسلک تھے۔ آپ کی قبولِ اسلام کا واقعہ دلچسپ اور ایمان افروز ہے۔ ایک تجارتی سفر کے دوران، جب آپ بصریٰ (شام) کے بازار میں تھے، آپ نے ایک راہب کو یہ کہتے سنا کہ "یہاں کے لوگو! اس علاقے میں ایک پیغمبر ظاہر ہونے والا ہے جو مکہ سے ہوگا اور حرم سے ہجرت کرے گا”۔ راہب نے یہ بھی بتایا کہ یہ آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے۔ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ بات سنی تو واپس مکہ آتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بارے میں تحقیق کی۔ اسی دوران آپ کی ملاقات حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے ہوئی جنہوں نے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنتے ہی آپ نے اسلام قبول کرلیا اور اس طرح آپ اسلام قبول کرنے والے ابتدائی چند افراد میں شامل ہو گئے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کو بھی قریش کے دیگر نو مسلموں کی طرح ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا، بعض روایات کے مطابق نوفل بن خویلد نے آپ کو اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کو ایک رسی سے باندھ دیا تھا جس کی وجہ سے انہیں "القرینان” (دو بندھے ہوئے) کہا جاتا تھا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی جہاد، ایثار اور سخاوت سے بھرپور تھی۔
- **غزوہ احد میں دفاعِ رسول:** غزوہ احد میں مسلمانوں کو ابتدائی کامیابی کے بعد جب پیچھے ہٹنا پڑا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کفار کے گھیرے میں آگئے تو حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا۔ آپ نے اپنے جسم سے تیروں اور تلواروں کے وار روکے، اس دوران آپ کو ستر سے زائد زخم آئے، ایک ہاتھ شل ہو گیا اور ایک انگلی کٹ گئی۔ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "من أراد أن ينظر إلى شهيد يمشي على وجه الأرض فلينظر إلى طلحة” (جو شخص کسی ایسے شہید کو دیکھنا چاہے جو زمین پر چل رہا ہو تو وہ طلحہ کو دیکھے)۔
- **دیگر غزوات میں شرکت:** آپ نے غزوہ بدر کے علاوہ تمام بڑے غزوات میں شرکت کی۔ غزوہ بدر کے موقع پر آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجسس اور معلومات حاصل کرنے کے لیے شام بھیجا تھا، البتہ مال غنیمت میں آپ کا حصہ دیا گیا۔ آپ غزوہ خندق، خیبر، فتح مکہ، حنین اور تبوک میں بھی شریک رہے۔
- **سخاوت اور فیاضی:** آپ اپنی بے مثال سخاوت کے لیے مشہور تھے۔ آپ کو "طلحۃ الفیاض” کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ ایک دفعہ آپ نے اپنی زمین سات لاکھ درہم میں فروخت کی اور وہ تمام رقم فقراء، مساکین اور حاجت مندوں میں تقسیم کردی۔ آپ کی زوجہ حضرت سعدی بنت عوف رضی اللہ عنہا نے گواہی دی کہ آپ کی سخاوت کا یہ عالم تھا کہ کبھی گھر میں ایک درہم بھی نہ بچتا۔
- **علم و تقویٰ:** آپ کا شمار با علم صحابہ کرام میں ہوتا تھا۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث روایت کیں اور اسلامی تعلیمات کی گہری سمجھ رکھتے تھے۔
- **اہل شوریٰ میں شمولیت:** حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے بعد خلیفہ کے انتخاب کے لیے جن چھ صحابہ پر مشتمل شوریٰ بنائی تھی، حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ ان میں سے ایک تھے۔
میراث اور وصال
حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے خلفائے راشدین حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے ادوار میں ایک اہم مقام رکھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والے فتنوں سے آپ سخت نالاں تھے۔ آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے قصاص کا مطالبہ کرنے والوں کا ساتھ دیا اور اس کے نتیجے میں جنگِ جمل میں شریک ہوئے۔ سن 36 ہجری (656 عیسوی) میں جنگِ جمل کے دوران آپ کو ایک تیر لگا (بعض روایات کے مطابق مروان بن حکم نے مارا، جبکہ کچھ روایات میں ہے کہ آپ نے جنگ سے علیحدگی کا ارادہ کیا تھا کہ ایک تیر لگ گیا) اور آپ اسی زخم کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔ آپ کی عمر 62 یا 64 سال تھی۔ آپ کو بصرہ میں دفن کیا گیا۔ بعد ازاں آپ کے بیٹے نے آپ کی قبر کو بصرہ سے منتقل کیا۔ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے پیچھے شجاعت، سخاوت، تقویٰ اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بے مثال قربانی کی ایک ایسی وراثت چھوڑی جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ کا شمار عظیم المرتبت صحابہ کرام میں ہوتا ہے جن کی زندگی ہر مسلمان کے لیے قابلِ تقلید ہے۔
مستند حوالہ جات
- صحیح بخاری
- صحیح مسلم
- سیرۃ ابن ہشام
- البدایة والنهایة از ابن کثیر
- تاریخ الرسل والملوک از طبری
- الاستیعاب فی معرفة الاصحاب از ابن عبدالبر
- اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ از ابن الاثیر
