طفيل بن امر الدوسى رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

طفیل بن عمرو الدوسی رضی اللہ تعالی عنہ ایک جلیل القدر صحابی اور قبیلہ دوس کے سرداروں میں سے تھے۔ ان کا مکمل نام طفیل بن عمرو بن طریف بن العاص بن ثعلبہ بن سدیر بن ہدم بن جشیش بن عدی بن مالک بن فہم الدوسی تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ یمن کے ایک طاقتور اور بااثر قبیلے دوس سے تعلق رکھتے تھے، جو اپنے فصاحت و بلاغت، جرات اور سخاوت کی وجہ سے مشہور تھا۔ طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ خود بھی اپنے قبیلے کے ایک معزز اور ممتاز شخصیت تھے، جو شاعری، حکمت اور سرداری کے اوصاف سے مزین تھے۔ لوگ آپ کی رائے کو اہمیت دیتے تھے اور آپ کے فیصلوں کو قبول کرتے تھے۔

آپ رضی اللہ عنہ کو "ذی النور” (نور والا) کا لقب ملا، جس کی وجہ ایک معجزہ تھا جو اللہ تعالی نے آپ کی دعاء پر ظاہر فرمایا تاکہ آپ کی قوم کو ہدایت ملے۔ آپ کے ماتھے سے ایک نور نکلتا تھا، جو آپ کی دعوت کے سچ ہونے کی دلیل تھا۔ یہ واقعہ آپ کے قبول اسلام کے بعد پیش آیا جب آپ اپنی قوم کو دین کی دعوت دینے کے لیے واپس لوٹے اور آپ نے اللہ تعالیٰ سے ایک نشانی طلب کی۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

اسلام قبول کرنے سے قبل طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ کا شمار عرب کے ممتاز سرداروں میں ہوتا تھا، جو اپنی دور اندیشی، کلام کی پختگی اور شاعری کے لیے مشہور تھے۔ ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل ایک سال (بعض روایات میں کئی سال قبل) وہ مکہ مکرمہ تشریف لائے۔ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں اسلام کی دعوت دے رہے تھے اور قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید مخالفت کر رہے تھے۔ قریش نے لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی اور مکہ آنے والے ہر شخص کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں طرح طرح کی باتیں بتاتے تھے، تاکہ کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ سن سکے۔

جب طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ مکہ پہنچے تو قریش کے لوگوں نے انہیں بھی روکا اور کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ایک ساحر ہیں، ان کی باتوں سے بچو، ورنہ وہ تمہارے خاندان میں پھوٹ ڈال دیں گے اور تمہارے معاملات بگاڑ دیں گے۔ انہوں نے طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ کو اس حد تک ڈرایا کہ آپ نے اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لی تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہ سن سکیں۔ لیکن، جیسا کہ آپ ایک ذی ہوش اور عقلمند شخص تھے، آپ نے بعد میں سوچا کہ "میں تو ایک سمجھ دار اور تجربہ کار شاعر ہوں، میں بھلا کسی کی بات کا اتنا اثر کیسے لے سکتا ہوں؟ مجھے خود سننا چاہیے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا کہتے ہیں، اگر ان کی بات اچھی ہوئی تو قبول کر لوں گا اور اگر بری ہوئی تو چھوڑ دوں گا۔”

اس ارادے کے ساتھ ایک دن آپ حرم میں داخل ہوئے جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا فرما رہے تھے۔ طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ قریب جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام (قرآن) کو غور سے سننے لگے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی اور اپنے گھر کی طرف تشریف لے چلے تو طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہو لیے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی اندر آنے کی اجازت چاہی۔ اجازت ملنے پر انہوں نے اپنا سارا ماجرا بیان کیا کہ قریش نے انہیں کیسے ڈرایا تھا اور انہوں نے کیسے روئی اپنے کانوں میں ڈالی تھی، لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں حق کو جاننے کا داعیہ پیدا کیا۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ انہیں اسلام کی تعلیمات سے آگاہ کیا جائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قرآن کی آیات سنائیں اور اسلام کی دعوت پیش کی۔ طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ کے دل پر قرآن کا کلام اس قدر اثر انداز ہوا کہ وہ وہیں کلمہ شہادت پڑھ کر مسلمان ہو گئے اور اسلام قبول کر لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ وہ اپنی قوم کو بھی اسلام کی دعوت دینا چاہتے ہیں اور ان کے لیے دعا کی درخواست کی۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

قبولِ اسلام کے بعد، طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ اپنی قوم، قبیلہ دوس، میں جا کر انہیں اسلام کی دعوت دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی اور ان کی کامیابی کے لیے دعا فرمائی۔ طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ جب اپنی قوم کے پاس پہنچے تو سب سے پہلے اپنے والد اور اپنی بیوی کو اسلام کی دعوت دی، جنہوں نے ابتدا میں پس و پیش کے بعد اسلام قبول کر لیا۔ لیکن ان کی قوم نے عام طور پر مزاحمت کی اور ان کی بات نہ مانی۔ انہوں نے قبیلہ دوس کے لوگوں کو کئی دن تک اسلام کی دعوت دی لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ جب قبیلے کے لوگوں نے ان کی دعوت قبول نہ کی اور ان کے خلاف مختلف حیلے بہانے کرنے لگے تو طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ دل برداشتہ ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ "یا رسول اللہ! قبیلہ دوس ہٹ دھرم ہے، وہ بات نہیں مانتا، آپ ان کے لیے بددعا فرمائیں”۔

مگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو رحمت اللعالمین تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا کے بجائے دعا فرمائی: "اے اللہ! قبیلہ دوس کو ہدایت دے اور انہیں میرے پاس لے آ۔” اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ "تم دوبارہ اپنی قوم کی طرف جاؤ، انہیں نرمی اور حکمت سے دعوت دو۔” اس موقع پر طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نشانی (معجزہ) عطا کرنے کی درخواست کی تاکہ ان کی قوم آسانی سے بات مان لے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا اور طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ کی درخواست کے نتیجے میں، آپ کے چہرے (پیشانی یا آنکھوں کے درمیان) سے ایک نور ظاہر ہونا شروع ہوا، جو ہر وقت چمکتا رہتا تھا۔ اسی وجہ سے انہیں "ذی النور” کا لقب ملا۔ اس نور کو دیکھ کر اور طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ کی مسلسل دعوت سے آہستہ آہستہ قبیلہ دوس کے لوگ اسلام قبول کرنے لگے۔

ہجرت کے بعد اور غزوہ خیبر کے بعد (بعض روایات میں اس سے قبل) طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے کے ستر یا اسی گھرانوں کو لے کر مدینہ منورہ پہنچے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خیبر سے واپس تشریف لائے تھے۔ یہ دوس قبیلے کی پہلی بڑی ہجرت تھی۔ اس کے بعد طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی مدینہ میں ہی مقیم رہے اور اسلامی لشکر میں شامل ہو کر مختلف غزوات میں حصہ لیا۔

آپ کے نمایاں کارناموں میں سے ایک فتح مکہ کے بعد پیش آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ کو ان کے قبیلے کے بت "ذوالکفین” کو توڑنے کا حکم دیا۔ یہ بت قبیلہ دوس کا ایک مشہور اور مقدس بت تھا جسے وہ پوجتے تھے۔ طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم کے چند ساتھیوں کے ساتھ ذوالکفین کے پاس گئے اور اسے توڑ دیا، پھر اس کے تمام آثار کو جلا ڈالا۔ اس کے بعد قبیلہ دوس کے باقی تمام لوگ بھی اسلام میں داخل ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیعت کی۔

آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ حنین اور طائف کے محاصرے میں بھی بہادری سے حصہ لیا۔ طائف کے محاصرے کے دوران انہوں نے ایک خواب دیکھا کہ وہ شہید ہو گئے ہیں اور ان کا سر منڈا ہوا ہے اور ان کے ایک دانت سے خون بہہ رہا ہے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی تعبیر پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا سر منڈوانا یہ ہے کہ تم نے جنگ کی اور تمہارے دانت کا کٹا ہونا یہ ہے کہ تم جلد ہی شہید ہو گے اور تمہارے جسم سے خون بہے گا۔

میراث اور وصال

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جب ارتداد کی تحریکیں اٹھیں تو طفیل بن عمرو الدوسی رضی اللہ عنہ نے خلیفہ اول ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا بھرپور ساتھ دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ مرتدین کے خلاف لڑی جانے والی جنگوں، بالخصوص جنگ یمامہ، میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لشکر کے ساتھ شریک ہوئے۔ یہ وہ جنگ تھی جو جھوٹے نبی مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی تھی۔

جنگ یمامہ کے دوران، طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے شجاعت اور بہادری کی لازوال مثال قائم کی۔ اسی معرکے میں آپ نے جام شہادت نوش فرمایا۔ شہادت کے وقت ان کا وہی خواب پورا ہوا جو انہوں نے طائف کے محاصرے کے دوران دیکھا تھا۔ ان کا ایک ہاتھ (یا دانت) جنگ کے دوران کٹ گیا اور وہ اللہ کی راہ میں شہید ہو گئے، جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی فرمائی تھی۔

طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بیٹے عمرو بن طفیل بھی ان کے ساتھ اس جنگ میں شریک تھے اور انہوں نے بھی زخم کھائے۔ وہ اس جنگ میں شہید نہیں ہوئے بلکہ بعد میں جنگ یرموک میں شہید ہوئے۔ طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اسلام کے لیے اپنی جان، مال اور اثر و رسوخ سب کچھ وقف کر دیا۔ آپ کی زندگی دعوتِ دین، ثابت قدمی اور جہاد فی سبیل اللہ کی بہترین مثال ہے۔ آپ کی قربانیاں اور خدمات امت مسلمہ کے لیے ہمیشہ مشعل راہ رہیں گی۔

مستند حوالہ جات

  • ابن ہشام، السیرۃ النبویہ، الجزء الاول و الثانی
  • ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، الجزء الثالث و الرابع
  • طبری، تاریخ الرسل والملوک، الجزء الثانی و الثالث
  • ابن الاثیر، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابہ، الجزء الثالث
  • ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ فی تمییز الصحابہ، الجزء الثالث
  • الذهبی، سیر اعلام النبلاء، الجزء الاول