سہل بن حنیف رضی اللہ تعالی عنہ

خاندانی پس منظر اور لقب

سہل بن حنیف رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام سہل بن حنیف بن وہب بن العجیل بن دہیہ بن مازن بن معاویہ بن عمرو بن مالک بن نجار الانصاری الاوسی البدری تھا۔ آپ انصار کے قبیلہ اوس سے تعلق رکھتے تھے، اور مدینہ منورہ کے معروف خاندان بنو عمرو بن مالک کے فرد تھے۔ آپ کے والد کا نام حنیف بن وہب تھا۔ آپ کی کنیت ابو سعد یا ابو ثابت تھی، تاہم ابو سعد زیادہ معروف ہے۔ آپ کو "البدری” کے لقب سے پکارا جاتا تھا کیونکہ آپ نے غزوہ بدر میں شرکت فرمائی تھی۔ آپ کا شمار جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ہوتا ہے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

سہل بن حنیف رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور وہیں پروان چڑھے۔ آپ ان خوش نصیب انصار میں سے تھے جنہوں نے ہجرت مدینہ سے قبل ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ آمد سے قبل ہی توحید کا دامن تھام لیا تھا اور اسلام کی ابتدائی اشاعت میں اپنا کردار ادا کیا۔ آپ کے قبول اسلام کے بعد آپ کا شمار ان سچے مسلمانوں میں ہونے لگا جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت اور دین کی خدمت کا بیڑا اٹھایا۔ آپ کا ایمان شروع ہی سے پختہ اور غیر متزلزل تھا، اور آپ نے اپنی زندگی کو مکمل طور پر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے لیے وقف کر دیا تھا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

سہل بن حنیف رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی تمام زندگی دین اسلام کی سربلندی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزاری۔

  • غزوات میں شرکت: آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ آپ نے تمام بڑے غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت فرمائی۔ خاص طور پر غزوہ بدر، غزوہ احد اور غزوہ خندق میں آپ کی شجاعت اور ثابت قدمی مثالی تھی۔ غزوہ احد کے موقع پر جب مسلمانوں میں انتشار پیدا ہوا تھا، تو آپ ان چند صحابہ میں سے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ آپ نے بیعت رضوان میں بھی حصہ لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر بیعت کی۔
  • تیر اندازی میں مہارت: آپ ایک ماہر تیر انداز تھے اور اپنی اس مہارت کو اسلامی دفاع کے لیے استعمال کیا۔
  • نظر بد کا واقعہ: آپ سے منسوب ایک مشہور واقعہ ہے جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مذکور ہے۔ آپ ایک مرتبہ غسل فرما رہے تھے کہ عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالی عنہ کی نظر آپ پر پڑی، اور انہوں نے آپ کے حسنِ جلد کی تعریف کی۔ جس کے بعد آپ کو نظر بد لگ گئی اور آپ بیمار ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن ربیعہ کو غسل کرنے کا حکم دیا اور اس پانی سے سہل بن حنیف رضی اللہ تعالی عنہ پر چھڑکنے کو کہا، جس سے آپ کو فوراً شفا ہو گئی۔ یہ واقعہ نظر بد کی حقیقت اور اس کے علاج کے حوالے سے بہت اہم ہے۔
  • انتظامی خدمات: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد، آپ نے خلفائے راشدین کے دور میں بھی اہم خدمات انجام دیں۔ امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں آپ کا کردار بہت نمایاں رہا۔ امیر المؤمنین علی رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کو مدینہ منورہ کا والی (گورنر) مقرر فرمایا۔ بعد ازاں آپ کو کوفہ اور بصرہ کی ولایت پر بھی بھیجا گیا، اگرچہ سیاسی حالات کی وجہ سے آپ مکمل طور پر ذمہ داریاں نہیں سنبھال سکے، مگر آپ کی وفاداری اور امانت داری پر امیر المؤمنین کو مکمل اعتماد تھا۔ پھر آپ کو ایران کے علاقے فارس کا والی مقرر کیا گیا۔ آپ اپنی پارسائی، تقویٰ، اور سادگی کی وجہ سے معروف تھے۔

میراث اور وصال

سہل بن حنیف رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں، سن 38 ہجری میں کوفہ میں ہوئی۔ آپ کی وفات پر امیر المؤمنین علی رضی اللہ تعالی عنہ نے گہرے دکھ کا اظہار فرمایا اور آپ کے جنازہ کی نماز خود پڑھائی۔ آپ نے فرمایا: "اگر پہاڑ مجھ سے محبت کرتے تو وہ مجھ سے محبت کرتے جس سے یہ (سہل) محبت کرتا تھا۔” امیر المؤمنین علی رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کی تقویٰ، اخلاص اور وفاداری کی بھرپور تعریف فرمائی۔

آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک عظیم میراث چھوڑی۔ آپ اخلاص، شجاعت، تقویٰ اور امانت داری کا بہترین نمونہ تھے۔ آپ ان صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسلامی ریاست کی تعمیر و ترقی میں فعال کردار ادا کیا۔ آپ کی سیرت طیبہ آج بھی مسلمانوں کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔

مستند حوالہ جات

  • صحيح البخاري، کتاب الطب، باب العين حق
  • صحيح مسلم، کتاب السلام، باب الطب والمرض والرقی
  • السيرة النبوية لابن هشام
  • تاريخ الأمم والملوك للطبري
  • البداية والنهاية لابن كثير
  • الإصابة في تمييز الصحابة لابن حجر العسقلاني
  • أسد الغابة في معرفة الصحابة لابن الأثير