سہیل بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

سہیل بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام سہیل بن عمرو بن عبد شمس بن عبد ود بن نصر بن مالک بن حسل بن عامر بن لؤی تھا۔ آپ کا تعلق قریش کے معزز قبیلے بنو عامر بن لؤی سے تھا۔ آپ قریش کے سرکردہ اور بااثر رؤسا میں شمار ہوتے تھے۔ اپنی فصاحت و بلاغت اور قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے قریش میں آپ کو نمایاں حیثیت حاصل تھی۔ آپ کو "ابو یزید” کی کنیت سے پکارا جاتا تھا اور قریش کی جانب سے اکثر سفارتی معاملات میں آپ ہی کو نمائندہ بنا کر بھیجا جاتا تھا۔ زمانہ جاہلیت میں آپ کی شخصیت کو قریش کی عزت اور وقار کا نشان سمجھا جاتا تھا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

سہیل بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ اپنی ابتدائی زندگی میں اسلام کے سخت مخالفین میں سے تھے اور مکہ میں اہل ایمان پر ظلم و ستم میں پیش پیش رہے۔ آپ کی فصاحت و بلاغت اور زورِ خطابت کو رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جاتا تھا۔ غزوہ بدر میں آپ مسلمانوں کے ہاتھوں قید ہوئے، جہاں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کے دانت توڑنے کی تجویز پیش کی تاکہ وہ دوبارہ اسلام کے خلاف تقریر نہ کر سکیں، لیکن رسول اللہ ﷺ نے یہ تجویز رد کر دی اور فرمایا کہ شاید کسی دن یہ اسلام کے لیے کام آئیں۔ آپ کو فدیہ لے کر رہا کیا گیا۔

سہیل بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ کی سب سے نمایاں پہچان صلح حدیبیہ کے موقع پر ہے۔ اس صلح میں وہ قریش کی جانب سے نمائندہ خاص کے طور پر شریک ہوئے اور مسلمانوں کے لیے بظاہر سخت شرائط پر اصرار کیا، جیسے معاہدے میں "بسم اللہ الرحمن الرحیم” کی جگہ "باسمک اللّٰھم” اور "محمد رسول اللہ” کی جگہ "محمد بن عبداللہ” لکھوانا، اور یہ کہ اگر مکہ کا کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ چلا جائے تو اسے واپس کیا جائے گا۔ یہ شرائط آپ کی سیاسی بصیرت اور قریش کے مفادات کے تحفظ کے لیے ان کی غیر متزلزل وفاداری کا ثبوت تھیں۔

فتح مکہ کے دن آپ نے اسلام قبول کیا۔ ابتدا میں آپ نے مکہ سے فرار ہونے کا ارادہ کیا، لیکن اپنے بیٹے حضرت عبداللہ بن سہیل رضی اللہ تعالی عنہ کے مشورے اور رسول اللہ ﷺ کی عام معافی کے اعلان کے بعد آپ نے ہتھیار ڈال دیے اور مسلمان ہو گئے۔ آپ کے قبولِ اسلام نے مکہ میں ایک بڑا اثر ڈالا اور دیگر لوگوں کے لیے بھی راہ ہموار کی۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

قبولِ اسلام کے بعد سہیل بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی میں ایک انقلابی تبدیلی آئی۔ جس زورِ خطابت اور فصاحت کو وہ اسلام کی مخالفت میں استعمال کرتے تھے، اب وہی قوت اسلام کی خدمت کے لیے وقف ہو گئی۔ فتح مکہ کے بعد جب اہل مکہ پریشان اور خوف زدہ تھے، سہیل بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ نے کھڑے ہو کر ایک مؤثر اور ولولہ انگیز خطبہ دیا، جس میں انہوں نے اہل مکہ کو فرار ہونے کے بجائے اسلام قبول کرنے اور اس نئے نظام کو تسلیم کرنے کی تلقین کی، جس سے مکہ میں امن و امان قائم ہوا اور مزید فتنہ و فساد کا سدباب ہوا۔

آپ نے اپنے آپ کو مکمل طور پر دین اسلام کے لیے وقف کر دیا اور عبادات میں غیر معمولی ریاضت اختیار کی۔ آپ کثرت سے روزے رکھتے، نمازیں ادا کرتے اور صدقہ و خیرات کرتے تھے۔ آپ نے خلفائے راشدین کے دور میں اسلامی فتوحات میں فعال حصہ لیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں آپ نے شام کی جہادی مہمات میں شرکت کی، خاص طور پر جنگ یرموک میں آپ نے نمایاں کردار ادا کیا اور مسلمانوں کی فتح میں اہم حصہ لیا۔ آپ نے شام کے علاقے میں سکونت اختیار کر لی اور وہاں مسلمانوں کی رہنمائی اور اسلامی تعلیمات کے فروغ میں سرگرم رہے۔

میراث اور وصال

سہیل بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ کی زندگی اسلام کی عظمت کا ایک روشن باب ہے۔ ان کی مثال اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام کس طرح انسانوں کی کایا پلٹ دیتا ہے، اور شدید ترین مخالفین کو بھی اپنا والہانہ عاشق بنا دیتا ہے۔ آپ کی فصاحت و بلاغت اور قائدانہ صلاحیتیں، جو کبھی اسلام کے خلاف تھیں، بعد میں اس کی اشاعت اور دفاع میں استعمال ہوئیں۔

آپ نے شام میں جہاد میں اپنی زندگی گزاری اور آخر کار 18 ہجری بمطابق 639 عیسوی میں طاعونِ عمواس کی وبا کے دوران شام میں ہی وفات پائی۔ آپ نے یہ وصیت کی تھی کہ وہ مکہ واپس نہیں جائیں گے، بلکہ اسی سرزمین میں وفات پائیں گے جہاں وہ جہاد کر رہے تھے۔ آپ کو شہدائے عمواس کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ آپ کے بیٹے حضرت ابو جندل رضی اللہ تعالی عنہ بھی جلیل القدر صحابی تھے۔ آپ کی میراث میں اسلام کی حقانیت، توبہ کی قبولیت اور ایک کٹر مخالف کا مخلص ترین خادمِ دین بن جانے کی حیرت انگیز داستان شامل ہے۔

مستند حوالہ جات

  • سیرت ابن ہشام
  • تاریخ طبری
  • البدایہ والنہایہ از ابن کثیر
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن الاثیر
  • الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب از ابن عبدالبر
  • الإصابة في تمييز الصحابة از ابن حجر عسقلانی